بریکنگ نیوز
Home / کالم / عدم برداشت

عدم برداشت

یہ ہمارے ملک میں سیاست اورسیاستدان عدم برداشت کا شکار کیوں ہو گئے ہیں ؟ بعض امور بلاشبہ توجہ طلب ہیں سیاستدانوں کا بچگانہ رویہ اور ان میں بڑھتے ہوئے غصے اور تشدد کی کیفیت کا رجحان یقیناًباعث تشویش ہے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لال پیلے ہو رہے ہیں ایک دوسرے کیخلاف ہر وقت غصے سے بھرے بیٹھے ہوتے ہیں ایک دوسرے کیخلاف انٹرنیٹ پر انہوں نے دشنام طرازیوں کا انبار لگا رکھا ہے لگتا یوں ہے کہ ملکی سیاست میں شائستگی کی جگہ بدتمیزی نے گھر بسا لیا ہے اور تواور کابینہ کے وزرا نے ایک دوسرے سے بول چال چھوڑ رکھی ہے اس ملک میں اسمبلیوں کے اندر خواتین اراکین کیخلاف مرد اراکین نازیبا جملے استعمال کرتے پائے گئے ہیں یہ بھی درست ہے کہ دنیا میں کئی دیگر ممالک میں بھی سیاستدانوں نے صبر اور برداشت کا دامن چھوڑ دیا ہے کوئی بھی سیاستدان کسی دوسرے سیاستدان کی دلیل سننے کیلئے تیار نہیں اس روش پر تو جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے کیونکہ جمہوریت سے تواگر برداشت کا عنصر نکال دیا جائے تو باقی پھر کیا رہ جاتا ہے بجز طوائف الملوکی کے ؟ افسوس یہ ہے کہ برطانیہ جسے کہ پارلیمانی جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے آج کل وہاں بھی سیاستدانوں میں وہ قوت برداشت نظر نہیں آ رہی جو ان کے ماضی کے عظیم سیاستدانوں میں نظر آتی تھی امریکہ کا بھی یہی حال ہے وہاں ڈونلڈٹرمپ کابرسر اقتدار آجانا کسی المیہ سے کم نہیں یہی حال ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کا بھی ہے۔

نریندر مودی سے انتشار کے بجائے اور کس شے کی توقع کی جا سکتی ہے ایک اور دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ اس ملک کا میڈیا بھی اب صاف ستھری‘ غیر جانبدار اور اجلی سیاست کی کسوٹی پرپورا نہیں اتررہا میڈیا کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے قارئین ناظرین اور سامعین کو تصویر کے دونوں رخ دکھلائے اور خود کسی بھی معاملے میں فریق نہ بنے آج ایک کم ذہانت رکھنے والا قاری ناظر یا سامع فوراً سے پیشتر کسی خبر یا کوئی ٹاک شو سننے کے ساتھ ہی اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ خبر کا براڈ کاسٹر یا ٹاک شو کا اینکر کتنے پانی میں ہے وہ کس سیاسی گروپ کی حمایت کر رہا ہے اور کس کی تضحیک‘ آخر پاکستان کی سیاست اتنی ناخوشگوار کیوں ہو گئی ہے ؟ اس کی کئی وجوہات ہیں چند چیدہ وجوہ پر بات کر لیتے ہیں ماضی میں اس ملک کے سیاستدان سب کچھ ہوں گے لیکن انہوں نے سیاست کو تجارت نہیں بنایا تھا اور اس کے ذریعے کھربوں روپے کے اثاثے نہیں بنائے تھے کہ جیسا 1980ء کے بعد آنیوالے سیاستدانوں کا وطیرہ رہا ہے ملک میں آج کل آبادی کے لحاظ سے جواں سال لوگوں کی تعداد زیادہ ہے اور ان میں بے روزگاری عام ہے۔

اگر ملازمتیں میرٹ پر دی گئی ہوتیں یا دی جارہی ہوتیں تو شاید عام لوگوں میں اتنی بے چینی نہ پھیلتی جتنی کہ ان میں اس لئے پھیلی کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ارباب اقتدار یاتو نوکریاں بیچ رہے ہیں اور یاپھر اپنے منظور نظر افراد کو ان پر تعینات کررہے ہیں کم سے کم تنخواہ جو اس ملک میں محنت کش کو دی جا رہی ہے اس سے وہ بمشکل چند دن کاٹ سکتا ہے یہ ملک 70 برس کا ہو گیا ہے اس میں سے آدھے سے زیادہ عرصے تک وطن عزیز پر سیاسی لوگ برسر اقتدار رہے اگر یہ لوگ صدق دل سے چاہتے تو اس ملک کے عام آدمی کی زندگی سدھارنے کیلئے بہت کچھ کر سکتے تھے نہ انہوں نے صحیح معنوں میں ملک میں زرعی اصلاحات کیں نہ یہ لوگ ملک کی معیشت کو دستاویزی بنا سکے جب تک آپ یہ بنیادی کام نہیں کرتے تو آپ کو پتہ ہی نہیں چل سکتا کہ کون کتنا کما رہا ہے۔