بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / صوبوں کا ’’انتظامی مجسٹریٹس‘‘ کی بحالی پر ایکا

صوبوں کا ’’انتظامی مجسٹریٹس‘‘ کی بحالی پر ایکا

اسلام آباد ۔ چاروں صوبوں نے ملک میں ’’انتظامی مجسٹریٹس‘‘ کی بحالی کا مطالبہ کر دیا، وفاق کو اس بارے میں ضروری قانون سازی کا اختیار دے دیا گیا،انتظامی مجسٹریٹ کو امن و امان، پرائس کنٹرول سے متعلق اختیارات حاصل ہوں گے، پولیس نے مجوزہ قانون کی مزاحمت شروع کر دی، اس بارے میں اعلیٰ ترین پولیس افسران کی طرف سے وزارت قانون سمیت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کے اراکین سے بھی رابطے کئے گئے ہیں۔ اس امر کا اظہار اور انکشافات بدھ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی کے دوران کئے گئے۔

آئین سے بعض مذاہب کو مذہبی رسومات کیلئے شراب کی آزادی کی شق حذف کرنے کیلئے عیسائی، ہندو،یہودی،سکھ اور پارسی مذاہب کے رہنماؤں اور اکابرین سے تحریری رائے مانگ لی گئی، چیئرمین کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قسم کی ترمیم پاکستان کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کہ وہاں اقلیتوں کی آزادی کوکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ ترمیم پاکستان کے خلاف سازش بھی ہو سکتی ہے، اقلیتی اراکین پارلیمنٹ کو خود اس قسم کا بل متعارف کروانا چاہیے۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی چوہدری بشیر ورک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے کمیٹی اراکین کو وفاقی وزراء کے اختیارات میں اضافے، ججز کی تعیناتی کی عمر 45سال سے کم کر کے 40سال کرنے اور انتظامی مجسٹریٹس کی بحالی کے بارے میں 29ویں آئینی ترمیم کے بارے میں بریفنگ دی۔ کمیٹی اراکین کو آگاہ کیا گیا کہ 29ویں ترمیم کے تحت کابینہ کسی بھی وزیر کو کسی معاملے میں با اختیار بنا سکتی ہے،تاہم اراکین کی رائے تھی کہ مخصوص حالات، مخصوص وقت کیلئے کسی مخصوص معاملے میں وزیر کو با اختیار بنایا جا سکتا ہے۔

ترمیم کو مزید واضح کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا نہ ہو کہ متعلقہ معاملے میں کسی وزیرکو مستقل طورپر اس کا اختیار مل جائے اور وہ مستقل بنیادوں پر اس پریکٹس کو جاری رکھے۔ کمیٹی میں اتفاق رائے نہ ہونے پر ایک بار پھر یہ آئینی ترمیم موخر ہو گئی،وزیر قانون نے کمیٹی اراکین کو مزید بتایا کہ چاروں وزرائے اعلیٰ نے مشترکہ مفادات کونسل میں وفاق کو انتظامی مجسٹریٹس کی بحالی کے لئے قانون سازی کا اختیار دیا ہے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ کسی بھی صوبے کی جانب سے اعتراض اٹھ سکتا ہے، اس لئے اس معاملے پر تفصیلی بحث ضروری ہے، وفاق اپنی حدود تک اس بارے میں قانون سازی کر سکتا ہے۔ وزیر قانون کا خیال تھا کہ جب وزرائے اعلیٰ یہ اختیار وفاق کو دے چکے ہیں تو اعتراض بے معنی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان مجسٹریٹس کا عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، انتظامیہ اور عدلیہ الگ الگ ہیں، اسی لئے نئی ترمیم لے کر آرہے ہیں تا کہ جوڈیشل سے متعلق متعلقہ آئینی شقوں میں مجسٹریٹس کی ذیلی شقوں میں ردوبدل کردیا جائے۔افتخار احمد چیمہ نے کہا کہ انتظامی مجسٹریٹ کی بحالی کی اطلاعات پر پنجاب پولیس نے ہڑتال کی دھمکی دے دی اور وہ اس کی مزاحمت کر رہے ہیں، وزیر قانون نے پنجاب پولیس کی اس مزاحمت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح پر وزارت سے بھی اس بارے میں رابطہ کیا گیا ہے تاہم چاروں صوبے اس قانون سازی پر آمادہ ہیں، جس کی وجہ سے ہم یہ ترمیم لے کر آئے ہیں، کمیٹی میں اتفاق رائے نہ ہونے پر 29ویں ترمیم کو موخر کردیا گیا، اجلاس کی کاروائی کے دوران وزیر قانون و انصاف نے مصالحتی و ثالثی سے متعلق سینیٹ سے منظور بل کی بھی مخالفت کی اور واضح کیا کہ اس معاملے پر تین الگ الگ بل آ رہے ہیں، ہم ان معاملے کو الگ کررہے ہیں اور تمام بار کونسلوں، بار ایسوسی ایشنز اور قانونی ماہرین سے مصالحتی ایکٹ 1940میں ترمیم پر رائے مانگ لی ہے، تنازعات کے متبادل نظام سے متعلق قانون میں بھی سینیٹ سے منظور بل کی شقیں شامل ہیں، اسی طرح ہم ثالثی سے متعلق بھی قانون لے کر آ رہے ہیں۔ کمیٹی میں آئندہ اجلاس میں بل کی محرک ثریا اصغر کو مدعو کرنے کا فیصلہ دیا گیا ہے اور ان کی رائے کی روشنی میں بل کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا، بیشتر اراکین نے بل کو مسترد کرنے کی رائے دے دی ہے۔ اجلاس کی کارروائی کے دوران جے یو آئی (ف) کی رکن نعیمہ کشور خان کی اقلیتوں پر بھی شراب کی پابندی سے متعلق آئینی ترمیم پر غور کیا گیا۔

