بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / اسرائیل نے ہتھیار ڈال دیئے

اسرائیل نے ہتھیار ڈال دیئے

مقبوضہ بیت القدس۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کی مزاحمت کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے مسجد اقصی میں داخلی مقامات سے میٹل ڈٹیکٹرز ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے یروشلم میں مسلمانوں اور یہودیوں کے مقدس مقام کے انٹری پوائنٹس پر لگائے جانے والے میٹل ڈیٹیکٹرز کو ہٹا کر تلاشی کے لیے کم رکاوٹ پیدا کرنے والے جدید آلات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صہیونی کابینہ کے اجلاس میں سیکیورٹی اداروں کی سفارشات کو منظور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے رات گئے اعلان کیا کہ میٹل ڈٹیکٹرز ہٹا کر جدید ٹیکنالوجی کے دیگر آلات کو استعمال کیا جائے گا۔ اسرائیلی میڈیا نے خبر دی ہے کہ ایسے جدید کیمرے لگائے جائیں گے جو پوشیدہ اشیا کی نشاندہی کرسکیں گے۔صہیونی حکومت کی جانب سے مسجد اقصی میں مسلمانوں کے داخلے پر لگائی گئی ۔

پابندیوں پر فلسطینیوں نے سخت احتجاج کیا تھا جس کے دوران اسرائیلی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں جن میں تین فلسطینی شہید ہوگئے جب کہ فلسطینی مسلمانوں کے جوابی ردعمل میں تین یہودی بھی مارے گئے تھے۔فلسطینیوں کا موقف ہے کہ اسرائیل کی جانب سے میٹل ڈٹیکٹرز لگانے کا مقصد مقدس مقامات پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

واضح رہے کہ فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ہے لیکن ایک معاہدے کے تحت مسجد اقصی کے انتظامات کا کنٹرول اردن حکومت کے پاس ہے۔ گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا بند کمرہ اجلاس یروشلم کی صورتحال کے حوالے سے ہی ہوا۔

اجلاس کے بعد اقوام متحدہ کے سفیر نکولے ملادینو نے کہا کہ ‘یہ بہت اہم ہے کہ حالیہ کشیدگی کا حل آنے والے جمعے تک نکال لیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ اگر جمعے کو عبادت کا دور بغیر کسی حل کے گزر گیا تو زمینی صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘کسی کو بھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ مقامی نوعیت کے واقعات ہیں۔

درحقیقت شاید یہ چند سو مکعب میٹر پر ہے لیکن یہ دنیا کے اربوں نہیں تو لاکھوں افراد کو ضرور متاثر کر رہے ہیں تاہم فلسطینی میٹل ڈیٹیکٹرز کے لگانے کے فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ان کا موقف ہے کہ ایسا کرنے کے پیچھے اسرائیل کا مقصد مقدس مقامات پر کنٹرول حاصل کرنا ہے اور یہ ان مقامات تک رسائی حاصل کرنے کے دیرینہ انتظامات کی خلاف ورزی ہے۔بہت سے فلسطینیوں نیان میٹل ڈیٹیکٹرز سے گزر کر حرم الشریف میں داخل ہونے کے بجائے گلیوں میں نماز ادا کی۔اتوار کو اسرائیل نے مقدمس مقام کے داخلی راستے پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے۔خیال رہے کہ یہودیوں کے لیے یہ دو یہودی مزاروں کا مقام ہے جبکہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق یہ وہ جگہ ہے جہاں سے پیغمبر اسلام نے معراج کا سفر کیا تھا۔ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر اپنا قبضہ قائم کر لیا تھا۔اسرائیل فلسطینیوں پر اشتعال انگیزی کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ فلسطینی قیادت ان حملوں کا الزام دہائیوں سے اسرائیلی قبضے سے پیدا ہونے والی مایوسی پر عائد کرتی ہے۔