بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سی پیک اورخیبر پختونخوا کی معیشت

سی پیک اورخیبر پختونخوا کی معیشت

حکومت نے کوہاٹ سے ڈیرہ اسماعیل خان تک انڈس ہائی وے کو جدید بنانے کیلئے70 ارب روپے کی منظوری دی ہے ‘ مہیا تفصیلات کے مطابق یہ پراجیکٹ 5 سال میں مکمل کیا جائے گا‘ منصوبے کے مطابق235 کلو میٹر طویل اس شاہراہ کو چار رویہ کیا جا رہا ہے یہ پراجیکٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ ہے ‘ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ سی پیک وطن عزیز کی معیشت کے حوالے سے ایک اہم منصوبہ ہے ‘ رائے اس میں بھی کوئی دوسری نہیں کہ اس منصوبے کے ثمرات مرکز اور صوبوں کے لیول پر موثر منصوبہ بندی سے مشروط ہیں جس کیلئے ہر پہلو سے سازگار ماحول بھی ضروری ہے‘ اس کیساتھ سرمایہ کاری کیلئے سہولیات کی فراہمی کا نظام بھی مربوط اور آسان بنانا ضروری ہے خیبر پختونخوا کی معیشت زیادہ توجہ کی متقاضی اس لئے ہے کہ اپنے مخصوص جغرافیہ کیساتھ یہ صوبہ امن وامان کی صورتحال سے دو چار رہا ہے ‘ اس صوبے کو لاکھوں افغان مہاجرین کا میزبان بھی بنایا گیا ہے۔

جبکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اس صوبے کو فرنٹ لائن کی حیثیت دی گئی خیبر پختونخوا سنٹرل ایشیاء کیساتھ تجارت کیلئے گیٹ وے تو نہ بن سکا تاہم سی پیک کے زیادہ سے زیادہ ثمرات سمیٹنے کیلئے اس منصوبے کے انفراسٹرکچر اور راہداری منصوبے سے جڑے دیگرپراجیکٹس کی تکمیل کیلئے خصوصی فنڈز کا اجراء ناگزیر ہے خیبر پختونخوا کو بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات اور سالانہ ادائیگی اگر بروقت ہو جاتی ہے تو صوبے کی حکومت متعدد منصوبوں کو کاغذوں سے نکال کر عملی شکل دینے کے قابل ہو جائے گی ‘ این ایف سی ایوارڈ تیل اور گیس کی رائلٹی کیساتھ صوبے میں بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کیلئے گیس کی فراہمی بھی خیبر پختونخوا میں معیشت کے استحکام کیلئے معاون ہو گی کیا ہی بہتر ہو کہ مرکز اور صوبے کے سٹیک ہولڈر محکموں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے اور معاملات کو فوری طو ر پر نمٹانے کا پابند بنایا جائے خیبر پختونخوا حکومت اس ضمن میں جن صنعتی بستیوں اور دوسرے منصوبوں کاعزم رکھتی ہے ان کی تکمیل کیلئے بھی با اختیار اوورسائٹ ادارے کی ضرورت ہے۔

تنخواہوں میں اضافے پر غور

وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے پر غور کر رہی ہے وہ پروموشن ‘اَپ گریڈیشن کے کیس نمٹانے اور خالی اسامیاں جلد پرُ کرنے کا عندیہ بھی دیتے ہیں خیبر پختونخوا کا ملازمین کے مسائل کے حوالے سے احساس قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اس کا ثمر آور ہونا بروقت کاروائی سے مشروط ہے صوبے کے سرکاری ملازمین مالی سال 2017-18 کے بجٹ میں تنخواہوں میں مرکز کے مقابلے میں زیادہ اضافے کی توقع رکھے ہوئے تھے جس کا بار بار عندیہ بھی دیا جاتا رہا تاہم اضافہ مرکز ہی کے اعلان کے مطابق تھا اس ارضی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گرانی نے سب سے زیادہ تنخواہ دار طبقے کو متاثر کیا ہے ‘ سرکاری ملازمین کو طبی سہولیات کی فراہمی کا طریقہ کار بھی انتہائی پیچیدہ ہے اس کیساتھ سرکاری رہائشگاہوں سے متعلق مشکلات ریکارڈ کا حصہ ہیں حکومت کی جانب سے اپ گریڈیشن جیسے بڑے اعلان کے بعد بعض کیڈر اس سے محروم چلے آ رہے ہیں وزیراعلیٰ کو ملازمین کیلئے ریلیف یقینی بنانے کیلئے فوری طور پر قابل عمل تجاویز پر مشتمل پیکج طلب کرنا ہو گا تاکہ ان کے اعلانات اقدامات عملی شکل اختیار کر سکیں۔