بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / آئینی وقانونی آپشن

آئینی وقانونی آپشن

وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں پانامہ کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے کسی بھی فیصلے کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیاگیا ہے، عدالت عظمیٰ میں کیس کی سماعت مکمل ہونے اور فیصلہ محفوظ کئے جانے پر وزیراعظم ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں طے پایا کہ کوئی ایسی روایت قائم نہیں ہونی چاہئے کہ جس میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی بے توقیری ہو، اجلاس میں اس حوالے سے قانونی آپشنز استعمال کرنے کافیصلہ کیاگیا، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انہیں عدالت پر پورا اعتماد اور بہتر فیصلے کی توقع ہے‘اجلاس کی جانب سے عدالتی فیصلے کے احترام اور اس پر عمل درآمد کا عندیہ قابل اطمینان ہے، اس سے پہلے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیشی کے معاملے پر بھی کوئی غیر ضروری تاخیرنہیں کی گئی، یہ درست ہے کہ پانامہ لیکس کی رپورٹ کیساتھ ہی وطن عزیز میں جنم لینے والی صورتحال کے نتیجے میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا چلا جارہا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات میں گرماگرمی کا گراف مسلسل اوپر ہی جارہا ہے، عدالت عظمیٰ میں فیصلہ محفوظ ہونے سے ایک روز قبل وزیر اعظم نوازشریف نے لواری ٹنل کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ احتساب نہیں استحصال ہو رہا ہے۔

جے آئی ٹی اور پی ٹی آئی کے احتساب کو پاکستان میں کوئی نہیں مانے گا، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کہتے ہیں کہ سیاسی وپارلیمانی بحران کھڑا کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائیگی، وطن عزیز کو درپیش چیلنج اور عوامی مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت تحمل اور بردباری کیساتھ ہی عدالتی فیصلے کا انتظار کرے، آئین اور قانون کی بالا دستی ہی جمہوری معاشروں کا حسن ہوتی ہے، اس سب کیساتھ ضرورت عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اور مربوط اقدامات کی ہے، ضرورت ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے اور بیرونی قرضوں سے نجات کیلئے ایک موثر پالیسی کی بھی ہے، جس پر قومی قیادت کو توجہ مرکوز کرنا ہوگی تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

جائیداد ریٹ اور ریونیو ریکارڈ

صوبائی محکمہ مال نے پشاور کی جائیدادوں کیلئے نئے ریٹ مقرر کرتے ہوئے کمرشل عمارتوں پر 5فیصد ٹیکس کا اعلامیہ بھی جاری کردیا ہے، محکمہ مال نے شہری علاقوں میں 2اور دیہی میں 4کنال تک کے رقبے کو رہائشی قرار دیا ہے، اس سب کیساتھ نئے ریٹ کی کاپیاں پٹوارخانوں میں آویزاں کرنے کا حکم دیاگیا ہے، حکومت پٹوار خانے میں اصلاحات کو اپنی ترجیحات کا حصہ قرار دیتی ہے تاہم ایک طویل مدت گزر جانے کے باوجود ریونیو ریکارڈکو پوری طرح کمپیوٹرائزڈ نہیں کیاجاسکا، ریٹ لسٹ پٹوار خانے میں آویزاں کرنے کا حکم قابل اطمینان سہی اس کو چیک کرنے کے لئے مکینزم سوالیہ نشان ہی ہے، ہمارے پالیسی سازوں کو یہ بات پلے باندھنا ہوگی کہ حکومتی اصلاحات کسی بھی شعبے میں ہوں، ان کا عوام کے لئے ثمر آور ہونا آن سپاٹ چیک ہی سے ممکن ہے، ہمارے ہاں عام شہری کسی بھی سیکٹر میں شکایات کم ہی درج کراتے ہیں جبکہ بعض شکایات ذاتی رنجش کا نتیجہ ہی ثابت ہوتی ہیں، اس لئے خود ذمہ دار سرکاری اداروں کو اصلاحات کے عملی نتائج مانیٹر کرنے ہونگے، صرف اعلانات اور بیانات پر اکتفا نہیں ہونا چاہئے۔