بریکنگ نیوز
Home / کالم / سفرالاسکا کہاں سے آگیا

سفرالاسکا کہاں سے آگیا

آخر یہ سفر الاسکا کہاں سے آگیا؟وہ سرزمین جہاں بیشتر امریکی بھی نہیں گئے۔ جہاں برف پڑتی ہے اور اسکیمورہتے ہیں جہاں آرکٹک سرکل ہے اور جسے ’’آخری سرحد‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جیسے کے ٹُو کی جانب کوہ نوردی کرتے ہوئے اشکولے تہذیب کا آخری گاؤں ہے اور اس سے پرے ویرانوں اور برفوں کے سوا کچھ نہیں۔۔ ایسے ہی یہ الاسکا کہاں سے آگیا۔

دراصل گھر سے نکلتے ہوئے میرے ذہن میں صرف امریکہ اور کینیڈا تھا۔۔ بے شک الاسکا بھی امریکہ کی ہی ایک ریاست ہے لیکن پھر بھی امریکہ نہیں ہے۔ یہ امریکہ کا حصہ نہیں ہے۔ اگر آپ نقشہ دیکھیں تو آپ کے سامنے امریکہ کا حجم ہے۔ اس کے برابر میں کینیڈا پھیلا ہوا ہے اور اس کے برابر میں امریکہ کا یہ حصہ الاسکا ہے یا تو آپ وہاں تک بائی ائیر جاسکتے ہیں اور اگر آپ زمینی سفر اختیار کرنا چاہتے ہیں اور آپ ایک امریکی ہیں تو بھی آپ امریکہ سے کینیڈا میں داخل ہوں گے اور پھر کم ا زکم چار دن کے مسلسل سفر کے بعد الاسکا کی سرحد پر پہنچیں گے۔ اور یہ سفر دراصل کینیڈا کے شہر ڈاسن کریک سے شروع ہوگا جہاں سے مشہور زمانہ الاسکا ہائی وے کا آغاز ہوتا ہے جو تقریباً ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طویل ہے۔ چنانچہ الاسکا میرے منصوبوں میں شامل نہ تھا۔۔ ہو بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک توبائی روڈ وہاں تک پہنچنا ایک مسئلہ تھا کہ وہاں تک کوئی بس یاریل گاڑی براہ راست نہیں جاتی اور اس کے علاوہ یہاں مریکہ کی مہنگی ترین ریاست ہے۔ نیویارک سے بھی زیادہ مہنگی جہاں ایک آملیٹ اور آلو کے قتلوں کا ایک ناشتہ آسانی سے ایک ہزار روپے پاکستانی میں نصیب ہوتا ہے لیکن ٹورنٹو میں کچھ ایسے بندوبست ہوگئے کہ الاسکا کا خواب ممکن نظر آنے لگا۔ دراصل میرے پاس دو راستے تھے۔

ایک تو یہ کہ میں ایک سولہ روز کے ایسے ٹور میں شامل ہوجاؤں جو مجھے امریکہ کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں لے جائے جن میں شکاگو، لاس اینجلس، لاس ویگاس، بوسٹن اور ٹیکساس کی ریاست کے علاوہ گرینڈ کینین کے خطے شامل تھے اور یا پھر میں صرف الاسکا جاسکتا تھا۔ میرے لئے ان دونوں ممکنات میں سے ایک کا چناؤ چنداں دشوار نہ تھا میں امریکہ کے یہ بڑے شہر کسی بھی وقت دیکھ سکتا تھا لیکن الاسکا شائد کبھی نہ دیکھ پاتا کیونکہ اس کے سفر کیلئے جو ہمت درکار تھی اس نے ہر لمحے اب کم ہوتے جاتا تھا تو بس یہی دن تھے جب میں ایسے سفر کا خطرہ مول لے سکتا تھا۔ یوں بھی میرا دل ویرانوں اور بیابانوں میں ہی آباد ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ اس سے پیشتر کہ بڑھتے برس اور گھٹتی عمر مجھے لاچار کردیں۔ میں قدرت کے ایک ایسے بے انت معجزے کو دیکھ لوں جسے کم لوگوں نے دیکھا ہے۔

مانٹریال اور آٹوا میں قیام کے بعد میں ٹورنٹو پہنچا ۔ٹورنٹو میں جس کسی سے بھی الاسکا کا تذکرہ کیا اس نے مجھے حیرت اور تشویش سے دیکھا اور شائد مجھے فاتر العقل جانا جوکہ میں ہوں۔۔ کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ ملا جو الاسکا کے بارے میں معلومات فراہم کرسکتا کہ ان میں سے کوئی بھی وہاں نہیں گیا تھا۔ البتہ اشفاق حسین ایک ایسا شخص تھا جس نے میری ہمت بندھائی کہ وہ میرے شوق آوارگی سے خوب واقف تھا۔ میں نے جرمن کونسل جنرل کے ہاں سے اپنا ویزا وصول کیا جو صرف پانچ روز کیلئے تھا اور اگلے روز اشفاق مجھے ایئر پورٹ پر چھوڑ آیا۔۔

