بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / جھوٹ کی لعنت

جھوٹ کی لعنت

گزشتہ روز میرے پاس ایک ڈاکٹر صاحب اپنے کسی دوست کے بیٹے کو لے کر آئے‘ان کیساتھ آنیوالا ایک اٹھارہ سالہ نوجوان ارشد تھا۔ کئی سال قبل اُس نے اپنی کلائی پر بلیڈ سے چیرے ڈالے تھے۔ لڑکپن اور نوجوانی میں کئی لوگو ں میں ضد آجاتی ہے اور وہ کلائی پر ہلکے چیرے ڈال کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا وہ خودکشی کررہے ہیں۔ اسلئے جب بھی کوئی ہوشیار شخص کسی نوجوان کی کلائیوں پر یہ نشان دیکھتا ہے تو اس سے دور رہنے کی کوشش کرتاہے اور یوں یہ نشانات ایک طعنہ بن جاتے ہیں۔ ارشد بھی اب پشیمان تھا لیکن ایمرجنسی یہ ہوگئی تھی کہ وہ چلا فوج میں بھرتی ہونے۔ وہاں فوج کے بھی کچھ لکھے لکھائے قوانین ہوتے ہیں جن کیخلاف کوئی نئی ریکروٹ منٹ نہیں کی جاسکتی ‘چنانچہ یہ نشانات ارشد کیلئے ناقابلیت بن گئے۔وہ انہی نشانوں کو مٹانے کیلئے آیا تھا‘ میں نے دو تین طریقے بتائے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی جتلادیا کہ ہر آپریشن کے اپنے کچھ نشان ضرور رہ جائیں گے۔ اس موقع پر ڈاکٹر صاحب بولے کہ ہاں ارشد! اگر کوئی پوچھے تو تم بتا دینا کہ یہ جل گیا تھا۔ میں فوراً اپنی سیٹ میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے سامنے بیٹھے ڈاکٹر کو دیکھنے لگا۔ بظاہر خدا سے ڈرنے والا اور ہر وقت تسبیح پر ذکر کرنے والا کس دھڑلے سے اُس نوجوان کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دے رہا تھا۔

مجھے اپنی طرف گھورتے دیکھ کر ڈاکٹر صاحب نے استفسارانہ انداز میں میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا کہ بھلے میاں، ارشد کی عملی زندگی کی ابتدا ء ہے اور آپ ابھی سے اُسے جھوٹ سکھارہے ہیں۔ یہ جھوٹ بول کر اگر ملازمت حاصل کرلے گا تو ساری زندگی اپنی ملازمت میں جھوٹ بولتا رہے گا۔ خدا را اس نئے ذہن کو ابھی سے جھوٹ کا عادی نہ بنوائیے۔ میں نے یہ بھی کہا کہ جھوٹ بولے بغیر بھی یہ اپنے لڑکپن کی غلطی چھپا سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ اس ہاتھ کا آپریشن ہوا تھا، اور بس۔ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے مجھے پہلے جھوٹے میڈیکل سرٹیفیکیٹ کا بڑا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کوئی شخص دُبئی سے چھٹی لے کر آیا اور زیادہ دن گزارلیے تو میڈیکل سرٹیفیکٹ اُسے اپنا سب سے آسان بہانہ لگا۔ کسی نے امتحان کا پرچہ چھوڑ دیا، میڈیکل سرٹیفیکٹ کیلئے حاضر‘ میں نے اپنے ہاؤس جاب کے زمانے سے قسم کھائی ہوئی ہے کہ کبھی جعلی کاغذ نہیں لکھوں گا۔ اب تو زیادہ تر میرے واقف میرے اصول سے واقف ہیں تو وہ اس سلسلے میں میرے پاس آتے ہی نہیں۔ تاہم کبھی کبھار عام مریض اس قسم کا مطالبہ کربیٹھتے ہیں تو میں ان کو سمجھاتا ہوں کہ دیکھیں یہ جھوٹی گواہی ہے جس کیلئے بہت بڑا وبال ہے۔ یہ گناہِ کبیرہ ہے۔ میرے بعض دوست کسی اور کیلئے یہی سرٹیفیکٹ مانگنے آتے ہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا میں ان کا دوست نہیں کہ وہ مجھے جہنم کی آگ میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ جھوٹ تمام جرائم کی جڑ ہے۔ آج اگر ہمارے حکمران پانامہ کیس میں پھنسے ہوئے ہیں تو وہ صرف جھوٹ کی وجہ سے۔ ہماری ہر حکومت اتنا جھوٹ بولتی ہے کہ اب عوام بھی کسی سرکاری اعلان یا دعوے پر یقین نہیں رکھتی‘ یہ جھوٹ ہماری خمیر میں ڈالی گئی ہے۔

