بریکنگ نیوز
Home / کالم / انٹری ٹسٹ کیوں؟

انٹری ٹسٹ کیوں؟

جب تک تعلیم میں نصاب میں علم کا حصول نقطہ نظر تھا کبھی یہ خیال بھی نہیں ہوا تھا کہ جو بچے ایف ایس سی کا امتحان پاس کرتے ہیں اُن کو پروفیشنل کالجوں میں داخلے کے لئے کوئی ٹیسٹ بھی دینا ہو گا۔ (ہماری دفعہ تک تو سیکنڈ کلاس طلباء بھی انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں دخلہ لے لیا کرتے تھے) سادہ سی بات تھی کہ جو بچے امتحانات میں اچھے نمبر لے کر پاس ہوتے ہیں وہ میڈیکل اور انجینئرنگ کالج میں داخلے کیلئے اپلائی کرتے ۔ حاصل کردہ نمبروں پر میرٹ لسٹ بن جاتی اور سیٹوں کے مطابق بچوں کو داخلہ مل جاتا۔ جو بچے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں داخلے کے اہل ہوتے وہ واقعی اس قابل ہوتے کہ وہ یہ علم حاصل کر سکیں۔ان کالجز کے اساتذہ کو یہ کبھی شکایت نہ ہوئی کہ ان میں داخلہ لینے والے بچے اس قابل نہیں ہیں۔مگر جب بات ٹیکسٹ بکس کی جانب چلی گئی تو اس میں بچوں کو ڈھیروں نمبر تو ملنے شروع ہو گئے مگر اس میں علم کا فقدان ہو گیا۔وجہ یہ ہوئی کہ ٹیکسٹ بکس میں سے جو پرچہ تیار ہوتا وہ بچوں کے آدھی کتاب کا علم بھی آٹھ نو سو نمبر لینے کیلئے کافی ہوتا ہے۔یہ میراذاتی تجربہ ہے کہ جو بچے ایف ایس سی کا امتحان پاس کر کے بی ایس سی میں داخل ہوتے وہ ریاضی میں ایک انتہائی اہم کتاب integral calculus ایف ایس سی میں پڑھے بغیر ہی اچھے نمبر لے کر پاس ہو کر اگلی کلاس میں چلے جاتے۔بی ایس سی میں تو مجھ جیسے اساتذہ کوشش کرتے کہ طلباء کو وہ کتاب پڑھا دیتے چونکہ بی ایس سی میں اس کتاب کا اگلا کورس پڑھایا جاتا۔

مگر پروفیشنل کالجز میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ طلباء کو یہ بنیادی کورس پڑھائیں اور اس کورس کی انجینئرنگ کلاسز میں بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔چنانچہ انجینئرنگ کے امتحانات میں بچوں کے فیل ہونے کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔یہی وجہ ہے کہ انجینئرنگ کالجز کے اساتذہ نے بچوں کا ایف ایس سی کے امتحانات کے بعد اپنے کالجز میں داخلے کے لئے طلباء کی اہلیت کو جانچنا ضروری سمجھا اور اپنے کالجز میں ایک ٹسٹ متعارف کروایا تا کہ اُن کو اہل طلباء مل سکیں‘اسی ٹسٹ کو پھر سارے ہی پروفیشنل کالجز کے لئے ضروری قرار دیا گیا۔اب جن بچوں نے پہلی دفعہ اس امتحان میں حصہ لیا اُن کے نتائج حیرت ناک تھے۔یعنی جو بچے ایف ایس سی کے امتحانات میں گیارہ سو میں سے نو سو سے زیادہ نمبر حاصل کر کے ایف ایس سی کر کے آئے تھے وہ اس امتحان میں پاسنگ مارکس بھی نہ لے پائے‘ جس سے معلوم ہوا کہ جو نصاب تعلیم بورڈز میں شروع کیا گیا ہے وہ سرے سے ناکام ہے۔ہم نے اپنی سروس کے دوران بھی اور اس کے بعد بھی ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ جو نصابی طریقہ ٹیکسٹ بک بورڈ کی طرز پر کیا گیا ہے وہ ناکام ترین طریقہ ہے۔اس میں طالب علم بہت اچھے نمبر لے کر پاس ہوتے ہیں مگر آگے جا کر ناکام ترین ثابت ہوتے ہیں‘ اس طریقہ تعلیم سے نکلے ہوئے طلباء کے سارے امتحانات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ اس طرح ہم اپنی کئی نسلیں تباہ کر چکے ہیں اور آئندہ کی نسلوں کو بھی تباہ کرنے جا رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ کے جب سے ٹیکسٹ بک سسٹم شروع ہوا ہے سی ایس ایس کے امتحانات کا مقابلہ اُس وقت کے امتحانات سے کریں کہ جب نصاب تعلیم طریقہ تعلیم تھا تو معلوم ہوگا کہ ہم اپنی ساری نسل کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل یہ کبھی بھی نہیں ہوا تھا کہ سول سروسز کے ان امتحانات میں اس سے بھی کم بچے پاس ہوں کہ جتنی کہ ویکنسیاں موجود ہیں۔ اس دفعہ یہ بھی ہوا ہے کہ سول سرسز کے امتحانات میں اتنے بچے بھی پاس نہیں ہوئے کہ جتنی ویکنسیاں تھیں۔ اسی طرح پروفیشنل کالجز کے امتحانات میں پاس پرسنٹیج بھی دن بدن کم ہو تی جا رہی ہے۔ہم نے ایک ایسا طریقہ نصاب اپنے کالجوں اور سکولوں میں متعارف کروا دیا ہے کہ جو انتہائی ناقص ہے۔جس سے کوئی بھی بچہ پاس ہونے کے بعد اس قابل بھی نہیں ہوسکتا کہ اگلی جماعت کے داخلے کیلئے فارم بھی پُر کر سکے۔بچے اپنے امتحانی فارم بھی خود پُر نہیں کر سکتے۔حکومتوں کو چاہئے کہ اگر اپنی آئندہ نسلوں کو تعلیمی طور پر تباہ نہیں کرنا توٹیکسٹ بک بورڈ کو فوری طور پر ختم کریں اور قابل اساتذہ سے سلیبس کے مطابق کتابیں لکھوائیں اور سکولوں اور کالجوں کے اساتذہ (میٹرک سے اوپر) کو اجازت دیں کہ وہ جو بھی کتاب اپنے سٹینڈرڈ کی سمجھیں پڑھائیں اور بورڈ سلیبس سے پرچے بنائے اور امتحان لے۔ اس طرح بوٹی مافیا کا بھی خاتمہ ہو گا اور طالب علموں کو بھی علم حاصل کرنے کا موقع ملے گا اور یہ ٹیسٹ ویسٹ پر بھی خرچ بچے گا۔1958 تک یہی طریقہ تھا اور اس طریقہ سے پاس بچے کبھی کسی بھی امتحان میں فیل نہیں ہوئے۔