بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / لاہور سے کابل تک

لاہور سے کابل تک

شریعت کورٹ کی کاروائی بیان کرنے سے پہلے ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب ’’ دی کنٹریکٹر‘‘ کے صفحہ 185 پر لکھا ہے کہ اسے اس بات کا بعد میں پتہ چلا کہ اسکی رہائی کی ڈیل کے خدو خال اس وقت مرتب ہوئے تھے جب واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی اور سینیٹر جان کیری نے وسط فروری 2011میں اسلام آباد کا دورہ کیااس ڈیل میں دونوں ملکوں کے کئی ریاستی اداروں نے اپنا حصہ ڈالاIt was clearly a group effort یعنی یہ واضح طور پر ایک گروپ کا کام تھا اس میں ہر ٹیم ممبر کی یہ کوشش تھی کہ اس بحران کو اس طریقے سے حل کیا جائے کہ دونوں ممالک میں سے کسی کی بھی سبکی نہ ہو ریمنڈ نے لکھا ہے کہ اسے آخری لمحے تک اندھیرے میں رکھا گیااسکی وجہ اس نے یہ بتائی ہے کہ A Pakistani officer was more than happy to let me twist in the wind all the way up until the very endیعنی ایک پاکستانی افسر اس بات پر خوش تھا کہ مجھے آخری لمحے تک بے چین و بے قرار رکھا جائے اس ڈیل کی کامیابی کی ضمانت یہ تھی کہ ایک اعلیٰ ترین افسر اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے پر آمادہ تھا اور اسکی ناکامی کا خدشہ یہ بات تھی کہ دیت کے قانون کے مطابق مقتولین کے ورثاء میں سے اگر کسی ایک نے بھی اسے تسلیم نہ کیا تو یہ ختم ہو جائیگی ان اٹھارہ افراد کو قابو میں رکھنے کیلئے ان پر بیحد دباؤ ڈالا گیا جس شخص نے سب سے زیادہ مزاحمت کی وہ محمد فہیم کا بھائی وسیم شہزاد تھا اگرچہ کہ سیاسی جماعتوں کے سر کردہ لوگ ایک بڑی تعداد میں ان سب کے گھروں میں جا کر انہیں اس ڈیل کو مسترد کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے تھے مگر وسیم شہزاد پر دباؤ بہت زیادہ تھا وہ آخری وقت تک خون بہا لینے سے انکار کرتا رہا اس ڈیل کو آخری لمحوں تک مسترد کرنے والا دوسرا شخص مشہودالرحمان تھا اسکا بھائی ستائیس جنوری کو لاہور قونصلیٹ سے مجھے بچانے کیلئے مزنگ چوک آنیوالی دوسری گاڑی سے ٹکرا کر ہلاک ہوا تھا ۔

اس نے برطانیہ سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہوئی تھی اور اسکا کہنا تھا یہ اسکے خاندان کی عزت کا سوال تھا اور دولت لیکر قتل معاف کر دینا اسے انصاف کے تقاضوں کے مطابق نظر نہ آتا تھاان تمام افراد کو مذہبی جماعتوں کے اثرو رسوخ سے دور رکھنا بہت ضروری تھا اس مقصد کیلئے سولہ مارچ کی عدالتی کاروائی سے دو دن پہلے انہیں گرفتار کر لیا گیا اسکے بعد انکے وکلاء انہیں ڈھونڈتے رہے اور انکے ہمسائے ہر ایک سے یہی کہتے رہے کہ وہ اچانک غائب ہو گئے ہیں فیضان حیدر کے کزن اعجاز احمد نے بیان دیا کہ فیضان کے گھر پر تالہ لگا ہوا ہے اسکے والدین کے فون خاموش ہیں اور یہ سب کچھ نہایت بد دیانتی کیساتھ کیا جا رہا ہے ریمنڈ نے صفحہ 186 پر یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ اسے اس بات کا بعد میں پتہ چلا کہ ان اٹھارہ افراد کو فیصلے کے دن سے پہلے کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیاتھاوہاں انہیں ایک مرتبہ پھر کہا گیا کہ وہ اگراسے معاف کر دیں تو انہیں ایک خطیر رقم دی جائیگی اور اگر انہوں نے انکار کیا تو اسکے نتائج انہیں بھگتنا ہوں گے The following morning they were reportedly held at gun point just outside the prison’s courtroom for several hours and warned not to say a word to the mediaیعنی اگلے روز (فیصلے کے دن) مبینہ طور پر انہیں کئی گھنٹے تک بندوقوں کے نشانے کی زد پر رکھتے ہوئے کہا گیا کہ وہ میڈیا سے ایک لفظ بھی نہ کہیں انکے وکلاء نے بعد میں بی بی سی کو انٹرویودیتے ہوئے کہا کہ اس دن انہیں چار گھنٹوں تک جبری حراست میں رکھا گیا ریمنڈ نے لکھا ہے کہ جب ان اٹھارہ افراد کو کمرۂ عدالت میں لایا گیا تو ان میں سے کئی لوگوں کے چہروں پر اس صدمے کے آثار ہویدا تھے جو ایک ناخوشگوار فیصلے کوقبول کرتے وقت پیدا ہو جاتے ہیں۔

