بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / چینی ترقی نے آئی ایم ایف کو سوچنے پر مجبور کر دیا

چینی ترقی نے آئی ایم ایف کو سوچنے پر مجبور کر دیا

واشنگٹن ۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) نے کہا ہے کہ اگر چینی معیشت میں ترقی اور اصلاحات کا عمل جاری رہا تو آئی ایم ایف آئندہ دس سال میں یہاں اپنا دفتر قائم کر سکتا ہے، بڑی ترجیحات میں سے آئی ایم ایف کی ایک ترجیح یہ ہے کہ وہ آنیوالی دہائی میں اپنی رکن معیشتوں کی بہتر نمائندگی کرے۔یہ بات آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹائن لیگارڈے نے واشنگٹن کے تھنک ٹینک سینٹر برائے عالمی ترقی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی ۔

اگر ترقی کا رجحان جاری رہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض بڑی ترقی کرتی بڑی معیشتیں جو دباؤ کے تحت بھی ہو سکتی ہیں وہ اداروں کی بہتر طورپر ترجمانی کر سکیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کا امکان موجود ہے کہ آئی ایم ایف اپنا ہیڈ آفس بیجنگ منتقل کر دے ، اگر چینی معیشت میں ترقی کا عمل جاری رہتا ہے اور آئی ایم ایف میں بہتر نمائندگی کرتا ہے تو آئی ایم ایف اپنا ٹھکانہ بیجنگ میں بنا سکتا ہے اور اگر دس سال میں ہم یہ بات چیت کرلیتے ہیں تو ہم واشنگٹن ڈی سی میں نہیں بیٹھیں رہیں گے تو ہم یہ کام اپنے بیجنگ ہیڈ کوآرٹر میں بھی کر لیں گے ۔

آئی ایم ایف کے قواعد و ضوابط اداروں کے ہیڈ آفس کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ وہ بڑی معیشتوں کے حامل ممالک میں ہونے چاہئیں ، آئی ایم ایف نے 2010ء میں کوٹہ اور گورننس کے بارے میں اصلاحات کا عمل 2010ء میں شروع کیا تھا لیکن یہ اصلاحات اس وقت تک موثر ثابت نہ ہو سکیں جب تک امریکی کانگرس نے 2015ء میں منصوبے کی منظوری نہیں دیدی جب سے آئی ایم ایف کا قیام عمل میں آیا ہے ، اصلاحات آئی ایم ایف کی گورننس میں سب سے بڑی تبدیلی ہیں اور اس بات کا اعتراف ہے جو ترقی کرتی ہوئی مارکیٹ عالمی اقتصادیات میں بڑھتا ہوا کردار ادا کررہی ہے، دسمبر 2016ء میں آئی ایم ایف کے بورڈ آف گورنر نے ایگزیکٹو بورڈ پر زور دیا تھا کہ وہ کوٹے پر نظرثانی کے نئے دور پر کام کرے اور یہ نظرثانی 2019ء تک مکمل کر لی جائے ۔