الاسکا کا نُور جس میں کچھ اور انجانے لوگ بھی شامل تھے، کیلگری کے قریب ایڈمنٹن سے شروع ہونا تھا۔۔
کیلگری کینیڈا کے دیگر مشہور شہروں سے قدرے مختلف ہے۔۔ ایک تو وہ ان سے نصف جہاں کے فاصلے پر ہے۔ وہاں کے باشندے ٹورنٹو کا تذکرہ ایسے کرتے ہیں جیسے ہم کھٹمنڈو کا کرتے ہیں بلکہ یہ موازنہ درست نہیں کہ کھٹمنڈو تو دو گھنٹے کے اندر اندر پہنچاجاسکتا ہے۔ یہ ایک بہت پھیلا ہوا اور کھلا شہر ہے اس کی کوئی خاص شناخت نہیں سوائے اس کے کہ یہاں آئل اور گیس کے امکانات ہیں اور یہ کینیڈا کے سب سے پرکش حصے برٹش کولمبیا کا صدر دروازہ ہے یہاں سے آگے حیرت کے بلند اور شاندار جہان ہیں۔ ذاتی طورپر مجھے ہمیشہ یہ ایک اداس اور تنہا شہر لگا اور اس کے باسی بھی مجھے ایسے ہی لگے۔حسب معمول یہاں بھی سردار برادری زیادہ ہے اور پاکستانی نہایت قلیل تعداد میں۔۔ پچھلے برس کی مانند اس برس بھی بینش سید نے میری مہمانداری کی۔۔ بینش اور اس کا خاندان ایک عرصے سے یہاں سکونت پذیر ہے۔ چونکہ میرا قیام اس شہر میں صرف شب بھر کا تھا اس لئے اس نے میری خاطر مدارات میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور رات کے کھانے کیلئے مجھے کیلگری ٹاور کی بلندی پر واقع گھومتے ہوئے ریستوران میں لے گئی جہاں سے برٹش کولمبیا کے حیرت میں گم کر دینے والے پہاڑی سلسلے نظر آنے لگتے ہیں۔ اس گھومتے ہوئے ریستوران میں کھانے کی قیمتیں آپ کو مزید گھما دیتی تھیں۔ اور کھانے کے بعد بیس ڈالر کے ٹپ نے مجھے بہت زیادہ گھما دیا لیکن بینش ایک ایسی ہی لاپروا اور فضول خرچ لڑکی ہے۔ ۔ وہ یہاں کی یونیورسٹی سے ایم بی اے کرنے کے بعد ’’وال مارٹ‘‘ سٹور میں برانچ منیجر ہے۔ اپنے کینیڈین ہونے پر فخر کرتی ہے۔ جہاں بھی اسے ’’البرٹا‘‘ کی کارنظر آجائے اس کی نمبر پلیٹ کو سلام کرتی ہے لیکن اس کے باوجود شدید طورپرپاکستانی ہے۔ کار میں ایک پاکستانی پرچم جھولتا رہتا ہے اور لکشمی چوک کے کھانے کی یاد میں آہیں بھرتی ہے اردو ادب سے شدید لگاؤ ہے اور اس کی لائبریری میں قطار اندر قطار اردو ادب کی کتابیں سجی ہیں۔ میری تحریریں ہی اس کے ساتھ رابطے کاسبب بنیں۔ گفتگو کے دوران مجال ہے کہ انگریزی کا ایک لفظ بھی بول جائے اور جب انگریزی بولتی تھی تو مجال ہے مجھے ایک لفظ بھی سمجھ آجائے۔

اگلی سویر وہ مجھے ایڈمنٹن چھوڑ آئی جہاں سے میرے سفر الاسکا کا آغاز ہونا تھا۔ اس مختصر کالم میں اتنی گنجائش نہیں کہ اس میں الاسکا اور کینیڈا کی حیرت بھری وادی ’’بوکان‘‘ کی تفصیل اور وسعت بیان ہوسکے۔ یوں بھی یہ بیس روز منظروں کے درمیان میں سے سفر کرتے گزرے۔ اگرچہ کچھ ہم سفر بھی تھے لیکن وہ سب کے سب پس منظر میں چلے گئے۔ میں اپنے تئیں سعی تو کروں گا کہ الاسکا کو بیان کروں لیکن کوئی بھی سفرنامہ تحریر کرنے سے پیشتر مجھے اتنی مشکل کا سامنا نہ تھا کہ مسلسل مناظر کو کیسے تحریر کیاجائے۔ دورافتادہ قصبوں، جھیلوں، جنگلوں اور سات ریچھوں کو کیسے بیان کیاجائے۔ تو میں بیان نہیں کررہا۔۔
الاسکا سے واپسی پر برٹش کولمبیا کے پرکشش سمندری شہر وکٹوریہ میں قیام کے بعد میں کیلگری واپس آیااور اگلے روز میں کیلگری سے براہ راست فرینکفورٹ جا رہا تھا جہاں سے مجھے پاکستان کی نمائندگی کرنے کیلئے برلن جانا تھا۔اور یہ فلائٹ بھی دس گھنٹے کی تھی اور مجھے خوشی تھی کہ میرے اور پاکستان کے درمیان فاصلے کم ہو رہے ہیں۔