بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / طب کی تعلیم اور مواقع!

طب کی تعلیم اور مواقع!


پچیس جولائی کی اشاعت میں ’اِنٹری ٹیسٹ‘ کے حوالے سے گزارشات کا مقصد یہ تھا کہ طلباء و طالبات کی قابلیت جانچنے کے اِس معیار پر غوروخوض کیا جائے۔ اِس سلسلے میں قارئین کی جانب سے توجہ دلائی گئی ہے کہ ’اِنٹری ٹیسٹ‘ کی تیاری کرانیوالے اِداروں کے معیار کی بھی جانچ ہونی چاہئے کہ ’انٹری ٹیسٹ تیاری‘ کے نام پر چلنے والے متوازی نظام کے ضوابط‘ اقدار و اخلاقیات کیا ہیں؟ تربیت کا معیار کیا ہے؟ کوچنگ سنٹرز سے وابستہ تربیت کاروں کی اہلیت کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ’انٹری ٹیسٹ کوچنگ مراکز‘ اپنی کامیابی کیلئے جائز و ناجائز ذرائع کا استعمال کرتے ہوں۔ سوالنامہ یا سوالنامے کے کچھ حصے ’آؤٹ کر دیئے جاتے ہوں اور یوں ’اِنٹری ٹیسٹ کوچنگ سنٹرز‘ سے تحصیل یافتہ اُمیدواروں کو فائدہ ہو رہاہو؟ یہ بھی ممکن ہے کہ ’کوچنگ سنٹرز‘ کی ساکھ و شہرت میں اِضافہ کرنے کیلئے بھی اِمتحانی پرچہ جات اور سوالات کی ’فروخت‘ کی جاتی ہو!؟ فیصلہ سازوں نے کس طرح تصور بھی کر لیا ہے کہ سب کچھ قابل بھروسہ ہے اور دال میں کچھ بھی کالا نہیں۔ ایک ایسا ’اَنوکھا اِمتحانی نظام‘ جس کے بارے میں اُمیدواروں کی واجبی معلومات ہونے کے باوجود بھی کامیابی کی شرح غیرمعمولی رہتی ہے ‘ ویسے بھی حکومتوں کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ ’عوام کے وسیع تر مفاد‘ میں متعلقہ اِدارے اور اِہلکاروں کی کارکردگی کو ’مسلسل شک‘ کی نگاہ سے دیکھیں اور کسی بھی صورت مطمئن نہ ہوں کیونکہ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے کہ اِس میں اہلیت پر سمجھوتہ نہ صرف اہل افراد کی حق تلفی ہوتی ہے بلکہ نااہل افراد کو آگے بڑھنے کے مواقع دینے سے مستقبل میں ترقی اور خدمات کی فراہمی کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے‘ ۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق پچاس فیصد طالبات طب (میڈیکل) کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مختلف وجوہات کی بناء پر اِس شعبے سے عملی طور پر الگ ہو جاتی ہیں‘ جن میں اُن کی شادیاں سرفہرست محرک ہے‘ طب کی اِس پانچ سالہ تعلیم کا سلسلہ انٹرمیڈیٹ پاس کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے لیکن اگر نصابی تبدیلیاں کی جائیں تو نہم اور دہم کلاسز ہی سے طب کی تعلیم شروع کی جاسکتی ہے۔ یوں نصابی تعلیم کابوجھ بھی بٹ جائے گا اور ڈاکٹر بننے کے بعد خواتین کے لئے ممکن رہے گا کہ وہ کم سے کم دو برس تک بطور ڈاکٹر عملی زندگی میں حصہ لے سکیں۔ خیبرپختونخوا میں نجی میڈیکل کالجوں کی کل تعداد 9 ہے جن میں مجموعی طور پر 850 طلباء و طالبات کو ہر سال داخلہ دیا جاتا ہے۔

تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت کے دور میں ’29 اگست 2016ء کے روز باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں ہوئی تقریب کے دوران کہا گیا کہ آئندہ ماہ ’گجو خان میڈیکل کالج صوابی‘ کیلئے کلاسز کا باقاعدہ اجرأ کردیا جائیگا اور خیبرپختونخوا میں حکومتی میڈیکل کالجز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا‘‘ لیکن کیا ایسا عملاً ہوا؟ ’پی ایم ڈی سی‘ کی ویب سائٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں آٹھ سرکاری میڈیکل کالجز ہیں۔ سرکاری اور نجی کالجز میں مجموعی طور پر پانچ ہزار سے کم طلباء و طالبات کو ہرسال داخلہ ملتا ہے تو 33 ہزار سے زیادہ اُمیدواروں سے ’اِنٹری ٹیسٹ‘ لینے کی ضرورت کہیں محض آمدنی کیلئے تو نہیں؟ ڈاکٹروں کی کمی ہے تو کیا ڈاکٹر آسمان سے گریں گے یا ہمیں طب کی تعلیم عام کرنا ہوگی تاکہ افرادی وسائل کی یہ کمی ختم کی جاسکے؟ پورے خیبرپختونخوا کے لئے ایک جیسے انٹری ٹیسٹ کا انعقاد ہر ضلع میں کیوں نہیں ہوسکتا اور ہر ضلع کی آبادی کے تناسب سے میڈیکل کالجز کی فراہمی آخر کس کی ذمہ داری ہے؟