بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مانیٹری پالیسی اور عوامی مشکلات

مانیٹری پالیسی اور عوامی مشکلات

بینک دولت پاکستان نے آئندہ 2ماہ کیلئے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود 5.75فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے‘ بینک کے اعداد وشمار وزرمبادلہ کے ذخائر میں 2ارب ڈالر کمی کا عندیہ دیتے ہیں جبکہ مہنگائی کی شرح 5.52فیصد رہنے کا امکان ظاہر کررہے ہیں‘ بینک کے گورنر طارق باجوہ اس تلخ حقیقت کااظہار کررہے ہیں کہ ملکی معیشت میں برآمدات اور ترسیلات زر میں کمی جبکہ دوسری جانب درآمدات میں اضافے کا سلسلہ چل رہا ہے‘ مہیا ریکارڈ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں 2ارب ڈالر کی کمی پر اب ان کا حجم 16ارب ڈالر رہ گیا ہے‘ اس سب کیساتھ گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور افراط زر کی شرح 4.5سے 5.5فیصد رہنے کی توقع ہے‘ بینک کے اعداد وشمار کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 12.1ارب ڈالر دکھا رہے ہیں‘دوسری جانب آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام کے فوائد کو مستقل کرنے کی ضرورت ہے۔

‘ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان ترقی کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دے‘ وطن عزیز کی معیشت اس وقت بھی کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی ہے‘ ایک قرضے کی قسط چکانے کیلئے دوسرا قرضہ لیاجاتا ہے‘ نیا قرض ملنے پر خوشی کااظہار بھی ہوتا ہے اور اسے ملکی معیشت پر قرض دینے والے اداروں کا اعتماد بھی گردانا جاتا ہے‘ دوسری جانب اقتصادی اعداد وشمار جتنے بھی اچھے ہوجائیں اور فنانشل منیجرز ان پر جتنا بھی فخر کرلیں عام شہری کو ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا نہ ہی حکومت کی جانب سے اس مقصد کیلئے کوئی مکینزم ترتیب دیاگیا ہے ‘افراط زر اور گرانی کے اعداد وشمار جو بھی ہوں مارکیٹ میں مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے‘ یوٹیلٹی بل پورے مہینے کا بجٹ متاثر کرکے رکھ دیتے ہیں‘ خدمات کا معیار کسی طور معیاری نہیں کہلایاجاسکتا‘ بنیادی شہری سہولیات کا عالم یہ ہے کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ پینے کے صاف پانی سے محروم ہے‘ ہمارے پالیسی سازوں نے عوام کے ریلیف کیلئے مارکیٹ کنٹرول کے آزمودہ اور موثر مجسٹریسی نظام کی بحالی کے کام کو سردخانے میں ڈال رکھا ہے فنانشل منیجرز کو یہ بات پلے باندھنا ہوگی کہ معاشی استحکام اور اقتصادی اعشاریئے اس وقت تک بے ثمر ہی کہلائے جاسکتے ہیں جب تک عوام کو عملی طورپر ریلیف نہ ملے۔

مون سون کیلئے تیاریاں؟

خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں سمیت صوبائی دارالحکومت میں ہر بارش کے بعد سیوریج سسٹم کے بلاک ہونے ‘بجلی کی فراہمی معطل رہنے‘ ٹریفک جام اور دوسری مشکلات کا ذکر روٹین کا حصہ بن چکا ہے‘ متعلقہ ذمہ دار ادارے بارش اور طوفان سے قبل الرٹ جاری کردیتے ہیں جبکہ اس ضمن میں اقدامات سے بروقت گریز کی شکایت ہی رہتی ہے‘ اب کی بار بارشوں کا سیزن شروع ہونے پر آبی گزرگاہوں کی صفائی اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق اعلانات ہوئے ہیں‘ ضرورت ہر ادارے کی جانب سے انفرادی اقدامات کیساتھ تمام ذمہ دار محکموں کے درمیان باہمی رابطہ یقینی بنانے کی ہے جب تک تمام سٹیک ہولڈرز مل کر موثر حکمت عملی ترتیب نہیں دیتے اس وقت تک ثمر آور نتائج نہیں مل سکتے اور بارشوں کے بعد افسوس کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