بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاستدانوں کا لہجہ

سیاستدانوں کا لہجہ


پانامہ کے ہنگامے میں اور کچھ ہوا یا نہیں ہماری نئی نسل کے لئے زبان کے ذخیرہ الفاظ میں کچھ مزید الفاظ کا اضافہ ہوا ہے ہم اپنے سیاست دانوں کو قوم کے رہنما سمجھتے ہیں جو بھی راستہ یہ دکھائیں گے وہی قوم اپنائے گی‘خصوصاً وہ سیاستدان جو اپنے آپ کو نئی نسل کا نمائندہ بتاتے ہیں انکی طرف سے جو ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہو رہا ہے اسکی تعریف کیلئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ہم یہ سمجھتے تھے کہ ایسی زبان کا استعمال صرف بس یا ٹرک ڈرائیوروں کے ہاں رائج ہے مگر اب یہ ہمارے سیاسی لیڈروں کی عام فہم زبان بن چکی ہے اور سیاسی لیڈروں کے پیروکار بھی اسی زبان کو بازاروں اور عوامی اکٹھ کی جگہوں پر بے دریغ استعمال کر رہے ہیں ادھر سپریم کورٹ کی سماعت کا آغاز ہونے جارہا ہوتا ہے کہ ہمارے لیڈران سپریم کورٹ کے باہر اپنی اپنی دکان چمکانے لگتے ہیں اور اس دوران وہ مخالفین کیلئے ایسی زبان استعمال کرتے ہیں کہ جو بس اڈوں پر بھی احتیاط سے استعمال ہوتی ہے۔ مخالفین کیلئے بے دریغ کرپٹ ‘چور‘ ڈاکو اور ڈاکوؤں کی اولاد وغیرہ کے خطابات عام ہو چکے ہیں جسکا رواج اب فیس بک اور ٹویٹر اوردیگر عوامی میڈیا پر عام ہونے لگا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک نسل کو تباہ کرنے کا پروگرام دکھائی دیتا ہے جو نسل ہمارے سیاسی قائدین اپنے اس طرز عمل سے تیار کر رہے ہیں۔

اس سے ہم ملک کی ترقی کے کام کرنے کی کیا امید کر سکتے ہیں ہم جن کا اولین فریضہ ایک ایسی کھیپ تیار کرنا ہے کہ جو پاکستان کو ترقی کی راہوں پر گامزن کر سکے اور پاکستان کو دنیا کی صفوں میں ایسے مقام پر کھڑا کر سکے کہ جہاں وہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے جہاں اس کو اچھی نظر سے دیکھا جائے جہاں اسکی آواز کو وقعت دی جائے جہاں وہ عالمی برادری میں فخر سے سر اٹھا کر جی سکے جہاں اسکے پاسپورٹ کو ایسی نظروں سے نہ دیکھا جائے کہ جہاں اس کے حامل کو چور ہی سمجھا جائے جہاں اسکے پاسپورٹ کے حامل کی قدر کی جائے جہاں اس کے باسیوں کو عزت دی جائے جہاں اسکے سانئس دان اپنے کاموں کا لوہا منوا سکیں جہاں اس کی زبان کو ایک اعلیٰ درجہ کی سلجھی ہوئی زبان سمجھا جائے مگر ہو توبالکل مختلف ہو رہا ہے۔ہم ایک دوسرے کو یہاں کاٹ کھانے کو دوڑ رہے ہیں اور ایسی زبان اور محاورات کا استعمال کیا جا رہا ہے کہ جو اپنی ماؤ ں بہنوں کے سامنے کوئی شریف آدمی بول بھی نہیں سکتا ہمارے لیڈر ایسے جلسوں میں‘ کہ جہاں عورتوں کے ہجوم کو لازم سمجھا جاتا ہے اس لئے کہ یہ آزادی پسندوں کے جلسے ہوتے ہیں وہ زبان استعمال کرتے ہیں کہ جو ہم مسلمان اپنے گھروں کی چار دیواری کے اندر بھی استعمال کرنا معیوب سمجھتے ہیں۔ایسے جلسوں میں ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہے جہاں ہمارے لیڈر اپنے نوجوانوں کو سکھاتے ہیں کہ آپ اپنے ملک کے وزیر اعظم کو جتناچاہیں گالیاں دیںیہ آپ کا حق ہے یہ حق وہ نوجوان بر ملا استعمال کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

ہمارے ٹیلی وژن چینلوں نے کچھ پروگرام ایسے متعارف کروائے ہوئے ہیں کہ جن میں سیاسی نوجوانوں اور منجھے ہوئے سیاست دانوں کو بلایا جاتاہے اور پروگراموں کے اینکر حضرا ت کی کوشش ہوتی ہے کہ پروگرام میں شریک حضرات کوایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا کر دیں ہمارے ہاں کے روز مرہ میں اس کو کتے پر کتا پھینکنا کہا جاتا ہے اور جب اینکر حضرات یہ عمل کرتے ہیں تو شرکاء اپنی زبان کے سارے ذخیرہ الفاظ کو ایک دوسرے کی تعریف میں بے دریغ استعمال کرتے ہیں ہم نہیں سمجھتے کہ پروگرام کے ختم ہونے کے بعد بھی یہ شرکا ء ایک دوسرے کی گریبانوں میں ہاتھ ڈالتے ہیں یا نہیں مگر دوران گفتگو وہ اپنی نئی نوجوان نسل کو کافی ذخیرہ الفاظ دیکرجاتے ہیں کہ جس کو وہ اپنے حریفوں اور خصوصاً حکومت میں شامل لیڈروں کے حق میں پوری ڈھٹائی کیساتھ استعمال کریں اور ایسا ہی ہو رہا ہے ہمارے کئی ایک نوجوان سیاسی لیڈر جو بدقسمتی سے ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی بھی ہیں وہ ان الفاظ کو منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے استعمال کرتے ہیں لگتا ہے کہ پارٹی لیڈر ایسے مباحثوں کے شرکاء کے لئے خصوصی انعام رکھتے ہوں گے یا سیاسی جماعتوں کے لیڈران ان لوگوں کے لئے اپنے دل میں ایک خصوصی گوشہ رکھتے ہونگے اس لئے کہ تقریباً ہرٹی وی چینل ایسے لوگوں کو اپنے پروگراموں میں ضرور شریک کرتا ہے۔ہم حیران ہیں کہ جب اس نسل کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور آئے گی تو اس کا کیا حال ہو گا۔