سب سے پہلے تو بچے کو یہی سکھایا جاتا ہے کہ اگر دروازے پر کوئی ابّو کے بارے پوچھے تو جھوٹ بول کر کہا جاسکتا ہے کہ وہ نہیں ہے۔ انگلینڈ میں ایک دفعہ ایک بچے کو کینولا لگاتے وقت میں کہہ بیٹھا کہ درد نہیں ہوگا تو نرس نے فوراً میری بات کاٹی اور میری طرف غصے سے دیکھ کر کہا کہ’ درد ہوگا لیکن کم اور بہت ہی مختصر وقت کیلئے‘۔جبکہ یہاں بچے کو ڈاکٹر سے ڈرایا جاتا ہے کہ ابھی انجکشن لگائے گا۔ میں نے اپنے پاس لالی پاپ کا ڈبہ رکھا ہوتا ہے اور ہر مریض بچے اور اسکے ساتھ آنیوالے دوسرے بچوں کو بھی، مریض کا معائنہ شروع کرنے سے پہلے لالی پاپ دیتا ہوں۔ ایک طرف تو ہر عام و خاص بے مقصد بھی جھوٹ بولنے کا ماہر ہے لیکن جب ہر دفتر میں وہ ہر فارم کی تصدیق در تصدیق کے مراحل سے گزرتا ہے تو شکوہ کرتا ہے کہ حکومت نے ہماری زندگی کاغذات کی تصدیقوں میں گزار دی ہے۔ بچے کو سکول میں داخل کرتے وقت عمر آگے پیچھے کرنا عام ہے۔ بچے کی غیر حاضری کو جائز قرار دینے کیلئے سچ بولنے کی بجائے جھوٹ موٹ کا بہانہ بنایا جاتا ہے‘ وقتی فائدے کیلئے جھوٹ کو تو بُرا سمجھا ہی نہیں جاتا۔ میرے پاس انڈونیشیا سے ایک پلاسٹک سرجن ’اندری‘ ٹریننگ کیلئے آئی ہوئی ہے۔

پچھلے ہفتے اسے ایک کورس کیلئے فیس جمع کروانی تھی۔ اُس کورس کی اچھی خاصی فیس تھی لیکن ٹرینی ڈاکٹروں کیلئے بہت کم تھی جبکہ کوالیفائیڈ پلاسٹک سرجنوں کیلئے اسکے ڈبل تھی۔ جب اندری نے کنسلٹینٹ کی فیس نکالی تو سیکریٹری نے اُسے بتایا کہ وہ ٹرینی کے نام سے رجسٹریشن کرواکر دس پندرہ ہزار روپے بچاسکتی ہے۔ لیکن اندری نے انکار کرکے پوری فیس جمع کردی۔ میرے پاس واپس آئی تو بہت حیران تھی کہ کیسے اتنے ذمہ دار افراد نے اسے جھوٹ بولنے کی ترغیب دی۔ کاروبار کی دنیا میں وہی لوگ طویل عرصے کے لئے کامیاب رہتے ہیں جو کردار سے عوام کو اپنی سچائی باور کراتے ہیں‘ایک غیر مسلم کیلئے ہماری عبادات بے معنی ہیں اگر ہمارے معاملات جھوٹ کا پلندہ ہوں۔