بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / چترالی عوام کے خوابوں کی تعبیر

چترالی عوام کے خوابوں کی تعبیر

وزیراعظم میاں نوازشریف نے اربوں روپے سے تعمیرکی جانیوالی لواری ٹنل کاباضابطہ طور پر افتتاح کیا اطلاعات کے مطابق ابھی اس طویل سرنگ کی تزئین وآرائش کاکام جاری ہے نہ صرف چترالی عوام بلکہ ملک بھرسے تعلق رکھنے والے لوگ اس سرنگ کی تکمیل پر خوش ہیں اس سے قبل کہ اس سرنگ کی تعمیرکیلئے کی جانیوالی کاوشوں اور خدمات کاذکرکیاجائے مختصرالفاظ میں اسکاذکربھی ضروری ہے کہ اس سرنگ کی کتنی ضرورت تھی چند برس قبل جب مرحوم زین العابدین صاحب بقید حیات تھے توانکے رشتہ داروں میں شادی کی ایک تقریب میں چترال کے معزز ترین ماہرتعلیم پروفیسر اسرار الدین صاحب سے بات چیت کا موقع ملاپروفیسر صاحب نے یاد دلایا کہ سردی کے موسم میں ان کو بغرض امتحان پشاور جانیکاموقع ملا تھا آمدو رفت کا کوئی دوسراذریعہ نہیں تھالواری ٹاپ شدیدبرف اورخراب موسم کی وجہ سے گاڑیوں کے آمدورفت کیلئے بند تھا لہٰذا انہیں پیدل جاناتھالواری کی برف پوش چوٹی سے گزرنے کے بارے میں پروفیسر صاحب نے جورودادسنائی وہ کسی طور بھی خطرے سے کم نہ تھی اسی طرح زمانہ طالبعلمی میں جہانزیب کالج سیدو شریف میں محمدعلی اورفریداحمددوایسے دوست تھے جنکاتعلق چترال ہی سے تھا دونوں سردیوں کی چھٹیوں میں چترال میں والدین یا دوسرے رشتہ داروں سے ملنے کی بجائے ہاسٹل میں رکنے پر مجبورتھے جسکی بنیادی وجہ لواری ٹنل نہ ہونااور شدید برف باری تھی۔ اس برف باری کی وجہ سے چترال کے لوگ نہ صرف ملک کے دیگر علاقوں سے کٹے رہتے تھے بلکہ اسکی وجہ سے چترال کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین علاقوں اور اس کے لوگوں کا شمارغریب ترین افراد میں ہوتا تھا۔

1970 کے انتخابات اور 1971کے تاریخی سانحے کے بعد جب ذوالفقارعلی بھٹو برسراقتدار آئے تو اتالیق ظفرعلی شاہ چترال سے ممبرقومی اسمبلی تھے ذوالفقار علی بھٹو کے دورحکومت میں لواری ٹنل کے منصوبے کو جس اندازمیں اتالیق ظفرعلی شاہ نے اٹھایاتھااسکی نظیرنہیں اوریہ اتالیق ظفرعلی شاہ ہی تھے جن کے ذریعے ذوالفقارعلی بھٹو نے نہ صرف اس منصوبے کاباقاعدہ افتتاح کیابلکہ اس منصوبے پرکام بھی شروع کیا تھا تاہم 5 جولائی 1977ء کومارشل لاء کے نفاذکے بعد ضیاء الحق نے اس منصوبے کو بھٹوخاندان کامنصوبہ قراردیکر نظرانداز کردیا1988کے عام انتخابات میں مرحوم نصرت بھٹوکوچترالی عوام نے اس منصوبے کے جواب میں بھاری اکثریت سے رکن قومی اسمبلی منتخب کیا تھاتاہم بعدمیں جب انہوں نے اس نشست کو خالی چھوڑدیاتوپیپلزپارٹی کے سید عبد الغفورشاہ کو ضمنی انتخابات میں کامیابی دلوائی اور انکی کاوشوں سے بے نظیربھٹوکی حکومت نے لواری ٹنل منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرنے کافیصلہ کیا مگر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بجٹ فراہم نہ ہو سکا حتیٰ کہ اس دوران محترمہ بے نظیربھٹوکی حکومت نے لواری ٹنل کی تعمیرپر دوبارہ کام شروع کرنے کیلئے سویڈن کی حکومت سے باقاعدہ معاہدہ کیا تھا۔

اسی طرح 1990سے لیکر2001تک اس منصوبے پردوبارہ کام باوجودمطالبات کے شروع نہ ہوسکا اس سلسلے میں سابق ممبرقومی اسمبلی مولانا عبد الرحیم چترالی ‘سابق ممبران صوبائی اسمبلی مرحوم زین العابدین‘ مرحوم مولانامحمدولی کے علاوہ میر احمدبلبل مرحوم‘ صحافی مولانامحمدافضل اوردیگرنے بھی کافی کاوشیں کی تھیں اس طرح موجودہ دور میں شہزادہ محی الدین سابق چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل خورشید علی خان‘ مولانا عبدالاکبر چترالی ‘ ضلع ناظم مغفرت شاہ‘ رکن صوبائی اسمبلی محمد سلیم خان‘ چترال کے تجارتی وسماجی حلقے کے رہنما صادق امین اورکئی ایک کی کاوشیں خراج تحسین کے قابل ہیں کوئی مانے یانہ مانے مگرشعبہ صحافت میں چترال ہی سے تعلق رکھنے والوں نے ہراول دستے کاکرداراداکیاہے اس مقصدکیلئے چترال جرنلسٹ فورم کاقیام عمل میں لایا گیا جسکے سرکردہ اراکین میں سیدذوالفقارعلی شاہ‘ صابر امان ‘ نادر خواجہ ‘شریف شکیب اوردیگرنے ہر فورم پر اس مسئلے کواٹھایا 2002 کے انتخابات سے قبل سابق گورنرجنرل(ر)سیدافتخارحسین شاہ نے چند صحافیوں کے اعزازمیں ایک خصوصی ظہرانے کا اہتمام کیاتھااس ظہرانے میں مرحوم سہیل قلندر‘ فریداللہ‘گوہرعلی‘جمشیدباغوان اور عبدالرحمن بھی شریک تھے مختلف معاملات پرغیررسمی گفتگوکے دوران افتخارحسین شاہ نے سیدذوالفقار علی شاہ سے انکی خاموشی کی وجہ پوچھی توذوالفقارنے کہاکہ جناب ہمیں اورکچھ نہیں چاہئے بس لواری ٹنل کا منصوبہ چاہئے اس بابت سابق صدر پرویز مشرف اور موجودہ وزیراعظم نوازشریف سب سے زیادہ خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنے ادوارحکومت میں اس منصوبے پربھرپور توجہ دی لواری ٹنل کی تعمیرکی تکمیل پرایک بہت بڑاجشن ہوناچاہئے جس میں نہ صرف چترال کے عوام کواس پر خوشی کے اظہارکیساتھ ساتھ ان تمام لوگوں کویادکرناچاہئے جنہوں نے کسی نہ کسی طریقے سے اس سرنگ کی تعمیر میں کرداراداکیا۔