بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / جسم کی عمارت اور اسکا سیمنٹ

جسم کی عمارت اور اسکا سیمنٹ

اس دن میں آپریشن تھیٹر میں کچھ زیادہ ہی مصروف رہا اور کلینک تک پہنچتے پہنچتے سہ پہر کے تین بج گئے ‘میں نے لنچ نہیں کیا تھا لیکن مریضوں کاانتظار دیکھ کر فوراً ہی انکا معائنہ شروع کیاتقریباً ہر مریض نے گِلہ کیا کہ وہ بہت دیر سے انتظار کررہا تھا۔ میں نے وضاحت کی کہ آپریشن درمیان میں چھوڑکر آنا ممکن نہیں تھا اور جونہی فارغ ہوا تو حاضر ہوگیا۔ ڈاکٹروں کے ہاں وقت کی پابندی تقریباً ناممکن ہے اور یہی صورتحال پوری دنیا میں ہے اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مشینی انداز میں پہلے سے معلوم نہیں ہوتا کہ فلاں مریض پر کتنا وقت لگے گا۔ اسکے علاوہ ہر مریض کا اطمینان مختلف طریقے سے سمجھانے سے ہوتا ہے انکے سوالات کم و بیش ہوسکتے ہیں‘ ان کو علاج کے مختلف پہلو سمجھانے ہوتے ہیں۔ بہر حال کچھ مریضوں کو تو مطمئن کیا اور کچھ سے معافی مانگی‘ انہی مریضوں میں مریم بی بی بھی تھی جو ایک ساٹھ سالہ خاتون تھی اور مختلف تکالیف سے گزر کر آئی تھی۔ دل کا آپریشن ہوچکا تھا۔ فالج کا ایک حملہ بھی برداشت کرلیا تھا جس سے اب زیادہ تر افاقہ ہوگیا تھا۔ شوگر بھی جان کو پڑی ہوئی تھی۔ فالج کے دوران بستر پر پڑے پڑے ان کی کمر پر بڑا زخم بن گیا تھا اور وہ نہ صرف مسلسل رِس رہا تھا بلکہ اس سے بدبو بھی اُٹھ رہی تھی‘ میں نے زخم کا معائنہ کیا اور پھر انکے خون کے ٹیسٹ دیکھے۔

مجھے دو اہم چیزیں دیکھنی تھیں کہ انکے بدن میں پروٹین کہیں بہت زیادہ کم تو نہیں اور یہ کہ انکا خون دواؤں سے پتلا تو نہیں ہوگیا تھا جب خون دواؤں سے پتلا ہوجاتا ہے تو آپریشن کے دوران خون بہت زیادہ ضائع ہوتا ہے اور ہم کوشش کرتے ہیں کہ وہ ادویات چند دنوں کیلئے بند کردیں۔ دوسری طرف ان زخموں سے رسنے والا مائع زیادہ تر لحمیات ہی پر مشتمل ہوتا ہے۔ پروٹین یا لحمیات کا جسم کی مرمت میں وہی مقام ہے جو کسی مکان کی مرمت میں سیمنٹ کا ہے اگر کوئی دیوار گرجائے تو اسکی دوبارہ تعمیر محض اینٹ‘ ریت اور پانی سے نہیں ہوسکتی اور جب تلک اس کیساتھ سیمنٹ کا ساتھ نہ ہو وہ دیوار کبھی بھی کھڑی نہیں رہ سکتی‘ مریم کے ٹیسٹ دیکھے تو پروٹین نارمل سے بہت کم تھا۔

ہر صحت مند انسان کے پیشاب میں چوبیس گھنٹوں میں محض ایک چوتھائی گرام پروٹین ضائع ہوتا ہے۔ تاہم جب جسم کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو یہ ضیاع بسا اوقات تیس چالیس گرام تک پہنچ جاتا ہے۔ ساتھ ساتھ اگر اس طرح کا رِستا ہوا زخم بھی ہو تو بدن میں پروٹین اور بھی کم ہوجاتا ہے اگر چہ مختلف ناموں سے پروٹین کے پاؤڈر ملتے ہیں جو دودھ میں ملاکر پلائے جاتے ہیں لیکن وہ نہ صرف بہت مہنگے ہوتے ہیں بلکہ ان کا اثر بھی کافی وقت کے بعد ہی ہوتا ہے‘جسم میں پروٹین کی مقدار بڑھانے کا سب سے اچھا ذریعہ خوراک میں پروٹین کا بڑھانا ہے۔ سب سے زیادہ لحمیات گوشت‘ انڈے‘ دہی اور دودھ میں پائے جاتے ہیں‘ کسی بھی بالغ مریض کیلئے میرا فارمولہ ہر روز چار انڈے‘ ایک لٹر دودھ ‘ پانچ سو گرام دہی ‘ایک پاؤ گوشت پر مشتمل ہے ۔ اس خوراک سے دو ہفتوں میں مریض اس قابل ہوجاتا ہے کہ اسکا آپریشن فیل نہ ہو کیونکہ کم پروٹین کی موجودگی میں کوئی بھی زخم نہیں بھرتابعض سرجن اس چیز کا خیال نہیں رکھتے تو انکے بڑے بڑے آپریشن ناکام ہوجاتے ہیں۔ میں نے کئی ایک مریضوں کے پیٹ کے زخم کھلتے دیکھے ہیں جن میں سے آنتیں باہر پڑی ہوتی ہیں‘ مریم کو بھی میں نے یہ فارمولہ دیا تھا لیکن ان کے گھروالوں نے اس پر مکمل عمل نہیں کیا اور اسلئے اس کا آپریشن ملتوی ہوتا رہا اب کہیں جاکر وہ اس قابل ہوئی تھی کہ داخل کی جائے اور آپریشن کیلئے تیاری کی جائے۔

