بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / ہر انتہا کی انتہاء!

ہر انتہا کی انتہاء!


یقین ہی نہیں آتا کہ ۔۔۔ گویا پشاور کی قسمت جاگ اُٹھی ہو لیکن کیا اہل پشاور بھی جاگ رہے ہیں‘ جن کے لئے خبر ہے کہ اپنی آئینی مدت کے اختتام سے قبل تحریک انصاف کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ پشاور کی خوبصورتی میں اضافہ اور بنیادی سہولیات کے نظام میں وسعت پیدا کی جائے گی اس مقصد سے تعمیروترقی کی اس جامع قرار دی جانے والی حکمت عملی سے گرد و غبار جھاڑ کر نظرثانی کی گئی ہے جس کا بنیادی اعلان تو جون دوہزار تیرہ میں کر دیا گیا تھا لیکن اس کی یاد دہانی ہر مالی سال کے آغاز پر لازماً کی جاتی رہی ہے۔ تحریک انصاف کے فیصلہ ساز مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ وہ خیبرپختونخوا کو بالعموم اور پشاور کو بالخصوص نہیں بھولے ‘ایک معتبرحکومتی شخصیت نے رازداری سے کہا ہے کہ پشاور کے لئے 10 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی کاموں کی منظوری دے دی گئی ہے جن میں شہر کے مختلف حصوں میں 6 عدد فلائی اوورز کی تعمیر بھی شامل ہے پشاور ٹریفک پولیس کے فیصلہ ساز ایک عرصے سے اس بات کا مطالبہ کرتے آئے ہیں جب تک کم سے کم چھ مقامات پر فلائی اوورز کی تعمیر اور رنگ روڈ کی تکمیل نہیں ہو جاتی اس وقت ٹریفک کا دباؤ بدستور برقرار رہے گا لیکن اگر عام انتخابات کے قریب حکومت پشاور کی ترقی کے لئے 10ارب روپے جیسی خطیر رقم مختص کر رہی ہے تو اِس میں رازداری کی کیا ضرورت ہے؟

یہ بات تو فخریہ طور پر علی الاعلان ہونی چاہئے لیکن چونکہ ماضی میں اس طرح کے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بعدازاں مالی وسائل فراہم نہیں کئے گئے‘ اس لئے کوئی بھی حکومتی وزیر نہیں چاہتا کہ وہ دس ارب روپے کے خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان اپنے نام سے کرے! یقیناًدانشمندی یہی ہوگی کہ تحریک انصاف مزید نیک نامی کمانے کی بجائے خیبر پختونخوا اور بالخصوص پشاور سے معافی مانگے اور تبدیلی لانے کی پرخلوص کوششوں کا دفاع کرنے کی بجائے اعتراف کرے کہ وہ اپنے حصے کا کام مکمل نہیں کر سکی! پشاور کی ترقی کے لئے ماضی میں بھی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ ماضی میں بھی ضلعی بلدیاتی منتخب نمائندوں کی بادشاہت رہی سرکاری ملازمین کی فوج ظفر موج پشاور کی ترقی اور اس کے غم میں نڈھال بھاری تنخواہیں مراعات اور اختیارات سے مستفید ہو رہی ہے لیکن اگر برسر زمین حقائق تبدیل نہیں ہوئے تو وہ عام آدمی ہے‘ جسے صوبائی حکومت کی جانب سے پینے کے صاف پانی‘صحت و تعلیم اور آمدورفت کے باسہولت و باعزت ذرائع میسر نہیں!نمائشی اقدامات‘ سیاست برائے سیاست اور انتخابی حلقوں پر مبنی ترجیحات کو عزیز رکھنے والے ماضی و حال کے حکمرانوں کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال موجود ہے۔ صوبائی حکومت نے چغل پورہ سے حیات آباد تک سڑک کی توسیع اور جی ٹی روڈ سے متصل اس مصروف ترین شاہراہ سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے درجنوں کاروائیاں کی ہیں۔

لیکن نہ تو سڑکوں کے کناروں سے سوفیصد تجاوزات ختم ہو سکی ہیں اور نہ ہی اندرون شہر کے بازاروں سے ختم کی جانیوالی تجاوزات کا علاج ہی ہو پایا ہے پشاور شہر کے بازاروں میں تجاوزات پھر سے لوٹ رہی ہیں اور اس وقت تک کاروائی نہیں ہوگی جب تک یہ پوری طرح پھیل نہیں جائیں گی! بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ماضی و حال کی ناقص کارکردگی بھی کسی اضافی تعارف کی محتاج نہیں!جی ٹی روڈ سے براستہ خیبر روڈ چار رویہ شاہراہ کی چغل پورہ سے حیات آباد تک ’چھ رویہ‘ توسیع جیسا ممکن ہدف اگر حاصل نہیں سکا تو اس کیلئے ’کس سے منصفی چاہیں؟ دس ارب روپے جیسی خطیر رقم پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی میں دو ٹول پلازہ تعمیر کئے جائیں گے۔ رنگ روڈ کو بہتر بنایا جائے گا یعنی اس رقم کا بڑا حصہ شاہراہوں کی تعمیر ہی پر خرچ ہوگا۔ اندرون شہر شمسی توانائی سے سٹریٹ لائٹس کی تنصیب کا عزم بھی کسی خوشخبری سے کم نہیں‘جو سال دوہزار تیرہ سے بیانات کا حصہ تو ہے لیکن باوجود ترقیاتی ترجیحات سے متعلق وعدوں کے بھی پشاور کا حق اَدا نہیں ہوا‘ تو اہل پشاور کو گلہ مند ہونے کی ضرورت نہیں۔