بریکنگ نیوز
Home / کالم / رحیم اللہ یوسفزیٰ / قبائلی علاقہ جات اور فوجی کاروائیاں

قبائلی علاقہ جات اور فوجی کاروائیاں

پاک فوج نے14 جولائی کے روز خیبرایجنسی میں خیبر فور کے نام سے فوجی کاروائی کا آغاز کیا جو اس خطے میں امن و امان کی بحالی کے لئے طاقت کے بھرپور استعمال کی چوتھی مثال ہے خیبرایجنسی میں فاٹا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ کاروائیاں ہوئی ہیں تاہم باڑہ اور تیراہ تحصیلوں میں ا سکے باوجود بھی ضرورت محسوس کی گئی کہ ایک اور کاروائی کی جائے راجگان جہاں برف سے ڈھکی ’سپین غر‘ نامی پہاڑی سلسلے کی چوٹیاں ہیں اور اس علاقے کو ماضی کی فوجی کاروائیوں میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ مزید فوجی کاروائی کی مخالفت کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ ماضی میں اس قسم کی فوجی کاروائیوں سے ان عسکریت پسندوں کا راستہ روکنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں بالخصوس اسلامک سٹیٹ المعروف داعش کے جنگجو جنہوں نے افغانستان کے مشرقی ننگرہار صوبے میں میں اپنے مراکز بنا رکھے ہیں وادئ تیراہ کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔خیبراِیجنسی میں خیبر کے ’خفیہ اِصطلاحی (کوڈ)‘ نام سے قبل چھوٹے پیمانے پر کئی فوجی کاروائیاں کی گئیں جن میں پہلی باڑہ تحصیل میں ’دراغلم ‘ کے نام سے کئی گئی۔ دراغلم کا مطلب ہے ’’لو میں آیا‘‘ جس کے ذریعے دشمنوں کو پیغام دیا گیا کہ ان کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ سال دوہزارنو میں پہلے آپریشن کے تسلسل میں دوسری فوجی کاروائی ’بیاہ دراغلم‘ (لو پھر سے میں آیا)‘ شروع کی گئی ان دونوں فوجی کاروائیوں کے درمیان باڑہ میں لشکراسلام سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کیخلاف ’صراط مستقیم‘ نامی فوجی کاروائی کی گئی۔ یہ کاروائی پشاور سے چھ خواتین اور کئی عیسائیوں کے اغوا کی دو الگ الگ وارداتوں کے بعد شروع کی گئی۔

لشکر اسلام کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا کہ اس نے یہ دونوں وارداتیں کی ہیں اور اِسی جواز پر فوجی کاروائی کی گئی تاکہ باڑہ میں لشکر اسلام کے عقوبت خانے‘ پناہ گاہیں اور طاقت کے مراکز ختم کئے جا سکیں اس کے بعد ’خواخ بہ دے شم (Khwakh Ba De Sham)‘ شروع کیا گیا۔اس نام کا مطلب یہ تھا کہ ’’تم سے نمٹ لوں گا۔‘‘ یہ کاروائی بھی خیبرایجنسی کی تحصیل باڑہ ہی میں کی گئی جو پشاو رسے متصل ہے اور اس قبائلی علاقے کا استعمال ریاست مخالف عسکریت پسنداور بڑی تعداد میں جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کر رہے تھے۔ خیبرفور کے نام سے نئی فوجی کاروائی ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی جبکہ اس سے قبل کئی سال دو ہزار تین سے فوجی کاروائیوں میں بھرپور طاقت کا استعمال کرنیوالے فوجی حکام نے کامیابی حاصل کرنے کے دعوے کئے۔ قابل ذکر ہے کہ ان فوجی کاروائیوں میں فضائیہ کی مدد بھی لی گئی تاکہ عسکری گروہوں کی نقل و حمل اور رسد کے وسیلوں کو ختم کیا جا سکے۔ یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ فوجی حکام نے ماضی کی طرح آپریشن خیبرفور کے آغاز کے موقع پر بھی اس کے اختتام کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ خیبرفور بڑے پیمانے پر جاری ’ردالفساد‘ کا جز ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے جب تک افغانستان سے متصل متعلقہ علاقہ محفوظ نہیں بنا لیا جاتا۔خیبرفور کا آغاز ’کچکول وادی‘ میں جاری فوجی کاروائی کا اختتام نہیں ہوگا جو کہ راجگال سے قریب ہے۔ فوجی حکام راجگال اور کچکول میں عسکریت پسندوں کے مراکز کو قبائلی علاقوں میں ان کی موجودگی کے آخری ہدف کے طور پر دیکھتے ہیں اور جب تک ان علاقوں سے عسکریت پسندوں کا صفایا نہیں کر دیا جاتا اس وقت تک جملہ اہداف حاصل نہیں ہوں گے۔ جیسا کہ میجر جنرل آصف غفور نے نشاندہی کی کہ راجگال مشکل ترین زمینی و دشوار گزار پہاڑی راستوں پر مشتمل علاقہ ہے۔

