بریکنگ نیوز
Home / کالم / قول و فعل میں تضاد

قول و فعل میں تضاد

اگلے روز ایک اخباری رپورٹ کے مطابق بلاول نے پی پی پی کی منشور کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد آئندہ الیکشن کیلئے پارٹی کا منشور مرتب کرے اب آپ ذرا سوچئے کہ الیکشن سر پر ہے اور یار لوگوں نے ابھی تک اپنے الیکشن منشورکو حتمی شکل ہی نہیں دی دوسری سیاسی جماعتوں کا بھی کم و بیش یہی حال ہو گاان لوگوں کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب الیکشن سر پر آئے تو عجلت میں یہ لوگ الیکشن میں عوام کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے پرکشش سیاسی نعرہ تخلیق کرتے ہیں جس کا حقیقت کی دنیا سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا مارکیٹ میں درجنوں کے حساب سے ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں کام کررہی ہیں جو سیاہ کو سفید اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں یدطولیٰ رکھتی ہیں الیکشن کے دنوں میں ان ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں وہ ان سیاسی پارٹیوں سے کروڑوں روپے پبلسٹی کی مد میں بٹورلیتی ہیں کہ جن کی الیکشن میڈیا مہم کا ٹھیکہ انہوں نے لیا ہوتا ہے ماضی میں یہ ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں والے نخرے نہ تھے گنتی کے بس چند اخبار ہوا کرتے تھے اللہ اللہ خیر سلا سیاسی پارٹیاں الیکشن مہم میں عوامی جلسوں سے براہ راست خطاب کیا کرتی تھیں آج کل عوامی رابطوں کا طریقہ کار بدل چکا ہے سیاستدانوں نے ہٹلر کے وزیر اطلاعات ڈاکٹر گوہبلز کا دیا ہوا یہ سبق ازبر کر لیا ہے کہ اتنا جھوٹ بولو ‘ اتنا جھوٹ بولو کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں الیکشن کیلئے منشور بنانا منشور کمیٹیوں کے بس کا روگ نہیں۔

اس کیلئے ہر پارٹی کے اندر مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین کا ایک تھنک ٹینک کا ہونا ضروری ہوتا ہے جو عوام اور ملک کو درپیش مسائل کا چوبیس گھنٹے تجزیہ کرتا رہتا ہے اور پھر ان کا حل تجویز کرتا ہے اور یہ عمل بذات خود ایک لمبی چوڑی مشق ہوتی ہے پہلے منشور کو گرین پیپر کی شکل میں عوامی حلقوں میں بحث و مباحث کیلئے پیش کیا جاتا ہے ان کی آراء حاصل کی جاتی ہیں اور انکی روشنی میں پھر کہیں جا کر اسے حتمی شکل دی جاتی ہے کیا یہ سب کچھ پارٹیاں کرتی ہیں؟ ہمارا خیال نہیں ہے کہ ایسا ہوتا ہو نئے الیکشن کیلئے جو بھی منشور دیا جائے اس پر بحث ومباحث شروع کرنے سے پہلے عوامی حلقے اور میڈیا ذرا ارباب اقتدار سے پچھلے ادوار کا حساب کتاب بھی تولے ہم زیادہ دور کی بات نہیں کرتے چلو2008ء سے لیکر 2017ء تک کی ہی بات کر لیتے ہیں 2008ء میں انتخابات ہوئے اور اس کے نتیجے میں ایک سیاسی پارٹی نے پورے پانچ برس اس ملک پر حکومت کی پھر 2013 میں دوبارہ الیکشن ہوئے اور اس کی بنیاد پر ایک دوسری قوم سے کئی وعدے وعید کئے؟

قوم کو بتانا چاہئے کہ ان وعدوں میں کتنے شرمندہ تعبیر ہوئے اور کتنے ٹرخا دیئے گئے آزمودہ را آزمودن جہل است’’آزمائے ہوئے کو آزمانا جہالت ہے اگر ان دو سیاسی جماعتوں نے قوم سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا تو اب ان پر کیسے اعتبار کر لیا جائے کہ آئندہ وہ اقتدار میں آ کر قوم کو دھوکہ نہ دیں گی ؟ آئیے ہم چیدہ چیدہ وعدوں کا ذکر کر لیں کہ جو کہ ہماری نظر میں پورے نہیں کئے گئے کیا ان دونوں سیاسی جماعتوں نے قوم سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ وہ ملک کی معیشت کو دستاویزی بنائیں گے کہ اس کے بغیر لوگوں کی صحیح آمدنیوں کا تعین ہی نہیں کیا جا سکتا اور اگر لوگوں کی آمدنی کا درست اندازہ حکومت کو نہ ہو تو وہ حصہ بقدر جثہ کے فارمولے سے ٹیکس کیسے لگائے گی؟ اس کے علی الرغم دونوں سیاسی جماعتوں نے ٹیکس ایمنسٹی سکیموں کا بھر پور اجراء کیا اور کالے دھن کے مالکوں کو موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی کمائی کو سفید کر لیں ۔