بریکنگ نیوز
Home / سائنس و ٹیکنالوجی / گوگل سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی سیر

گوگل سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی سیر

ہیوسٹن، ٹیکساس: زمین سے 400 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں گردش کرنے والے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک جانے کے لیے راکٹ اور انسان بردار خلائی جہاز کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ایسی صرف ایک پرواز پر اربوں پاکستانی روپوں جتنی لاگت آتی ہے یعنی صرف وہی لوگ وہاں کی سیر کر سکتے ہیں جو ارب یا کھرب پتی ہوں۔ لیکن اب گوگل نے عوام کی یہ مشکل بھی آسان کر دی ہے۔

گوگل نے امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ کے تعاون سے اپنی مشہورِ زمانہ ’’اسٹریٹ ویو‘‘ کی سہولت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) تک وسیع کر دی ہے یعنی اب آپ گھر بیٹھے بالکل اسی طرح سے آئی ایس ایس کی سیر کرسکتے ہیں جیسے آپ خود وہاں موجود ہوں۔

اس مقصد کے لیے ناسا کی آفیشل ویب سائٹ اور گوگل اسٹریٹ ویو، دونوں پر لنکس شامل کر دیئے گئے ہیں جن پر کلک کرنے کے بعد آپ کے سامنے آئی ایس ایس کا اندرونی منظر آ جاتا ہے۔

تصویر کے مختلف حصوں پر کرسر رکھنے سے وہاں کنٹرولز نمودار ہو جاتے ہیں جن کے ذریعے اسکرول کر کے آپ اس منظر کی سمت تبدیل کر سکتے ہیں اور اسے اوپر نیچے، دائیں بائیں، غرض ہر زاویئے سے دیکھ سکتے ہیں۔ زیادہ صحیح الفاظ میں یہ تمام تصاویر 360 قسم کی ہیں۔

علاوہ ازیں تیر کے نشان والے کنٹرولز کے ذریعے آپ خلائی اسٹیشن میں آگے بھی بڑھ سکتے ہیں جبکہ دائیں بائیں یا اوپر نیچے والے کمروں (کمپارٹمنٹس/ ماڈیولز) میں بھی داخل ہوسکتے ہیں۔

آئی ایس ایس کا بیشتر حصہ آپ کو انسانوں سے خالی نظر آئے گا جبکہ صرف چند مقامات پر زیادہ تعداد میں خلانورد دکھائی دیں گے۔ سائنس فکشن فلموں کے برعکس، خلائی اسٹیشن کا حقیقی ماحول اسی طرح کا ہوتا ہے۔

البتہ جب آپ ایسے کسی حصے میں پہنچیں گے جہاں شیشے سے بنی کھڑکیاں ہیں تو سامنے ہی آپ کو زمین یا خلاء کا خوبصورت منظر بھی کھڑکی سے جھانکتا ہوا نظر آئے گا۔

گوگل اسٹریٹ ویو کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی مجازی سیر (ورچوئل ٹور) اگرچہ حقیقت میں وہاں جانے کا نعم البدل تو نہیں لیکن پھر بھی اس کی بدولت آپ خلاء میں موجود اس انسانی شاہکار کو نہایت تفصیل سے اس طرح دیکھ سکتے ہیں کہ جیسے پہلے کبھی ممکن ہی نہ تھا۔