بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / بودے باریاں!

بودے باریاں!


صوبائی دارالحکومت پشاور کا یوں تو ہر مسئلہ اَپنی شدت کے لحاظ سے بحرانی صورت اختیار کر چکا ہے جن کا عملی حل ممکن بنانے کے لئے شہری و دیہی علاقوں کا الگ الگ اکائیوں کے طور پر مطالعہ کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر فصیل شہر کے اندرونی رہائشی و تجارتی علاقوں کے مسائل سرکلر روڈ سے متصل علاقوں سے مختلف جبکہ سرکلر روڈکی پٹی سے متصل رنگ روڈ کے پار تیزی سے پھیلتے نئے پشاور کی ضروریات اور منصوبہ بندی کے فقدان سے پیدا ہونے والی صورتحال دیگر زاویوں سے غور و خوض کی متقاضی ہے۔ لب لباب یہ ہے کہ پشاور شناسی عام ہونی چاہئے لیکن ایک ایسے موقع پر جبکہ عام انتخابات قبل ازوقت یا مقررہ مدت پر بھی ایک سال سے کم فاصلے پر ہیں‘ دیکھنا ہوگا کہ پشاور کے بارے میں فکروعمل کی دعوت دینے والے اور اس تاریخی شہر کے حقوق کی یادآوری کے درپردہ کہیں سیاسی عوامل تو کارفرما نہیں؟ کہیں پھر سے ہاتھ نہ ہو جائے۔ پشاور‘ پشاور کی گردان کرنے والے عام انتخابات لوٹنے کے لئے ذرائع ابلاغ کے ذریعے نسلی لسانی اور گروہی وابستگیوں جیسے ہتھیاروں سے شکار تو نہیں کر رہے؟کہیں ایک مرتبہ پھر پشاور کی تباہی بربادی اور مسائل کی جانب توجہ مرکوز کرکے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش (سازش) تو نہیں ہو رہی؟ اہل پشاور کی یاداشت اب اتنی بھی کمزور نہیں کہ اِنہیں پشاور بچاؤ تحریک‘ پشاور سنوارو تحریک اُور جاگ پشاور جاگ جیسے پُرکشش ناموں سے ’تین پرعزم کوششوں‘ کے نتائج‘ یاد نہ ہوں۔ اِن نام نہاد تحریکیوں سے مالی و سیاسی طور پر مستفید ہونے والے معروف کرداروں کا ماضی و حال بھی اہل پشاور کی نظروں کے سامنے ہوگا لیکن پھر بھی احتیاط شرط ہے! ایک نجی ٹیلی ویژن چینل نے ہندکو زبان کے پروگرام ’بووے باریاں‘ کے تحت گل بہار کالونی کے مسائل اُجاگر کئے۔

اس پروگرام کا دورانیہ 43 منٹ رہا‘ جس میں کل پانچ افراد کی ماہرانہ رائے کی بنیاد پر پروگرام کے اختتامی کلمات کا پہلا جملہ یہ تھا کہ ۔۔۔ ’’گل بہار مختلف فیزوں پر مشتمل ہے جس طرح حیات آباد ہے۔‘‘ یہاں انگریزی زبان کے لفظ فیز کے استعمال سے یہ تاثر منتقل کرنے کی کوشش کی گئی کہ ’گل بہار میں آبادکاری مرحلہ وار انداز میں ہوئی۔‘لیکن کیا گل بہار کو حیات آباد کا مماثل قرار دیا جاسکتا ہے؟ دوسرے جملے میں کہا گیا کہ ’’یونیورسٹی ٹاؤن میں حکومت نے کمرشل سرگرمیوں پر پابندی عائد کی ہے لیکن گل بہار میں ہر قسم کی کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں۔ شاید حکومت کو گل بہار‘ یونیورسٹی ٹاؤن یا حیات آباد کی طرح (اَہم) ٹاؤن نظر نہیں آتا یا پھر گل بہار کا کوئی والی وارث نہیں۔‘‘حقیقت یہ ہے کہ یونیورسٹی ٹاؤن میں کمرشل سرگرمیوں کا نوٹس لینا صوبائی حکومت کی کارکردگی نہیں بلکہ یہ عدالتی حکم نامے کے تحت ہوا اور باوجود عدالتی حکم نامے کے بھی یونیورسٹی ٹاؤن سے تاحال100فیصد کمرشل سرگرمیاں ختم نہیں کی جاسکی ہیں! یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ پشاور کے قبرستان اور تجاوزات کے بارے عدالتی حکم تو موجود ہے لیکن برسرزمین حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ قبرستانوں کا رقبہ کم ہو رہا ہے۔ گل بہار کے ایک حصے پر بھی قبرستان ہوا کرتا تھا‘ جسے موضوع نہیں بنایا گیا کیوں؟ جہاں تک پشاور کے کسی ’والی وارث‘ کے ہونے یا نہ ہونے کا سوال ہے تو اِس کا جواب بھی مل سکتا تھا اگر ذرا سی محنت کی جاتی اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ون‘ پی کے ٹو اور ضلعی حکومت کے گل بہار سے منتخب ماضی و حال کے نمائندوں کے سامنے یہی سوال رکھا جاتا۔

ٹیلی ویژن کے لئے نشریاتی مواد ’صوتی اور بصری کا مجموعہ ہوتا ہے‘ جسے تین مراحل میں ترتیب دیا جاتا ہے۔ کسی پروگرام کے بنیادی تصور بذریعہ فلم پیغام کی منتقلی کیلئے حقائق پر مبنی مؤثر تحریر اَلفاظ کے مطابق عکس بندی کیلئے منصوبہ بندی اور پروگرام کو مرتب کرنے کے مراحل اوّل‘ اُوسط و حتمی (پری پروکشن‘ پروڈکشن اُور پوسٹ پروڈکشن) کے ہر ایک مرحلے پر ’تحقیق کا عمل دخل ہوتا ہے۔ صحافت میں بالعموم اُور ٹیلی ویژن کی صحافت میں بالخصوص ’حقائق درست‘ رکھنے والے اِداروں کو سنجیدگی سے دیکھا‘ سنا اور اُن کے مؤقف سے مستقبل کی راہیں متعین کی جاتی ہیں۔ کوئی نہیں چاہے گا کہ مالی وسائل کا ضیاع بھی ہو اُور اِدارے کو ’خراب ساکھ‘ کی صورت اِس کی بھاری قیمت بھی اَدا کرنا پڑے۔ دانستہ فیصلہ نجی ٹیلی ویژن چینلوں کے فیصلہ سازوں اُور مالکان کو کرنا ہے کہ اُنہیں نادانستگی (لاعلمی اور جہالت) سے خود کو الگ کرتے ہوئے مستعد‘ مستند اوربااعتماد مسند پر فائز ہونا چاہئے تاکہ نہ صرف پاکستان و علاقائی سطح پر بامقصد و پروقار صحافتی اقدار (مثالوں) کا فروغ ہو بلکہ وہ پشاور کے لئے بھی بالخصوص ’اَثاثہ‘ قرار پائیں۔