بریکنگ نیوز
Home / کالم / بڑی دور کی سوجھی

بڑی دور کی سوجھی


سید خورشید شاہ کو یہ گمان ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور عمران خان دونوں نا اہل ہو جائیں گے اور سیاست میں اس سے جو بہت بڑا خلا پیدا ہو گا اس کا فائدہ پی پی پی بلاول کی قیادت میں آئندہ الیکشن کے دوران اٹھا سکے گی وہ فوری الیکشن کے بھی خواہشمند نظر نہیں آتے کہ پی پی پی اس معرکہ کے لئے ابھی ذہنی اور انتظامی طور پر تیار نظر نہیں آ رہی احتساب کی تلوار اگر واقعی چل جاتی ہے تو خورشید شاہ سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ کل کلاں زرداری صاحب بھی نہیں بچ سکیں گے اس لئے پی پی پی کے کئی وفادار ساتھیوں کے خیال میں اگر سابق صدر پاکستان اپنے آپ کو پی پی پی سے ایک فاصلے پر رکھیں تو یہ ان کے لئے بھی موزوں ہو گا اور ان کی پارٹی کیلئے بھی بلاول کو جب انہوں نے میدان کا رزار میں دھکیل ہی دیا ہے تو پھر اسے اپنے ہنر آزمانے کا پورا پورا موقع دیں ویسے خدا لگتی یہ ہے کہ جہاں تک اس ملک کے عام آدمی کا تعلق ہے وہ بلا امتیاز و تمیز سب کااحتساب چاہتا ہے ماضی کے احتسابوں کی طرح نہیں بلکہ کڑوا اور بے رحمانہ قسم کا احتساب جن جن رہنماؤں نے اس ملک کو مختلف انداز سے لوٹا ہے نہ صرف یہ کہ ان کو بے نقاب کرنا ضروری ہے ان کی پراپرٹی کو بحق سرکار ضبط کرکے نیلام عام کرنا بھی ضروری ہے تاکہ آئندہ اس ملک میں جو شخص بھی سیاست میں آنا چاہئے وہ ہر وقت وضو میں رہے اور ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھائے ان لوگوں کو سیاست کے میدان میں گھسنے نہ دیا جائے جو بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر کیلئے‘ محل نما سرکاری بنگلوں میں رہائش کے لئے اور پیچش جیسی معمولی بیماری کے علاج کیلئے یورپ اور امریکہ سرکاری خرچے پر علاج کرنے کے لئے سیاست میں آتے ہیں۔

اورکروڑوں روپے الیکشن کی مہم پر خرچ کر ڈالتے ہیں عام آدمی کے لئے وہ سب سیاسی طالع آزما جو اس وقت سیاست کے اکھاڑے میں موجود ہیں برابر ہیں نہ نظریاتی لوگ اب باقی رہے اور نہ نظریاتی سیاسی پارٹیاں ۔سیاست بھی دیگر صنعتوں کی طرح ایک بڑی انڈسٹری بن چکی ہے ایک نہایت ہی منافع بخش انڈسٹری اس میں جتنی زیادہ سرمایہ کاری کرو اتنا زیادہ منافع حاصل کیاجا سکتا ہے ضیاء الحق نے جو چند اچھے کام کئے تو ان میں آرٹیکل 62 اور63 کا آئین میں اضافہ شامل ہے اب یہ آرٹیکلز ہمارے اکثر سیاستدانوں کے گلے پڑگئے ہیں یہ ان کو تنگ کر رہے ہیں ان کا بس نہیں چلتا کہ ان کو آئین کی کاپی سے پھاڑ کرباہر نالی میں پھینک دیں یہ تو ریٹرننگ افسر کا الیکشن کے دوران امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کرنے کے وقت ڈیوٹی ہے کہ وہ ان آرٹیکلز کا سختی سے اطلاق کرے ، اس آرٹیکل کی وجہ سے بہت سے ایسے لوگ اسمبلی میں آنے سے رہ جاتے ہیں جو صادق اور امین نہیں ہوتے ‘خدشہ یہ ہے کہ کہیں عوام سے مخفی رکھ ہماری پارلیمنٹ ان آرٹیکلز کو یکدم آپس میں ملی بھگت کرکے کالعدم ہی قرار نہ دے دے اس قسم کی حرکت پر سول سوسائٹی اور ان سیاسی عناصر کو کڑی نظر رکھناہو گی کہ جو چاہتے ہیں کہ اس ملک کی سیاست کو صاف شفاف اور ستھرا بنایا جائے سید خورشید شاہ دل ہی دل میں آئندہ الیکشن میں اپنی پارٹی کی کامیابی کے خواب تو دیکھ رہے ہیں۔

لیکن پیپلز پارٹی سندھ میں نیب کی عملی داری کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہے ؟ واقفان حال کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ نیب آرڈی نینس کی جگہ جو نیا مسودہ قانون صوبے میں لا رہی ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے رہنماؤں اور حامیوں کو نیب کی پکڑ سے بچا سکے اس وقت سندھ کے موجودہ وزیر قانون ضیاء الحق ‘ وزیر زراعت انور سیال وزیر صحت سکندر اور سابق وزراء شرجیل میمن‘ پیر مظہر الحق ‘ ڈاکٹر عاصم اور کراچی بلڈنگ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل منظور کاکا پرمختلف مقدمات ہیں نیا قانون لا کر سندھ کی حکومت ان کو جیل کے کٹہرے سے بچانا چاہتی ہے اگر نیب کے قانون میں بقول سندھ حکومت کوئی سقم ہے تو اسے دور کیا جائے بجائے اس کے کہ اس کو جڑ سے ہی اکھاڑ دیا جائے ہاں اس میں سے پلی بارگین کی شق جسے عرف عام میں مک مکا کہتے ہیں کو ضرور منسوخ کیا جانا چاہئے کہ اس سے اب تک سینکڑوں لوگ ناجائز فائدہ اٹھا کر جیل کی سلاخوں سے اپنے آپ کو بچا چکے ہیں‘احتساب میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ یہ ملکی نظام کا اہم ترین عنصر ہونا چاہئے، اسی وجہ سے ادارے مضبوط ہوں گے اور اس کے نتیجے میں ملک کی معیشت مستحکم بنیادوں پر استوار ہوگی، تاہم احتساب کو بے لاگ اور تمام کے لئے برابری کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