کونسل جنرل کارمیلا کونرائے نے ریمنڈ ڈیوس سے کہاان میں عورتیں یقیناًسب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں The women were indeed the ones taking it the hardest ان میں سے بعض رو رہی تھیں اور بعض سسکیاں لے رہی تھیں شاعر نے اسی قسم کے المناک منظر کے بارے میں کہہ رکھا ہے
دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن رنگ بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

نئے وکیل استغاثہ راجہ ارشاد نے شرعی عدالت کے جج کو وہ کاغذات پیش کئے جن پر محمد فہیم اور فیضان حیدر کے اٹھارہ ورثاء کے دستخط ثبت تھے اور جن میں یہ لکھا تھا کہ انہوں نے دیت قبول کر کے ریمنڈ ڈیوس کو معاف کر دیا ہے جج نے ان میں سے ہر ایک کو اپنی شناخت ثابت کرنے کو کہا اس مرحلے کے بعد اس نے ہر کسی کو ایک رسید دی جس پر وہ رقم درج تھی جو انہیں ملنا تھی اس رقم کی کل مالیت دو لاکھ تین سو چالیس ہزار ڈالر تھی اور ان میں سے ہر ایک کے حصے میں ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر آئے It was the largest amount of blood money ever awrded in Pakistan یہ پاکستان میں خون بہا کیلئے ادا کی جانیوالی سب سے بڑی رقم تھی ‘ ریمنڈ نے لکھا ہے کہ اسوقت یہ رقم حکومت پاکستان نے ادا کی مگر بعد میں امریکہ نے اسکی ادائیگی کر دی اسکے بعد جج نے ہر وارث سے کاغذات پر دستخط لینے کے بعد پوچھا کہ ان سے یہ فیصلہ منوانے میں زبردستی تو نہیں کی گئی۔

ان میں سے ہر ایک نے نفی میں جواب دیا ریمنڈ نے صفحہ 187پر لکھا ہے کہ عدالت کے برخواست ہوتے ہی کارمیلا نے اونچی آواز میں کہا All of them accepted the diyat, Ray, you are getting out of here ان سب نے دیت قبول کر لی ہے ریمنڈ‘ تم یہاں سے نکل رہے ہو‘’’ دی کنٹریکٹر کے اختتامی صفحات میں مصنف نے لکھا ہے And yes I cried. I cried like a baby ہاں میں رو پڑا‘ میں بچوں کی طرح رو پڑا‘سولہ مارچ کو رہائی پانے کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو فوجی گاڑی میں بٹھایا گیا اور اسلحہ بردارمحافظوں کی گاڑیوں کے کارواں میں کوٹ لکھپت جیل سے لاہور ائیر پورٹ پہنچا دیا گیا وہاں دو انجنوں والاcessna جہازاسکا منتظر تھاامریکی سفیر کیمرون منٹر بھی اسکے شریک سفر تھے جہاز رن وے پر ٹیکسی کرنے لگا ریمنڈ نے اپنے دوستDale سے کہا کہ جب تک وہ کابل ائیرپورٹ پر لینڈ نہیں کرتے وہ خود کو آزاد نہیں سمجھ سکتا Daleنے کہا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں دیکھو وہ کون ہمیں سلیوٹ کر رہا ہے ریمنڈ نے جہاز کی کھڑکی سے باہر جھانکا تو اسے وہ افسر نظر آیا جسکے ساتھ وہ گاڑی میں لاہور ائیر پورٹ تک آیا تھا۔