بریکنگ نیوز
Home / کالم / امریکہ بھارت: تعلقات کی تہہ داریاں

امریکہ بھارت: تعلقات کی تہہ داریاں

امریکہ کی جانب سے پاکستان پر طالبان سے منسلک حقانی نیٹ ورک کیخلاف کاروائی نہ کرنے کے الزام کے بعد وزارت دفاع نے پاک فوج کو پانچ کروڑ ڈالر کی ادائیگی روک لی ہے۔ سیکرٹری دفاع جم میٹس نے کانگریس کی دفاعی کمیٹیوں کو بتایا کہ پاکستان‘ مالی سال دوہزار سولہ کیلئے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں اس ادائیگی کیلئے حقانی نیٹ ورک کیخلاف خاطر خواہ اقدامات اٹھائے۔‘‘ امریکہ نے خصوصی فنڈ کے ذریعے پاکستان کی فوجی امداد کیلئے نوے کروڑ ڈالر مختص کئے تھے اس فنڈ میں سے پچپن کروڑ ڈالر پاکستان کو مل چکے ہیں لیکن نئے فیصلے کے بعد پاکستان کو پانچ کروڑ ڈالر کی ادائیگی روک دی گئی ہے جبکہ کانگریس پہلے ہی پاکستان کی فوجی امداد میں تیس کروڑ ڈالر کی کمی کر چکی ہے امریکہ کی جانب سے پاکستان کیخلاف اس انتہاء کی ایسی پہلی کاروائی نہیں بلکہ بھارت کیساتھ اسکی قربت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ پاکستان کوڈو مور جیسے مطالبے کے ذریعے مسلسل دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک عرصے سے جاری ہے لیکن حالیہ چند ماہ کے دوران اس میں تیزی کے اسباب میں بھارت و امریکہ کی قربت بھی ہے جبکہ بھارت پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کا فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کر رہا ہے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال مسلسل فائرنگ کی مذمت کرتے پاکستان کی جانب سے بھارت کے رویئے کو خطے کے امن کیلئے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کی سا لمیت کیخلاف بھارتی عزائم تو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں کیونکہ وہ تشکیل پاکستان کے وقت سے ہی پاکستان کے درپے اور مسلسل سازشوں میں مصروف ہے1971ء کی جنگ میں مکتی باہنی کی سازش کے تحت پاکستان کو سانحۂ سقوط ڈھاکہ سے بھی دوچار کرنے اور اس کے بعد سے اب تک وہ باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کو بھی تاراج کرنیکی سازشوں میں مصروف ہے اگر پاکستان نے ان بھارتی سازشوں کو بھانپ کر خود کو اس کے مقابل ایٹمی قوت سے سرفراز نہ کیا ہوتا‘ تو بھارت اس ملک خداداد کو ترنوالہ سمجھ کر ہڑپ کرنے کے ناپاک عزائم کب کے پورے کرچکا ہوتا۔کشمیر کے رہنے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مشتمل بھارتی مظالم کیخلاف الگ سے ہر عالمی دروازہ کھٹکھٹاتے اور آواز بلند کرتے ہیں چنانچہ عالمی برادری بھارت کے ہاتھوں اس خطہ اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق ہونیوالے خطرات سے مکمل آگاہ ہے اگر اسکے باوجود عالمی اداروں اور قیادتوں کی جانب سے بھارتی سازشوں کا نوٹس نہیں لیا جاتا تو اس سے خطے میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا تاریخ گواہ ہے کہ بھارتی توسیع پسندانہ جنونی عزائم سے صرف پاکستان ہی نہیں چین کی سلامتی بھی سنگین خطرات سے دوچار ہے اور سکم کے تنازعہ میں چین بھارت کے مابین تناؤ اور کشیدگی کی انتہائی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ چین نے بھارتی عزائم کے پیش نظر اپنی افواج کو چوکس کردیا ہے جنکی بھارتی سرحد کے قریب مشقیں بھی شروع ہوچکی ہیں اور میڈیا رپورٹس سے یہی محسوس ہورہا ہے کہ چین اور بھارت اس وقت جنگ کے دہانے پر ہیں اسی تناظر میں چین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی پیدا کردہ موجودہ صورتحال ایک بڑا بکھیڑا کھڑا کر سکتی ہے اور اگر بھارت محتاط نہ رہا تو دونوں ممالک کے درمیان جنگ ناگزیر دکھائی دے رہی ہے۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی ریاستی اسمبلی میں اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ بھارت کیلئے چین کی جانب سے مسلسل خطرہ بڑھتا جارہا ہے تاہم اس احساس کے باوجود بھارت کے رویئے میں تبدیلی نہیں آئی‘ جس نے کنٹرول لائن پر پاکستانی چوکیوں اور ملحقہ شہری آبادیوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے بھارتی عزائم کا نوٹس لیتے ہوئے اقوام عالم کو باور کرایا جارہا ہے کہ بھارتی رویہ خطے کیلئے امن کے لئے خطرہ ہے تو عالمی قیادتوں اور عالمی اداروں کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے اگر بھارتی جنونیت کے باعث کل کو علاقائی اور عالمی تباہی کی نوبت آتی ہے تو اس پر شاید پچھتانے والا بھی کوئی اس روئے زمین پر موجود نہیں ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ ایسے حالات کی نوبت ہی نہ آنے دی جائے۔ بھارت اپنے جارحانہ‘ توسیع پسندانہ عزائم میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا اسے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو تہس نہس کرنے کا لائسنس تو بہرصورت نہیں دیا جا سکتا۔ اَمریکہ اور بھارت کے درمیان قربت و تعلقات کا سلسلہ جس انتہاء تک پہنچ چکا ہے اس سے پاکستان متاثر اور شکار نہیں ہونا چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عدنان قاضی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)