بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / اصل مہم!

اصل مہم!

بیسویں صدی کے اوائل تک آبادی کم رکھنے کے حوالہ سے ابھی کوئی سنجید ہ پروگر ام شروع نہیں ہوسکاتھااس کی وجہ یہ تھی کہ سیاسی لحاظ سے غیر مستحکم یورپ اور طب وصحت کے لحاظ سے سہولیات سے محروم یہ دنیا قدرتی طورپر توازن کا نمونہ بنی ہوئی تھی ایک طرف بدترین جنگیں انسانوں کونگل رہی تھیں تو دوسری طرف وبائی امراض اور قدرتی آفات لاکھوں افراد کو ہرسال پیوند خا ک بناکر رکھ دیتے تھے چنانچہ ایک عشرے میں اگر آبادی میں اضافہ ریکارڈکیاجاتاتودوسرا عشرہ تباہی وبربادی لاکر حساب کتاب برابر کردیتا جیسے جیسے انسان تہذیب کے قریب ہوتاگیاکہ جنگوں کالامتناہی سلسلہ بھی قابو ہوتا چلاگیا اور اقوام متحدہ کے قیام کے بعدسے کسی تیسر ی عالمی جنگ سے یہ دنیابچی ہوئی ہے جسکی وجہ سے کم ازکم اس قدر تباہی نہیں آئی جس قدردوعالمی جنگوں کے بطن سے آشکار ہوئی تھی اسی طرح صحت کے میدان میں ترقی سے وبائی امرا ض ختم یا کم ہوتے چلے گئے جس کے بعددنیاکی آبادی میں تیز ی سے اضافہ ہونا شروع ہوا اب یہ سوال کہ آباد ی رحمت ہے یا زحمت ،برسوں سے موضوع بحث بنا ہوا ہے دراصل جو لوگ اس کرہ ارض کواپنی جاگیر سمجھتے ہیں اورتمام ترمادی وسائل پر قابض رہنے کے خواہشمندہوتے ہیں وہ آبادی کو زحمت سمجھتے ہیں ۔

ان کے خیال میں آبادی جتنی بڑھے گی اتنا ان کا حق مارا جائے گا دوسرا نقطہ نظر روحانی ہے وہ یہ کہ جوانسان بھی اس دنیامیں پیدا ہوتاہے اپنا رزق لیکر آتاہے ان دو نظریات میں سے کونسا اور کیوں درست ہے اسکااندازہ کرنا مشکل نہیں اور اس حوالہ سے بحث بھی ہمیشہ جاری رہے گی ‘کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ جو آبادی آج ہے وہ پچاس سال پہلے نہیں تھی اورجو اس وقت تھی وہ اس سے پہلے نہیں تھی اس کے باوجود قلت رزق کبھی نہیں ہونے پائی جگہ کی قلت بھی نہیں ہوئی وسائل کی کمی بھی سامنے نہیں آئی اگر کبھی ایسا ہوا بھی تو اس کاسبب کچھ اور نہیں بلکہ حضرت انسان کی لوٹ کھسوٹ اور ذخیرہ اندوزی پرمبنی عادت رہی ہے ان کے بقول اگر وسائل منصفانہ طورپر تقسیم ہوتے رہیں تو کبھی بھی بھوک اورافلاس کادور دورہ نہ ہوآج بھی اگر وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے تو حالا ت بد ل سکتے ہیں عالمی سطح پرمعاشی عدم مساوات کااندازہ اس امرسے لگایاجاسکتاہے کہ دنیاکے امیر ترین افرادجنکی آبادی عالمی آبادی کامحض ایک فیصد بنتی ہے دنیا کے چالیس فیصد دولت پرقابض ہیں اگریہ دولت منصفانہ طورپر تقسیم کردی جائے تو روئے زمین پر کوئی بھوکا رہے نہ ہی بے گھر ،اقوام متحد ہ کے زیر اہتمام ہرسال اسی مہینہ میں عالمی یو م آبادی منایا جاتاہے مگراس کے باوجود بڑھتی آبادی پرقابو پایا جا سکاہے نہ وسائل کی بڑھتی غیر منصفانہ تقسیم کا معاملہ قابومیں آسکاہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میںآج بھی 76کروڑ سے زائد انسان انتہائی غربت کی زندگی بسر کرنے پرمجبور ہیں انکی یو میہ آمدن دوڈالر سے بھی کم ہے عالمی سطح پر وسائل پرقابض مافیاز کے خلاف کبھی کسی کی زبان نہیں کھلتی سارازو ر اسی پر رہتاہے کہ آباد ی کم سے کم ہونی چاہئے یہ بجا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی بھی مسائل میں اضافہ کاسبب بنتی ہے مگر مسائل کی اصل وجہ وسائل کی منصفانہ کمی سے آنکھیں بند رکھنا بھی ہے خود ہمارے ملک میں ایسے جاگیردار موجودہیں جنکی ہزاروں ایکڑ اراضی آج بھی ناقابل کاشت پڑی ہوئی ہے کیونکہ جو قابل کاشت اراضی اس وقت انکے پاس موجودہے ا س سے انکے سارے اللے تللے پورے ہورہے اس لئے انکو باقی ماندہ زمین کاشت میں لانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں جس کی وجہ سے وطن عزیز میں لاکھوں لوگوں کے ذرا ئع رزق مارے جارہے ہیں سو عالمی وقومی سطح پر آبادی پر کنٹرول کی مہم چلانے کے ساتھ ایک عدد مہم وسائل پر عام آدمی کے کنٹرول کی بھی چلائی جانی چاہئے تاکہ مسئلے کااصل حل نکالا جاسکے ۔