یہاں کی برفانی چوٹیاں بارہ سے چودہ ہزار فٹ سطح سمندر سے بلند ہیں اور یہ علاقہ 256 مربع کلومیٹرز پر پھیلا ہوا ہے جن کے درمیان 8 پہاڑی درے ہیں ان علاقوں کو عسکریت پسندوں سے صاف کرنے کے لئے ایک غیرمعمولی بڑی کاروائی کی ضرورت ہے جس کیلئے ایک ڈویژن فوج بھیجی گئی ہے جنہیں توپ خانے اور فضائیہ کی مدد حاصل ہوگی تاہم زمینی فوج کو احتیاط اور سست رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ عسکریت پسند بارودی سرنگیں پھیلائے ہوں گے۔حسب توقع افغانستان پاکستان کی جانب سے تجویز کا منفی ردعمل میں جواب دیا ہے۔ پاک فوج کی جانب سے تجویز دی گئی تھی کہ افغانستان وادئ راجگال سے متصل اپنے علاقوں میں افغان فوجی تعینات کرے تاکہ راجگال سے بھاگ کر افغانستان جانے والے عسکریت پسندوں کو روکا جا سکے کیونکہ ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا اور افغان حکمران حامد کرزئی اور نہ ہی موجودہ صدر اشرف غنی نے پاکستان کے ان علاقوں سے متصل اپنی حدود میں فوج تعینات کی تاکہ قبائلی علاقوں میں فوجی کاروائیوں کے خاطرخواہ نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے اس بات کی درخواست صدر کرزئی سے جون دوہزار چودہ میں بھی کی تھی جب شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے فوجی کاروائی شروع کی گئی تھی۔ یہ الگ معاملہ تھا کہ صدر کرزئی اور افغان حکومت کے کئی وزرا نے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا کہ وہ اپنے ہاں سے عسکریت پسندوں کو افغانستان دھکیل رہا ہے۔ اسی قسم کی صورتحال پھر سے پیدا ہو سکتی ہے جوں جوں ’خیبرفور‘ آپریشن آگے بڑھے گا۔

امر واقعہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کا استعمال کرنے اور پاکستان میں دہشتگرد کاروائیاں کرنے میں ملوث عسکریت پسندوں کا گٹھ جوڑ افغانستان اور بھارت کے خفیہ اداروں کیساتھ ہے افغان حکومت کی پاکستان سے تعاون نہ کرنیکی اپنی وجوہات ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ پاکستان افغانستان کو مطلوب افغان طالبان اور بالخصوص حقانی نیٹ کیخلاف کاروائی کرے۔ پاکستان افغانستان اور امریکہ دہشت گردوں کے خلاف ایک جیسا مؤقف رکھتے ہیں لیکن عسکریت پسندوں کو کچلنے کے لئے ان کے درمیان مربوط ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ قول و فعل کے اس تضاد اور آپسی فاصلوں کی وجہ سے عسکریت پسند دونوں اطراف میں تباہی و بربادی پھیلانے کی صورت فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکی سینیٹر جان مکین (John McCain) سمیت پانچ رکنی اعلیٰ سطحی وفد نے اسلام آباد اور کابل کا دورہ کیا اور اس دوران کوشش کی گئی کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے سے مربوط فوجی کاروائی کے معاہدے پر دستخط کریں لیکن ایسا عملاً شاید ممکن نہیں ہو سکے گا کیونکہ کئی ایسے افغان رہنما ہیں جو صدر اشرف غنی کو ان پالیسیوں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جن کی وجہ سے صرف پاکستان کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ افغانستان میں قیام امن کا گہرا تعلق اس عسکریت پسندی کو کچلنے سے بھی ہے‘ جو پاک افغان دونوں ممالک میں سے کسی کے بھی مفاد میں نہیں اور دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ افغان حکمران دوطرفہ تعاون بالخصوص سرحدی علاقوں پر فوجی دستوں کی تعینات میں تاخیر نہ کریں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)