بریکنگ نیوز
Home / کالم / تعلیمی اصلاحات: تجاویز!

تعلیمی اصلاحات: تجاویز!


پاکستان میں تعلیمی اصلاحات ایک ایسا موضوع ہے جس پر بہت کم سوچا اور جس سے متعلق بہت کم لکھا جاتا ہے تاہم اِس سے موضوع کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔’گزشتہ ماہ ایک یونیورسٹی کی فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز نے ایک عالمی ریکارڈ نما کامیابی حاصل کی‘ جب فنانس سے سائیکولوجی تک کے شعبوں کے اندر قلیل وقت میں ایک کے بعد ایک پانچ پی ایچ ڈی ڈگریاں دی گئیں‘ وہ بھی صرف ایک ہی شخص کی نگرانی میں‘ معیار میں سب سے بڑی گراوٹ سال دوہزار دو میں آئی جب ریسرچ اور پی ایچ ڈی ڈگریوں کو فروغ دینے کی خاطر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ترقی‘ تنخواہوں اور دیگر مراعات کو یونیورسٹی ٹیچرز کے شائع ہونیوالے ریسرچ پیپرز کی تعداد سے منسلک کر دیا گیا۔‘ اِن بیان کردہ مسائل پر چند تجاویز اور مسائل کا ٹھوس حل یہ ہے کہ شروعات کے طور پر ایچ ای سی کو تھوڑی سختی اپنا لینی چاہئے اور پی ایچ ڈی اسکالر کیلئے یہ بات لازم قرار دی جائے کہ اس کا کم از کم ایک کانفرنس پیپر کسی معیاری بین الاقوامی کانفرنس کی جانب سے منظور ہو اور ایک جرنل پیپر کسی امپیکٹ فیکٹر والے اور انڈیکس میں درج جرنل میں شائع ہو۔ تحقیقی مقالے کی اشاعت کے حوالے سے مقررہ معیار کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے‘ پیپرز میں صرف معتبر ریسرچرز کے حوالہ جات والے پیپرز‘ جو کسی اعلیٰ معیار کی حامل کانفرنس اور امپیکٹ فیکٹر کے حامل جرنل میں شائع ہوں‘ انہیں ہی ’پبلیکیشن‘ کہا جائے۔ اشاعت کے حوالے سے کسی بھی دوسرے معیار کو ختم کر دیا جائے۔ یوں معیار بہتر ہوگا اور کسی کی ریسرچ کو اعلیٰ معیار کے مطابق جانچا بھی جا سکے گا۔ ایک ریسرچر کی کسی مشکوک‘ مقامی جرنلوں میں پچاس اشاعتوں کو بھی اتنی خاص اہمیت نہ دی جائے جتنی اہمیت کسی معروف کانفرنس یا جرنل میں شائع صرف ایک پیپر کو دی جائے‘ بھلے ہی پھر اس بین الاقوامی جرنل کی رینکنگ اول نہ ہو۔ اگر یہ اقدام اٹھایا جائے تو مجھے یقین ہے کہ پھر پاکستانی جامعات صرف غیر معمولی اور تجربہ کار ریسرچرز کی مدد سے ہی ’عالمی ریکارڈ‘ بنائیں گی جبکہ مافیا کو مشکلات سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔

تحقیقی مقالہ جات کی اشاعتوں کی حوصلہ افزائی یا پھر پیپرز کی بنیاد پر ترقی دینے میں کوئی عیب نہیں۔ حوصلہ افزائی کا یہ طریقہ کار جاری و ساری رہنا چاہئے مگر ایسا کرنے سے قبل لازمی ہے کہ تحقیق کا معیار ہماری اولین ترجیح ہو۔ دوسرا یہ کہ پروفیسرز کو صنعتی و دیگر شعبوں سے منسلک مختلف اداروں کے اشتراک سے خود سے فنڈز اکٹھا کرنے کا کام دیا جائے‘ اس طرح اکیڈمک ریسرچ کو ترقی کے ٹھوس مقاصد اور منصوبوں‘ سماجی پروگراموں اور نجی و سرکاری شعبے کی پالیسیوں اور ابتدائی منصوبوں سے منسلک کرنے میں مدد ملے گی۔ اس طرح ایچ ای سی کے فراہم کردہ تنگ نظر ماحول کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ ایچ ای سی نجی اور سرکاری شعبوں کے ان مختلف اداروں کو فنڈز فراہم کر کے مدد فراہم کر سکتی ہے‘ جو قابل ذکر منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور جن میں ریسرچرز کی مدد درکار ہے۔ ریسرچ کیلئے کون سب سے زیادہ قابل ریسرچر ہے‘ یہ فیصلہ ان اداروں پر چھوڑ دیجئے۔ آئی سی ٹی آر اینڈ ڈی فنڈز‘ پلان نائن اور ادارہ برائے فروغ تحقیق ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑے ہی زبردست رجحانات پیدا کر رہے ہیں۔ ایسی ہی نئی تنظیمیں تشکیل دی جائیں اور انہیں سماجی شعبے میں فنڈز کی تقسیم کاری کا کام سونپا جائے۔ ضروری نہیں کہ ایک اچھا ٹیچر ایک اچھا ریسرچر بھی ہو اور یوں ضروری نہیں کہ ایک اچھا ریسرچر ایک اچھا ٹیچر ہو مثلاً شمالی امریکہ میں پڑھانے پر اس قدر زور نہیں دیا جاتا جتنا پہلے ڈالا جاتا تھا بلکہ اب زیادہ توجہ ریسرچ پر مرکوز کی جا رہی ہے۔

ایک پروفیسر باہر سے جتنے فنڈز اکٹھا کرتا ہے اور جتنے زیادہ پیپرز اور کتابیں شائع کرتا ہے‘ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی کے وقار کا اندازہ لگایا جاتا ہے‘ ایک بڑی تعداد میں مختلف تدریسی شعبوں میں‘ خاص طور پر گریجویشن سطح کی کلاسوں کو پارٹ ٹائم پروفیسرز پڑھاتے ہیں‘ جس کے شمالی امریکہ کی یونیورسٹیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایچ ای سی نے بھی ایسا ہی ’چھاپو یا چھٹی کرو‘ کا طریقہ اپنایا ہوا ہے اور شمالی امریکہ کی نقل کرنے سے جو نتائج برآمد ہوئے وہ ہمارے سامنے ہیں‘ زیادہ سے زیادہ تحقیقی مقالے لکھنے پر توجہ مرکوز کرنے سے سنجیدہ مسائل کو نظر انداز ہو جاتے ہیں‘ جیسے ٹیچنگ کی مالی طور پر حوصلہ اَفزائی کی ضرورت‘ سبجیکٹ اسپیشلسٹ کی تیاری‘ فیکلٹی میں موجود انفرادی کمزوریوں کی نشاندہی اور ان میں بہتری لانا۔ پاکستانی جامعات کو ٹیچنگ‘ خالص ریسرچ‘ اپلائیڈ ریسرچ اور انٹرپرینیورشپ پر کام کرنیکی ضرورت ہے۔ صرف اور صرف ایک ہی پہلو پر توجہ مرکوز کرنے سے ہماری جامعات کی افادیت متاثر ہوگی جو تعلیمی نظام کیلئے ٹھیک نہیں۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: عارف عمیر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)