بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / چترال: شندور پولو فیسٹیول شروع ہونے میں دو دن باقی

چترال: شندور پولو فیسٹیول شروع ہونے میں دو دن باقی

پاکستان کے شمال میں واقع کوہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی ترچ میر کے دامن میں واقع مہمان نوازوں کی سرزمین اور صوبہ خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے ضلع چترال اور گلگت بلتستان کے بارڈر شندور میں ہرسال کی طرح اس سال بھی دنیا بھر کے سیاحوں کی خیمہ بستی آباد ہونے میں چند دن باقی رہ گئے ہیں۔

یہ خیمہ بستی ہرسال جولائی میں آباد ہوتی ہے، ہرسال کی طرح اس سال بھی 29 تا 31 جولائی پانچ روزہ شندور پولو فیسٹیول کا انعقاد کیا جارہا ہے جس کے لیے ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے شندور کا رخ کرلیا ہے۔

دلفریب مناظر کے امین شندور جسے دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے،اس میں پولو میچ کے انعقاد کو ساری دنیا میں خاص اہمیت اس لیے حاصل ہے کہ شندور کا پولو گراﺅنڈ دنیا کا سب سے بلند ترین گراﺅنڈ ہے جو کہ سطح سمندر سے 12 ہزار 350 فٹ بلندی پر واقع ہے۔

بعض مورخین کے مطابق اس پرفضا مقام پر پولو میچ کا آغاز 8 دہائیاں قبل 1936ء میں شاہ شجاع الملک کے زمانے میں چاندنی کی روشنی میں گلگت بلتستان اور چترال کے راجاﺅں کے درمیان ہوا، اسی لیے پولو کو کھیلوں کا بادشاہ اور بادشاہوں کا کھیل بھی کہا جاتا ہے جبکہ اس معروف گراﺅنڈ کو راجاﺅں نے (ماس جونالی) یعنی چاندنی کا میدان کا نام دیا ہے۔

گراﺅنڈ کے قریب ہی شندور جھیل ہے جو اس جگہ کی خوبصورتی کو مزید نکھار دیتی ہے، یہ کھیل کئی برسوں تک راجاﺅں کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا رہا اور مقبولیت کے بعد لاسپور،غذر، بروغل اور دیگر مقامی دیہات کے عمائدین کے درمیان بھی مقابلوں کا آغاز ہوگیا۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اسی کھیل کی بدولت گلگت بلتستان اور چترال کے لوگوں کے درمیان نہ صرف فاصلے سمٹنا شروع ہوئے بلکہ تجارتی تعلقات بھی استوار ہوگئے۔ بعض مورخین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یہ کھیل چار صدیو ں سے کھیلا جارہا ہے جسے چنگیز خان کی اولاد نے شروع کیا تھا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

اس کھیل کے لیے اعلیٰ نسل کے گھوڑے استعمال کیے جاتے ہیں جن کی دیکھ بھال اور پرورش پر ہر کھلاڑی ذاتی طور پر سالانہ 5 سے 6 لاکھ روپے خرچ کرتا ہے،  پولو میچ کے لیے استعمال ہونے والی چھڑی 45 سے 50 انچ طویل ہوتی ہے جس کے لیے مضبوط لکڑی پڑوسی ممالک سے درآمد کی جاتی ہے اور پھر ایک خاص مہارت سے پولو کی چھڑی کی شکل میں ڈھال دی جاتی ہے تاکہ کھیل کے دوران اس کے ٹوٹنے کا خدشہ نہ رہے۔

اس کھیل کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں استعمال ہونے والی گیند بھی لکڑی کی تیار کردہ ہوتی ہے جو کہ شاہبوت کی لکڑی کو رگڑ کر بنائی جاتی ہے۔ آغاز میں اس کھیل میں ہر راجہ کی طرف سے 100 کھلاڑی حصہ لیا کرتے تھے لیکن اب ہر ٹیم صرف 6 کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔

مورخین کا ماننا ہے کہ اس کھیل کو شروع کرنے کا مقصد صرف اور صرف بادشاہوں کی فوج کو چاک و چوبند اور تندرست رکھنا تھا اسی لیے ہر میچ میں 200 کھلاڑی حصہ لیا کرتے تھے۔ اس کھیل کی سب سے منفرد اور انوکھی بات یہ تھی کہ یہ دنیا کا وہ واحد کھیل تھا جس میں کوئی قواعد و ضوابط نہیں تھے اور ماضی میں کھیل کے دوران کسی بھی کھلاڑی کو سر پر چھڑی مار کر قتل کردینا کوئی انوکھی بات نہیں سمجھی جاتی تھی جبکہ کھلاڑی کو گھوڑے سے گرا کر کچل دینا بھی معمولی بات تھی۔

بآلفاظ دیگر کہا جاسکتا ہے کہ کھیل کا ایک ہی اصول تھا کہ اس میں کوئی اصول نہیں تھا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کھیل کے قوانین بنائے گئے اور انہیں لاگو کیا گیا اور اب کھلاڑی کو چھڑی سے مارنا فاﺅل قرار دیا جاتا ہے لیکن کھلاڑی کو گھوڑے سے مارنا اور گرادینا اب بھی کھیل کا حصہ ہے۔ ہر سال جولائی میں منعقد ہونے والے اس پولو میچ کو دیکھنے کے لیے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے سیاح بڑی تعداد میں اس جنت کا رخ کرتے ہیں۔

شندور چونکہ دنیا کا سب سے اونچا پولو گراﺅنڈ ہے اس لیے یہاں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے لیکن اس رسک کو بالائے طاق رکھ کر غیر ملکی سیاح پر پیچ راستوں سے ہوتے ہوئے بادشاہوں کا کھیل دیکھنے یہاں ضرور آتے ہیں۔ محکمہ سیاحت کی جانب سے اس کھیل کی سرپرستی کئی برس سے جاری ہے لیکن کھلاڑیوں کے لیے گھوڑوں کی دیکھ بھال اور پرورش کے لیے کوئی رقم مقرر نہیں کی گئی جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو مالی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