بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / 2 نومبر کو ہر صورت اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ کر دکھائیں گے‘ عمران خان

2 نومبر کو ہر صورت اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ کر دکھائیں گے‘ عمران خان


اسلام آباد۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ 2 نومبر کو ہر صورت اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ کر دکھائیں گے‘ نواز شریف 50 ہزار پولیس اہلکار بھی بلا لے عوام کا سمندر تمام رکاوٹوں کو بہا کر ڈی چوک پہنے گا۔ عدلیہ سن لے کیا تمام احکامات ہمارے خلاف ہیں۔ حکمرانوں نے پنڈی او راسلام آباد میں راستے اور بنی گالہ میں رکاوٹیں کھڑی کر کے عدالت کے حکم کی دھجیاں اڑا دی ہیں ، عدلیہ بھی ٹرائل پر ہے ،عدلیہ کا کام ہے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے مگر اس میں ناکام ہے۔

وہ جمعہ کو بنی گالہ میں پارٹی اجلاس کے بعدرہائش گاہ سے باہر آکر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ عمران خان نے کہاہے کہ یہ بادشاہت ہے یا جمہوریت ہائیکورٹ کا فیصلہ تھا کہ رکاوٹیں نہیں ہونگی پھر بنی گالہ کیوں بند کیا گیا ‘ کون سے قانون کے تحت مجھے ہاؤس اریسٹ کیاگیا‘ بنی گالہ کے راستے بند ئے گئے ‘ نعیم الحق کو نہیں آنے دیا گیا ‘ نواز شریف پختونخوا جلسہ کرنے گیا کسی نے نہیں روکا ۔ ہم نے کون سا جرم کیا کہ جلسے کے حق سے محروم کیا گیا ‘ شیخ رشید کے جلسے میں جانے سے روکا گیا ‘ عدلیہ دیکھے ‘ عدلیہ پھر ٹرائل پر ہے جمہوریت میں عدلیہ آزاد ہوتی ہے جو شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے جو نہیں کر رہی ‘ اب میڈیا کا بھی راستہ روکا جا رہا ہے ‘ نواز شریف ڈکٹیٹر شپ کی پیداوار ہے ‘ تمام کرپٹ سیاستدان نواز شریف کے ساتھ ہیں‘ (ن) لیگ کے اندر کرپشن کا فائدہ اٹھانے والے اس کی حمایت کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنوں اور خواتین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

سبینہ طاہر نے تمام پاکستانیوں کو پیغام دیا ہے کہ قوم پولیس کے ڈنڈے سے نہیں درتی۔ پنجاب پولیس کے پی کے پولیس سے سبق سیکھے ۔ پنجاب پولیس کے زیادہ لوگ شریف خاندان کے ظلم سے تنگ ہیں۔ پولیس کو حکمرانوں کے غیر آئینی حکم ماننے کی پابندی نہیں ۔ ماڈل ٹاؤن میں گولیاں چلانے والوں اور شریف برادران کو جیل میں ڈالیں گے ۔ عورتوں پر ڈنڈے چلانے پر اسلام آباد پولیس کو شرم آنی چاہیے۔ نواز شریف کے ساتھ آپ بھی جائیں گے۔ 2 نومبر کو انسانوں کا سیلاب کوئی نہیں روک سکتا۔ کارکن تیاریاں کریں گرفتاریوں سے بچیں۔ 2 نومبر کو عوام کی طاقت اسلام آباد میں دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ناز شریف تم بزد ل ہو میں جب تک زندہ ہوں تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔

تمہارا احتساب کروں گا۔ 2 کو 30 ہزار پولیس اہلکار بھی مجھے نہیں روک سکیں گے۔ ہم پنڈی تیاری کیلئے جانا اہتے تھے اب جانے کی ضرورت نہیں۔ عدالت بتائے کیا سارے قانون ہمارے اوپر لگیں گے۔ انتظامیہ نے اسلام آباد کے راستے روک کر قانون کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ یہ کبھی قانون پر نہیں چلے۔ انہوں نے اسلام آباد میں سپریم کورٹ پر حملہ کیا۔ میرا کھانا روک دیا۔ گھر کے گرد سیکیورٹی لگا دی۔ 2 نومبر کو عوام کا سیلاب 50 ہزار پولیس اہلکاروں کو بہا کر ڈی چوک لے جائے گا۔

میں وکلاء کے مشورے پر ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ کر رکھا ہے پیر کو سپریم کورٹ ضرور جاؤں گا۔کل کی ریلی تیاری کیلئے تھی اب ضرور نہیں حکومت نے خود تیار کروا دی ہے۔ بنی گالہ ہمارا پلاننگ سنٹر ہے یہاں منصوبہ بندی کروں گا۔ 2 نومبر کو عوام کا سمندر آئے گا میں نے کبھی نہیں کہا تھا کہ 2 نومبر سے پہلے اسلام آباد بند کرں گا۔ نواز شریف جمہوریت کے پیچھے چھپتا تھا آج اس کی جمہوریت عوام نے دیکھ لی ہے۔ اپنی کرپشن بچانے کیلئے مودی کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