بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / الزام تراشیوں پر تحفظات

الزام تراشیوں پر تحفظات

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان اور امریکہ کی جانب سے پاکستان پر الزام تراشیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جی ایچ کیو میں افغانستان کیلئے امریکی کمانڈر جنرل نکلسن کیساتھ ملاقات میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان پر الزام تراشیاں ایسے وقت میں کی جارہی ہیں جب امریکی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لیاجارہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ الزام تراشیاں محض اتفاق نہیں، اس موقع پر امریکی کمانڈر نے پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا، ملاقات میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل بھی موجودتھے، دریں اثناء امریکہ نے خود کہا ہے کہ پاکستان کی حمایت کے بغیر افغان جنگ نہیں جیتی جاسکتی، میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل جوزف ڈانفورڈ نے صحافیوں کیساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیاء کیلئے واشنگٹن کی نئی حکمت عملی کا اہم عنصر ہوگا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے تحفظات فوری نوٹس کے متقاضی ہیں، پاکستان خطے کے منظر نامے میں مثبت کردار کا حامل ہے۔

امن کیلئے پاکستان کی کوششیں اور عزم ریکارڈکا حصہ ہیں، عین اسی روز بھی جب جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان کیلئے امریکی کمانڈر نے ملاقات کی ، لاہور میں خودکش دھماکہ ہوا جس میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 26بتائی جارہی ہے جبکہ 52زخمی ہیں، زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہونے پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، رپورٹس کے مطابق 9پولیس اہلکار بھی اس دھماکے کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہیں، امن وامان کی صورتحال میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کیساتھ وطن عزیز کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے، اس ساری صورتحال میں بھی پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کیلئے پرعزم رہا، پاکستان لاکھوں افغان مہاجرین کا میزبان بھی ہے، اس کے باوجود پاکستان کیخلاف الزام تراشیاں غیر جانبداری کے حوالے سے امریکہ اور افغانستان کے رویے پر سوالیہ نشان ثبت کرتی ہیں، خطے کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے ساتھ پوری عالمی برادری پاکستان کے موقف کو سپورٹ کرے، خود دفتر خارجہ کو بھی اس ضمن میں موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ دنیا کو موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان کے کردار سے آگاہ کیاجاسکے۔

سرکاری منصوبوں میں تاخیر؟

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے سرکاری منصوبوں کیلئے زمین کے حصول اور مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کافول پروف طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی ہے جو قانونی تقاضوں کے مطابق بھی ہو، بہت دیر سے سہی اس ضمن میں حکومت کاا حساس قابل اطمینان ہے تاہم سرکاری فائلوں کی گردش کا طریقہ کار دیکھتے ہوئے اس پر عمل درآمد کیلئے وقت کا تعین نہیں کیاجاسکتا، حکومت کو نیا طریقہ کار وضع کرنے سے قبل یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ صوبے میں ریونیوریکارڈ کب کمپیوٹرائزڈ ہوگا، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے پر زمین جائیداد سے جڑے متعدد معاملات درستگی کی طرف جائینگے، حکومت سرکاری پراجیکٹس میں تاخیر کے ایک پہلو یعنی زمین کے حصول کو تو زیر غور لے آئی ہے لیکن منصوبوں کی تاخیر کے مزید فیکٹرز پر غور ہنوز باقی ہے، اگر تمام پہلوؤں پر قابو پالیاجاتا ہے توا س سے نہ صرف حکومتی اعلانات ثمر آور ہونگے بلکہ قومی خزانے کے ضیاع کو بھی روکا جاسکے گا، ان ہی منصوبوں کے عملی شکل اختیار کرنے پر عوام ریلیف بھی پائیں گے۔