بریکنگ نیوز
Home / کالم / نئے ادارے کی ضرورت!

نئے ادارے کی ضرورت!


سچ کیا ہے اور سچ کی حقیقت کیا ہے؟ جھوٹ کیا ہے اور جھوٹ کی حقیقت کیا ہے؟ کون صادق و امین ہے اور کون نہیں؟کیا یہ سیاست ہے یا کاروبار؟ سیاست اور کاروبار کے درمیان فاصلہ ہونا چاہئے؟ کون بدعنوان ہے اور کس کے ہاتھ بدعنوانی سے نہیں رنگے ہوئے؟کیا سیاست اور اخلاقیات دو الگ چیزیں ہیں؟ کیا سیاست اور اخلاقیات میں کوئی آپسی رشتہ بھی ہے؟سیاست میں کون اخلاقیات کے معیار پر پورا اترتا ہے اور کون نہیں؟ کیا سیاست کاروبار ہے یا یہ عوام کی خدمت کا ذریعہ؟9 مئی 2014ء پاکستان کے وزیر برائے خزانہ‘ آمدن‘ اقتصادی امور‘ شماریات و نجکاری اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاکستان سے قومی دولت سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں منتقل ہوئی ہے جس کا کم سے کم حجم 200 ارب ڈالر ہے!‘‘یاد رہے کہ پاکستان کا مجموعی قومی قرضہ 80 ارب ڈالر کے قریب ہے ایسی صورت میں وزیرخزانہ کا قومی اسمبلی میں یہ بیان کہ دوسوارب ڈالر بیرون ملک بینکوں میں پڑے ہیں‘ کسی بھی طرح معمولی نہیں تھا۔

مارچ 2017ء میں انسداد منشیات کے ایک امریکی ادارے نے ’’انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول سٹریٹجی رپورٹ‘‘ جاری کی جس کے مطابق ’’پاکستان سے سالانہ 10ارب ڈالر غیرقانونی (منی لانڈرنگ) ذرائع سے بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ پاکستان کے ایک تہائی بچے مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے لاغر (انڈر ویٹ) ہیں۔ 44 فیصد بچے ایسے ہیں جن کی بالیدگی رُکی ہوئی ہے۔ 15فیصد کسی کی نگرانی میں نہیں اور بچوں کی آدھی آبادی خون کی کمی یا خون میں آئرن کی کمی سے پیدا ہونیوالے امراض کا شکار ہے اور دوسری طرف قومی دولت کے 10 ارب ڈالر سالانہ چوری ہو کر بیرون ملک ذاتی اثاثوں میں منتقل ہو رہے ہیں!22فروری 2017ء جسٹس شیخ عظمت سعید نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے وجود اور کارکردگی کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’نیب کے چیئرمین وزیراعظم کو بچانے کی کوشش میں ہیں لیکن ہماری نظر میں نیب کا ادارہ رحلت فرما چکا ہے!‘‘17 جولائی 2017ء چیئرمین سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ظفر حجازی کو اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے حکمران شریف خاندان کی ملکیت اداروں سے متعلق سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل (ریکارڈ ٹیمپرنگ) کے جرم میں پانچ روز کے لئے عبوری ضمانت دی۔

21 مارچ 2017ء: وزیراعظم میاں نواز شریف نے سعید احمد کونیشنل بینک آف پاکستان کا صدر مقرر کیا وہ قبل ازیں سٹیٹ بینک آف پاکستان میں ڈپٹی گورنر کے عہدے پر فائز تھے۔ وزیرخزانہ اِسحاق ڈار نے پانامہ کیس سے متعلق جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو بتایا کہ سعید احمد لندن (برطانیہ) میں ایک نرسنگ ہوم چلا رہے تھے جب انہیں سٹیٹ بینک آف پاکستان کا ڈپٹی گورنر مقرر کیا گیا۔پاکستان کی ضرورت ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی بینکوں میں پڑے 200 ارب ڈالر واپس لائے جائیں۔ پاکستان کی ضرورت یہ بھی ہے کہ ہرسال 10 ارب ڈالر جیسی خطیر قومی رقم غیرقانونی ذرائع سے حاصل کرنے والے اور غیرقانونی ذرائع سے بیرون ملک منتقلی کا راستہ روکے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ قومی دولت لوٹنے والے لالچی کردار کون ہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ معلوم ذرائع آمدنی سے بڑھ کر طرز زندگی اختیار کرنے والے کردار کون ہیں۔ سیاست دانوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہئے۔

سرکاری ملازمین‘ فوجی و غیرفوجی (سویلین) کرداروں کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ پاکستان کو ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جسے اختیار حاصل ہو کہ وہ سچائی کو کھوج نکالے ہر پاکستانی کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے سچائی کاعلم ہو ۔ پاکستان کے اقتصادی و مالی امور میں خوردبرد کرنے والے سزا سے نہیں بچنے چاہئیں فلپینز (Philippines) کے ’ٹرتھ کمیشن‘ نے اپنے ہاں بڑے پیمانے پر مالی بدعنوانیوں کو طشت ازبام کیا۔ ملک چاڈ (Chad) نے بھی ’ٹرتھ کمیشن‘ بنایا اور اپنے سابق صدر ہیبری (Habre) اور ان کے ساتھیوں کا احتساب کیا جو مالی بدعنوانیوں میں ملوث تھے۔پانامہ کیس سے متعلق بنائی گئی جے آئی ٹی نے وہ کارنامہ سرانجام دیا جو اس سے قبل پاکستان کی تاریخ میں ان ایک جیسے تحقیقاتی اور عوامی مفادات کی حفاظت کا ذمہ رکھنے والے اداروں کے اہلکاروں نے کبھی نہیں کیا آج پاکستان کے 6 ایسے ہیرو ہیں۔

جن کے بارے میں اگرچہ پاکستان زیادہ کچھ نہیں جانتالیکن ان گمنام کرداروں نے پاکستان کو بہت کچھ جاننے اور اس نتیجے تک پہنچنے کی راہ دکھا دی ہے کہ قومی دولت کس طرح ذاتی اثاثوں میں منتقل ہوتی ہے اور کس طرح ہر ثابت کیا جاسکتا ہے کہ ہر خوش قسمتی کے پیچھے ایک جرم پوشیدہ ہوتا ہے۔پاکستان کو ایک نئے ادارے اور ایک نئے قومی بیانیے کی ضرورت ہے۔ میری تجویز ہے کہ جے آئی ٹی کی طرز پر ایک نیا ادارہ تشکیل دیا جائے جو مالی بدعنوانیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کرنیوالوں کی کھوج کر سکے اور اس سلسلے میں یہ بھی تجویز ہے کہ پانامہ کیس سے متعلق جے آئی ٹی کے اراکین پر مبنی ہی ایک مستقل ٹرتھ (فائنڈنگ)کمیشن (Truth Commission) ‘ تشکیل دیا جائے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)