بریکنگ نیوز
Home / کالم / حکومت اور حماقت

حکومت اور حماقت

افسوس صدا فسوس یہ ملک آخر کب تک حکمرانوں کی خواہشات کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہے گا ؟ ایک صوبے میں ایک ایسے پولیس افسر کو انسپکٹرجنرل لگایا جاتا ہے جو چند ہفتوں میں ریٹائر ہونیوالا ہے اس صوبے کے وزیراعلیٰ سے کون پوچھے کہ اس نے یہ فیصلہ کیوں کیا ؟ امن عامہ کیساتھ اس قسم کامذاق آخر کب تک ؟ امن عامہ خاک ٹھیک ہوگی اگرآپ اس قسم کی ایڈہاک ازم کا مظاہرہ کریں گے! دوسرے صوبے کایہ حال ہے کہ وہاں کے وزیراعلیٰ کی اپنے آئی جی پولیس سے ان بن ہے کیونکہ ثانی الذکر او ل الذکرکے غیر قانونی فیصلوں کو نہیں مان رہا وہ کب کا بدل چکا ہوتا اگر عدالت عالیہ اسکا تبادلہ نہ روکتی آڈیٹر جنرل آف پاکستان ایک نہایت ہی اہم ریاستی ادارے کا سربراہ ہوتا ہے اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ سرکاری محکموں کے اخراجات پر عقابی نظر رکھے اور اگر کوئی سرکاری اہلکار سرکاری خزانے کا غلط استعمال کرے تو اس کیخلاف کاروائی کرے یہ عہدہ عرصہ دراز سے خالی ہے اس اہم اسامی کو خالی رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں کے نزدیک سرکاری فنڈز کے صحیح استعمال کی کوئی اہمیت ہی نہیں ادھر ایس ای سی پی کا سربراہ ظفر حجازی ریکارڈ ٹمپرنگ میں اندر ہو چکا ہے ادھر مشیر خارجہ نے پارلیمنٹ میں یہ مضحکہ خیز بیان دیا ہے کہ سابق آرمی چیف سعودی عرب میں تاحال کسی فوج کی قیادت نہیں کر رہے ان کے بقول وہاں نہ اب تک کوئی فوج بنی ہے اور نہ اس کے کوئی ٹی او آرز وضع کئے گئے ہیں اگر انکی یہ بات سچ ہے تو پھر ہمارے سابق آرمی چیف کئی مہینوں سے سعودی عرب میں کیا کررہے ہیں ؟

جن معاملات کا ہم نے اوپر کی سطور میں ذکر کیاہے اور جو سوالات ہم نے اٹھائے ہیں ان کو طے کرنے کی مناسب جگہ پارلیمنٹ ہوتی ہے لیکن کیا کیا جائے اپنے ہاں پارلیمنٹ کو تو عضو معطل بنا دیا گیا ہے وزیراعظم اس کا رخ تو صرف ان ایام میں کرتے ہیں کہ جب وہ کسی سیاسی گرداب میں پھنس گئے ہوں ورنہ وہ تو اسے دور سے سلام کرتے ہیں کسی منچلے نے کیا خوب بات کہی ہے کہ شروع سے اب تک تو اسلامی ممالک کی کوئی مشترکہ فوج بن نہیں سکی اب کیا و ہ خاک بنے گی؟ بات تو سچ ہے مگربات ہے رسوائی کی! عالم اسلام سیاسی طور پر منقسم ہے شام اور عراق کی دھجیاں اڑ رہی ہیں یمن میں ایران اور سعودی عرب آپس میں مشت و گریباں ہیں ۔

ترکی کی پالیسی بھی دوغلے پن کا شکار ہے ایران کے معاملے میں تو وہ سعودی عرب کا دم بھرتا ہے لیکن جب قطر کی بات ہوتی ہے تو وہ سعودی عرب کی پالیسی سے اختلاف کرتا ہے وسط ایشیا کی ریاستیں گو کہ سوویت یونین سے اب آزاد ہیں لیکن عملاً اب بھی وہاں روس کا زیادہ اثر ہے انڈونیشیا ‘ ملائیشیا اور برونانی کہنے کو تو اسلامی ممالک ہیں لیکن ان میں اتفاق نامی شے کا فقدان ہے ان حالات میں وہ شخص احمقوں کی جنت میں رہتا ہے جو اسلامی اتحاد کی فوج کی تشکیل کی بات کرتا ہے جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم سے یہ تو ہو نہیں رہا کہ ہم اپنا تعلیمی نظام ہی درست کر لیں زرعی اصلاحات کر لیں ملک میں اشیائے خوردنی اور ادویات میں ملاوٹ کا قلع قمع کر دیں ٹریفک کے نظام کو بہتر کر دیں یہ بنیادی چیزیں تو ہم کر نہیں پا رہے اور خواب ہم عسکری اتحاد کی تشکیل کا دیکھ رہے ہیں اپنے حکمرانوں کی سو چ پر خصوصاً اور عالم اسلام کے رہنماؤں کی سوچ پر عموماً ہنسی آتی ہے اگر ان کو خدا نے عقل‘ سیاسی فراست اور دور اندیشی اور اسلامی جذبے سے نوازا ہوتا تو سب سے پہلے یہ اپنے وسائل آپس میں شیئر کرتے عالم اسلام سے غربت بیماری افلاس بھوک اورننگ ختم کرنے کی کوشش کرتے۔