بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / رہائی کی ڈیل کیسے بنی

رہائی کی ڈیل کیسے بنی

ریمنڈ ڈیوس نے دو حکومتوں کو جس سفارتی بحران میں مبتلا کر دیا تھا اسکا ذکر کرتے ہوئے اس نے اپنی کتاب ’’ دی کنٹریکٹر کے صفحہ 172 پر لکھا ہے ’’عالمی میڈیا پرمیرے مقدمے کے حوالے سے ہر روزلڑی جانیوالی لڑائی نے اس قضیئے کے تمام فریقوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا تھا ہر کوئی اس مسئلے کے کسی ایسے حل کی تلاش میں تھا جو اسے زیادہ سے زیادہ فائدہ دے سکتا ہومیں شطرنج کی بساط پر ایک ایسے کھیل کا پیادہ تھا جو میری حیثیت سے بہت بڑی تھی آئی ایس آئی اس کھیل میں ایسی طاقت حاصل کرنا چاہتی تھی جسے وہ امریکہ کیساتھ دیگر معاملات طے کرنے میں اپنے فائدے کیلئے استعمال کرسکے پاکستان کی سڑکوں پر احتجاج کرنیوالی مذہبی جماعتیں اپنا قدوقامت بڑھانے کے علاوہ امریکہ مخالف جذبات کو بھی ابھار رہی تھیں زرداری حکومت کیلئے میں ایک درد سر بنا ہوا تھا وہ اگر مجھے رہا کرتی تو اسے عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑتااسکے برعکس اگر وہ میری رہائی کی مخالفت کرتی تو اسے امریکہ کی ناراضگی مول لینا پڑتی اسی طرح امریکی حکومت کیلئے بھی میری رہائی اسکی خارجہ پالیسی کا ایک چیلنج بن چکا تھا اسمیں ناکامی اسکی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی تھی اس مقدمے کا خاتمہ اور میری جلد از جلد رہائی اس لئے بھی ضروری تھی کہ امریکہ ان دنوں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے گھر پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھامیرے مقدمے میں اتنے دھڑوں کے مفادات داؤ پر لگے ہوئے تھے کہ ان میں سے ہر ایک کو پسند آ جانے والی ڈیل بنانا تقریباً ناممکن ہو چکا تھااس ہنگامے میں اکلوتی مثبت بات یہ تھی کہ دونوں حکومتیں اس بات پر متفق تھیں کہ ڈیل ایسی ہونی چاہئے جس میں مجھے رہائی بھی مل جائے اور پاکستانی حکومت احکامات لیتی ہوئی اور امریکی حکومت احکامات دیتی ہوئی نظر نہ آئے‘‘۔

اس بیان کو جاری رکھتے ہوئے اگلے باب میں ریمنڈ نے لکھا ہے کہ 16 مارچ کے دن اسے سیشن کورٹ میں پیش ہونا تھا اس دن کا آغاز اسلئے اچھا تھا کہ اسے صبح سات بجے سٹار بکس کافی کے دو کپ پینے کی اجازت مل گئی اس نے لکھا ہے ’’ یہ دن مجھے اسلئے بھی خوشگوار لگ رہا تھا کہ گارڈ نے مجھے فرینچ ونیلا کریم کے دو بڑے پیکٹ بھی دےئےI took a sip and said it is going to be a good day ‘‘ یعنی میں نے ایک چسکی لی اور کہا کہ یہ ایک اچھا دن ہو گااس دن کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے ریمنڈ لکھتا ہے’’اس روز وزارت انصاف نے کمرۂ عدالت کوٹ لکھپت جیل کے اندرلگانے کا فیصلہ کیا تھا مجھے صبح آٹھ بجے تک تیا ر ہونے کا کہا گیا تھا مگر گارڈ جب مجھے ہتھکڑی لگا کر عدالت لیجانے لگا تو اس وقت ساڑھے گیارہ بج رہے تھے مجھے کمرۂ عدالت میں لوہے کا ایک پنجرہ دیکھ کر بہت صدمہ ہوا مجھے جب اس میں بند کر دیا گیا تو میں نے کارمیلا کو اشارے سے بلا کر سخت برہمی کا اظہار کیا اس نے ذمہ دار افراد سے بات چیت کی مگر اسکا نتیجہ صرف اتنا نکلا کہ پنجرے کے اندر بیٹھے ہوئے گارڈ کو باہربھیج دیا گیا اس دن مجھے عدالت میں وکیل استغاثہ اسد منظور بٹ کو نہ دیکھ کر سخت حیرانگی ہوئی مجھے اس شخص سے سخت نفرت تھی وہ جوش و خروش کے ساتھ میرے خلاف عدالت میں طویل تقریریں کرتا تھا اس نے کئی مرتبہ مجھے Vicious dog کہا تھا یہ کتنی عجیب بات تھی کہ اتنے اہم دن ڈرامے کا مرکزی کردار موجود نہ تھااسکی جگہ راجہ ارشاد کھڑے تھے راجہ صاحب سابقہ ڈپٹی اٹارنی جنرل رہنے کے علاوہ چھ سال تک سپریم کورٹ کے وکیل بھی رہ چکے تھے۔

