بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / آپریشن خیبر4

آپریشن خیبر4

آئی ایس پی آر کی جانب سے میڈیاکو جاری کی گئی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کے مسلح دستوں نے نہ صرف پاک افغان سرحدی علاقہ راجگل عسکریت پسندوں سے آزادکروا لیا ہے بلکہ 12ہزار فٹ بلندی پر واقع بریخ کنڈاؤ نامی پہاڑی چوٹی پر قبضے کے بعدیہاں پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ پاکستان کاسبز ہلالی پرچم بھی لہرادیا گیا ہے۔ خیبر ایجنسی کے اس دوردراز پاک افغان سرحدی علاقے میں جاری آپریشن خیبر 4 کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ آپریشن بنیادی طور پرآپریشن ردالفساد کا حصہ ہے ۔ وادی تیراہ کی جغرافیائی ساخت اور محل وقوع کی اہمیت سے واقف عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ بہت پہلے ہی اس آپریشن کا امکان ظاہر کر چکے تھے کیونکہ اب تک وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی پیش قدمی کا زیادہ تر فوکس وادی کے انٹری پوائنٹس کیساتھ ساتھ وادی کے نسبتاً ہموار علاقوں اور انکے ملحقہ کم بلند پہاڑیوں پر اپنی پوزیشن کو مستحکم بنانے پر تھا لیکن اب جب یہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور وادی کے قریباً تمام اہم راستوں ،پہاڑی چوٹیوں اور دروں پر سیکورٹی فورسز نے اپنی گرفت کو مضبوط بنا لیا ہے تو اگلے مرحلے جسے آپریشن خیبر 4کانام دیا گیا ہے کے ذریعے ان نوگوایریاز کو کلیئر کیا جار ہا ہے جودشوار گزار پہاڑوں اور گھنے جنگلات نیز پاک افغان سرحد کے ناقابل رسائی علاقوں پر مشتمل ہیں عسکری ماہرین ان علاقوں کی کلیئرنس کو پاک فوج کی بہت بڑی کامیابی سے تعبیرکررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کامیابی سے جہاں یہ علاقے اب براہ راست ریاستی تصرف میں آجائیں گے وہاں ان علاقوں میں پاک افغان سرحد کی نشاندہی اور پاک فوج کی چیک پوسٹوں کی تعمیر سے اگر ایک طرف پاکستان اور افغانستان کی سرحد کا تعین واضح ہو جائے گا ۔

آپریشن خیبر 4جو وادی تیراہ کے پاک افغان سرحدی علاقوں میں کیا جارہاہے کے متعلق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس آپریشن سے قبل پاکستان کے عسکری ذرائع نے افغان حکومت اور افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے حکام کو وادی تیراہ کے پاک افغا ن بارڈر پر پاکستان کے مجوزہ آپریشن کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کا افغانستان کی جانب ممکنہ فرا رروکنے کیلئے متعلقہ سرحد بند کرنے اور سرحد کے اس پار افغان اور امریکی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کی تجویز دی تھی لیکن الٹا افغان حکومت نے خیبر 4 آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے اس پر حسب عادت اعتراضات اٹھانا شروع کر دیئے‘ افغانستان کی اسی غیردانشمندانہ پالیسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج جب بھی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں کوئی بڑا آپریشن کرتی ہیں تو افغان حکومت نہ صرف اسکی مخالف شروع کر دیتی ہے بلکہ پاکستان کے سرحدی علاقوں سے فرار ہونے والے عسکریت پسندوں کو پناہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتی‘یہاں اس امرکی وضاحت بھی ضروری ہے کہ کچھ عرصہ قبل جس طر ح بعض حلقے جنوبی اور شمالی وزیرستان ایجنسیوں میں فوجی عملیات کو پاکستان کے حق میں خودکشی پر محمول قراردے رہے تھے ان حلقوں کا وادی تیراہ کے آپریشن کے بارے میں بھی یہی خیال تھا کہ ان علاقوں میں سیکورٹی فورسز کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور شاید یہ علاقے پاکستان کی سیکورٹی فورسز کیلئے اسی طرح دلدل ثابت ہونگے جس طرح انیسویں صدی کے آواخر میں تیراہ کی مہمات کے دوران برطانوی فوجیوں کی پیش قدمی کے وقت ثابت ہو ئے تھے لیکن یہ خدشات نہ صرف سو فیصد غلط ثابت ہو چکے ہیں بلکہ عام قبائل نے تمام تر مشکلات اور قربانیوں کے باوجود اس سارے عمل پر اگر ایک طرف صبر واستقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔

تو دوسری جانب انہوں نے پاک فوج کے ساتھ اس کی پیش قدمی کے دوران ہر ممکن تعاون بھی کیا ہے‘ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آپریشن خیبر 4کے بعد نہ صرف پاک سر زمین سے عسکریت پسندوں کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار ہو جائے گی بلکہ اس کے نتیجے میں ان علاقوں میں ریاستی عمل داری بھی مستقلاً قائم ہوجائے گی جو قریباً پچھلے 70سالوں سے حکومتی اثر ورسوخ سے باہر تھے۔ اسی طرح پاک افغان سرحد کے ان دور افتادہ علاقوں میں فوج کی پیش قدمی سے جہاں بارڈر مینجمنٹ کی پاکستانی کوششوں کو تقویت ملے گی وہاں افغانستان سے پاکستان میں ہونیوالی مسلسل درانداز ی کے خاتمے میں بھی مدد مل سکے گی جبکہ تیسری جانب اس پیش رفت سے مقامی قبائل کو بھی عرصہ دراز کے بعد امن وامان کی بحالی کی صورت میں سکھ وچین کے ساتھ یہاں تعمیر وترقی کاایک بہتر دوربھی دیکھنا نصیب ہوسکے گا۔