بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نیشنل ایکشن پلان پرکامیابی سے عملدرآمد جاری ہے، نفیس زکریا

نیشنل ایکشن پلان پرکامیابی سے عملدرآمد جاری ہے، نفیس زکریا


اسلام آباد۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پرکامیابی سے عملدرآمد جاری ہے،دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشن کیا جا رہا ہے ، بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی شدید مزمت کرتے ہیں،کشمیری قیادت کی نظر بندی بھی ختم نہیں کیا جا رہی،عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے،کلبھوشن یادیو سے متعلق ڈوزئیر تکمیل کے مراحل میں ہے، مناسب وقت پر مناسب فورم پرجمع کرایاجائے گا، سرجیت سنگھ پاکستان کی سلامتی کے خلاف کام کر رہا تھا اور اس کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کی باوثوق معلومات موجود تھیں، اس کو خاندان سمیت ملک چھوڑنے کے لئے کل تک وقت دیا گیا، بھارت کی جانب سے نیوکلئیر پرگرام میں توسیع سے خطے کے امن اور استحکام کے لئے خطرہ ہے، حقانی گروپ کے متعدد رہنما افغانستان میں امریکی ڈرون حملوں میں مارے گئے ہیں جس سے واضح ہوتا کہ حقانی نیٹ ورک کہاں موجود ہے۔ جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو سے متعلق ڈوزئیر تکمیل کے مراحل میں ہے۔

مناسب وقت آنے پر ڈوزئیر کو متعلقہ اتھارٹیوں کو جمع کروا دیا جائے گا، پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کو ناپسندیدہ قرار دینا، ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، یہ سب پاکستان میں جاری بھارتی مداخلت سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی ہائی کمشنر کو کل سمن کیا گیا تھا اور سرجیت سنگھ کی واپسی کا پروانہ تھمایا گیا، سرجیت سنگھ پاکستانی کی سلامتی کے خلاف کام کر رہا تھا ۔اس کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کی باوثوق معلومات موجود تھیں۔ سیکرٹری خارجہ نے بھارت میں پاکستانی کمیشن سٹاف کیساتھ ناروا رویے پربھی احتجاج کیا۔نفیس زکریا نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پرکامیابی سے عملدرآمد جاری ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کا یہ ٹریک ریکارڈ رہا ہے کہ بھارتی سیاستدان پاک بھارت کشیدگی کو مقامی سیاست میں استعمال کرتے ہیں۔

2014 کے بھارتی عام انتخابات میں بھی بھارتی سیاستدانوں نے ایل او سی پر کشیدگی کی صورتحال پیدا کی، اب بھی بھارت ایک طرف کشمیر سے توجہ ہٹا رہا ہے تو دوسری طرف مقامی انتخابات میں پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ کشمیر کے معاملے پہ ہم سب اپنا کردار ادا کریں۔ کشمیریوں کو ہماری اس وقت ضرورت ہے۔ گزشتہ روز پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ منایا گیا۔اس حوالے سے دفتر خارجہ اور مشنز نے یوم سیاہ منایا۔ اسی دن کشمیر پر بھارتی تسلط کے سیاہ دور کا آغاز ہوا۔اسی دن سے کشمیر میں ریاستی دہشتگردی، نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا طویل سلسلہ شروع ہوا۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ کشمیر کے معاملے پہ ہم سب اپنا کردار ادا کریں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت جاری ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں تعینات پولیس بھی بھارتی فوج کے زیر اثر ہے۔مقبوضہ کشمیر میں اب تک لاکھوں کشمیری بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں خوراک اور ادویات کی قلت شدید ہوگئی ہے۔ کشمیری قیادت کی نظر بندی بھی ختم نہیں کیا جا رہی۔عالمی برادری اس کا نوٹس لے۔ بھارتی ہائی کمشنر کو گزشتہ روز سمن کیا گیا تھا اور سرجیت سنگھ کی واپسی کا پروانہ تھمایا گیا۔بھارت اب بھی ایک طرف کشمیر سے توجہ ہٹا رہا ہے تو دوسری طرف مقامی انتخابات میں پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔بھارت کشمیر کے معاملے پر توجہ ہٹانے کے لیے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر شہریوں پر فائرنگ کر رہا ہے۔ہم نے دیکھنا ہے کہ ہمارا فوکس کیا ہے۔بھارت کا فوکس صرف و صرف کشمیر سے توجہ ہٹانا ہے۔