اس کے تحت آئین کی شق 37 میں ترمیم کی جائے گی جس میں کہا گیا ہے کہ غیر مسلموں کو اپنی مذہبی رسومات کیلئے شراب کی اجازت ہو گی۔ مولانا محمد خان شیرانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی خدا پرست ہے وہاں شراب حرام ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی نے چیلنج کیا کہ بعض مذاہب میں بشمول سکھ مذہب میں شراب حرام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی ترمیم پاکستان کے خلاف سازش بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اس ترمیم کو لے کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ وہاں اقلیتوں کی آزادی میں مداخلت کی جا رہی ہے۔مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ آئین کے تحت اللہ کی حاکمیت ہے، مغرب کو پاکستان کی جمہورکی رائے کو تسلیم کرنا ہو گا جبکہ تمام اقلیتی ارکان بھی اس بات سے متفق ہیں کہ ان کے مذہب میں شراب حرام ہے، آئین کی شق 37کو تبدیل کیا جائے کیونکہ کوئی بھی غیر مسلم شراب نوشی کو درست نہیں تصور کرتا۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ بعض غیر مسلموں کے علمائے کرام اور اکابرین شراب کو اجتماعی طور پر استعمال کرتے ہیں۔ نعیمہ کشور خان نے کہا کہ مغرب اور یورپ میں تو حجاب پر پابندی کی باتیں ہو رہی ہیں، ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کے مطالبے ہو رہے ہیں، اب کے این جی اوز کے مطالبے پر پاکستان میں اس قسم کی قانون سازی کی جائے گی اگر ہم نے مغرب اور یورپ کے دباؤ کو قبول کرنا شروع کر دیا تو کل کوئی بھی قانون پاکستان میں بنانے کیلئے سب دباؤ ڈالا جا سکتا ہے، کل کو دباؤ آئے گا کہ پاکستان کے روشن چہرے کیلئے یہ، یہ قانون سازی کی جائے۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایسی قانون سازی نہ کی جائے جس سے اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا پیغام جائے۔

جماعت اسلامی کی رکن عائشہ سید نے تجویز دی کہ یہ ترمیم اقلیتی اراکین پارلیمنٹ کو لے کر آنی چاہیے۔ نعیمہ کشور نے بتایا کہ اقلیتی اراکین بل پر دستخط کر چکے ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ ہم کوئی جبر سے مرضی مسلط نہیں کرنا چاہتے، بے چارے اقلیتی اراکین خود اس قسم کی قانون سازی مانگ رہے ہیں اور واضح کیا ہے کہ آئین میں اس قسم کی شق کی موجودگی کے ذریعے ان کے مذہب کو بدنام نہ کیا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے چیلنج کیا کہ سکھ ازم میں شراب حرام نہیں ہے، اتفاق رائے سے قائمہ کمیٹی میں عیسائی، ہندو، سکھ،پارسی اور یہودی مذاہب کے اکابرین اور رہنماؤں سے اس معاملے پر تحریری رائے مانگ لی ہے۔قائمہ کمیٹی نے دیگر پریکٹیشنرز و بار کونسلوں کے ایکٹ میں ترمیم کے بل کو مسترد کر دیا ، اس بل کے تحت بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنز میں خواتین کی نشستیں مخصوص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزارت قانون کے حکام نے بتایا کہ بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنز کے عہدوں پر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں اس لئے کمیٹی ان کونسلوں میں مخصوص نشستیں مختص کرنے کی قانون سازی نہیں کر سکتی۔