راجہ ارشاد کی تعریف و توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے ریمنڈ ڈیوس نے صفحہ 180 پر لکھا ہے کہ ہر کوئی اسکے ساتھ نہایت عزت و احترام سے پیش آ رہا تھا اور وہ ایک نہایت بااثر اور طاقتور شخص کی طرح بڑے سٹائل سے مقدمے کی کاروائی کو آگے بڑھا رہا تھا اس نے دیکھتے ہی دیکھتے کامیابی حاصل کر لی اور جج نے مجھے دہرے قتل کا مجرم قرار دیدیا I had been officially charged with murder یہ الفاظ سنتے ہی کمرے کے اندر بیٹھے ہوئے رپورٹر باہر نکلنے میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کرنے لگے ایسے لگ رہا تھا جیسے انکے ہاتھ کوئی خزانہ آگیا ہو انھیں میری طرح یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فیصلہ اس دن کی طے شدہ کاروائی کا آغاز تھااسکے بعد جج نے غیر ضروری لوگوں کو کمرے سے نکل جانے کا کہا کارمیلا پنجرے کے قریب ہی کھڑی ہوئی تھی کمرے میں قونصلیٹ اور جیل کے افسروں کے علاوہ میرے وکلاء کی بات چیت کا شور سنائی دے رہا تھا اتنے میں ایک بارعب شخص کمرے میں داخل ہوا اسے دیکھتے ہی سب خاموش ہو گئے ‘‘ ریمنڈ ڈیوس نے لکھا ہے کہ ’’ پاکستان کے تھانوں‘ عدالتوں اور جیلوں کا سامنا کرتے ہوئے مجھے پورے انچاس دن ہو گئے تھے میں جانتا تھا کہ جب کبھی بھی کسی سرکاری دفتر میں کوئی ایسا شخص آئے جس کے داخل ہوتے ہی سناٹا چھا جائے۔

سگرٹیں بجھ جائیں‘ سیل فون بند ہو جائیں اور سب ہمہ تن گوش ہو جائیں تو یہ شخص سینئر ترین افسر کے علاوہ دوسرا کوئی بھی نہیں ہو سکتا یہ لوگ اس ملک میں ناممکن کو ممکن بنانے کا گر جانتے ہیں اسوقت کمرے میں صرف چھت کے پنکھے کی آواز آرہی تھی۔ کارمیلا نے سرگوشی کی کہ He is a fixer جسکا مطلب اس نے یہ بتایا کہ یہ سب کچھ ٹھیک کر دیگااتنے میں میرے وکیلوں کی ٹیم سے بات کرنے کے بعد میرا دوست پال بھاگتے ہوئے میرے پاس آیا اور اس نے کہا Change of Plans یعنی منصوبہ بدل گیا ہے تمہارے مقدمے کو شریعت کورٹ میں بھیج دیا گیا ہے یہ سنتے ہی میرا دل بیٹھ گیااور میری آنکھوں میں کوڑے کھانے‘ سنگسار ہونے‘ ہاتھوں کے کاٹے جانے اور بر سر بازار پھانسی ہونے کے مناظر گھومنے لگے مجھے معلوم تھا کہ ان عدالتوں میں An eye for an eye (آنکھ کے بدلے آنکھ) کا قانون چلتا ہے میں نے گھبراہٹ میں پال سے کہاWhat the hell man ? Are you serious? ان حالات میں پال مجھے تسلی نہ دے سکتا تھا یہ کام صرف کارمیلا کر سکتی تھی کیونکہ مجھے اس پر بے حد اعتماد تھا اس نے میری آنکھوں سے چھلکتے ہوئے خوف کو دیکھتے ہوئے کہا کہ تم آنکھ کے بدلے آنکھ کی جو بات کر رہے ہو اسے قصاص کہا جاتا ہے اسکے علاوہ دیت بھی ہوتی ہے جسکی روح سے مقتول کے ورثاء معاوضہ لیکر مجرم کی جان بخشی کر دیتے ہیںAnd that is what is going to happen here یعنی یہاں اب یہ ہونے جا رہا ہے ( یہ سب کچھ کیسے ہوا یہ تفصیل اس سلسلے کے آخری کالم میں ملاحظہ فرمائیے)