عموماً سیریس مریضوں کی اشتہا ویسے بھی کم ہو جاتی ہے اوپر سے احباب و رشتہ دار انہیں یخنی اور پھیکی اشیاء کی پرہیز کرواکے ان کی بھوک کو اور ماردیتے ہیں‘ بدقسمتی سے ہمارے کلچر میں اسی پرانے زمانے کے حکمت کے بے ثبوت تاثرات قائم ہیں کہ کھانے پینے کی اشیاء طبیعت میں گرم یا ٹھنڈی ہوتی ہیں اور ہر اچھی کھانے کی شے سے الٹے سیدھے قصے سنا کر ڈراتے رہتے ہیں جیسے کہ آپریشن کے بعد پانی سے یوں پرہیز کیا جاتا ہے گویا وہ زہر ہو اور مریض ایک آپریشن کے بعد مہینوں نہیں نہاتا۔ چنانچہ ان مریضوں کو کھانے پر آمادہ کرنے کیلئے ایک تو انکو کھانے کی مقدار تھوڑی تھوڑی کرکے دینی چاہئے لیکن یہ عمل ہر گھنٹے میں دہرا نا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر صبح کے وقت مریض پہلے سے چائے کا شوقین ہو تو اسے صرف دودھ میں ایک گلاس چائے بناکر دی جائے۔ یوں ایک چوتھائی لٹر دودھ اسکے معدے میں چلاجاتا ہے‘ایک گھنٹے کے بعد اسے ایک انڈا کھلایا جائے اگلی دفعہ قیمے بھرا سموسہ دیا جائے پھر دن کے کسی وقت چٹخارے دار کباب کھلایا جائے‘آج کل گرمی ہے گاڑھی اور ٹھنڈی لسی سے اسکی تواضع کی جاسکتی ہے۔

یوں بدل بدل کر مختلف کھانے دینے سے آہستہ آہستہ اسکی اشتہا واپس آجاتی ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ تازہ فروٹ صحت کیلئے بہت اچھے ہوتے ہیں تاہم ان مریضوں کوفروٹ دینے سے ان کا معدہ بھر جاتا ہے اور متذکرہ بالا کھانے کیلئے جگہ ہی نہیں بچتی۔ اسلئے میں ایسے مریضوں کو فروٹ اور سلاد کھانے سے منع کرتا ہوں۔ البتہ سبزی اور فروٹ نہ کھانے سے انکو قبض کی شکایت ہوتی ہے اور ہمارے ہاں کوئی ایک دن بھی پاخانہ نہ کرے تو طوفان کھڑا کردیتا ہے کیونکہ ہمارے پرانے زمانے کے حکماء نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ قبض اُمّ الامراض ہے۔میں انکو سمجھاتا ہوں کہ پروٹین سے بھرپور غذائیں پاخانہ نہیں بنا پاتیں۔ ظاہر ہے جب بڑی آنت تک فضلہ پہنچے ہی نہ تو پاخانہ کہاں سے بنے اور یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں کہ ہر روز ہی ٹوائلٹ جایا جائے۔ بس اس عمل کو ذہن پر سوار کرنیکی ضرورت نہیں اگر بہت ہی وسواس ہو تو دن میں ہر کھانے سے قبل اسپغول کا ست استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس پوری تمہید کا مقصد یہی ہے کہ اگر ڈاکٹر بالخصوص منع نہ کرے تو چٹ پٹی اشیاء‘ گوشت‘ دودھ ‘دہی اور انڈے مریض کیلئے نہایت ضروری ہوتے ہیں تاکہ وہ جلد از جلد اپنے مرض سے صحت یاب ہوں۔ انڈے کی زردی سے وہ پرانے ڈراوے کی حقیقت بھی اب بوگس ثابت ہوچکی ہے اور بلڈ پریشر کے مریضوں یا فالج ‘دل کے مریضوں کیلئے خوش خبری ہو کہ انڈے کی زردی سے کوئی ضرر نہیں پہنچتا اور نہ ہی بڑے گوشت سے کولیسٹرول زیادہ ہوتا ہے۔