بریکنگ نیوز
Home / دلچسپ و عجیب / زلزلے سے محفوظ، فوم سے بنے گنبد نما مکانات

زلزلے سے محفوظ، فوم سے بنے گنبد نما مکانات

ٹوکیو: جاپان کی ایک کمپنی گزشتہ 15 سال سے ایسے ہلکے پھلکے مکان بنا رہی ہے جنہیں مضبوط فوم سے تیار کیا جاتا ہے اور اسی بناء پر یہ زلزلے سے محفوظ بھی ہیں۔

’’جاپان ڈوم ہاؤس‘‘ نامی یہ کمپنی خاص قسم کا ’’اسٹائروفوم‘‘ استعمال کرتے ہوئے مکانات تعمیر کرتی ہے جو ایک طرف تو اپنے مکینوں کو شدید گرمی اور شدید سردی سے بچاتے ہیں جبکہ دوسری جانب اسی فوم کی بدولت یہ مکانات زلزلوں کے خلاف حیرت انگیز مزاحمت بھی رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسٹائروفوم گزشتہ 30 سال سے ہاٹ پاٹ، واٹر کولر اور مختلف نازک چیزوں کو محفوظ رکھنے والے پیکیجنگ مٹیریل کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ یہ عام فوم کے مقابلے میں بہت سخت ہوتا ہے جبکہ حرارت بھی اس میں سے بمشکل گزر پاتی ہے۔ اپنی اسی خاصیت کے باعث یہ صنعتی پیمانے پر ایک موزوں پیکیجنگ مٹیریل بھی شمار کیا جاتا ہے جس کا استعمال مختلف کاموں میں مسلسل بڑھ رہا ہے۔

البتہ یہی اسٹائروفوم استعمال کرتے ہوئے ایسے مکان تعمیر کرنا جو موسم کی سختیوں سے لے کر زلزلے کے جھٹکوں تک کا مقابلہ کرسکیں، اپنے آپ میں ایک اچھوتا خیال ہے جس پر جاپان کی یہ کمپنی پچھلے 15 سال سے عمل کر رہی ہے۔

اسٹائروفوم سے تعمیر کیے جانے والے سارے مکانات کو گنبد جیسی شکل دی جاتی ہے کیونکہ یہ ساخت بہت مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچے کی لکڑی پر اسٹائروفوم کی موٹی تہہ چڑھادی جاتی ہے جبکہ آخری مرحلے میں پورے مکان پر عموماً سفید رنگ کردیا جاتا ہے جو فوم کے ساتھ مل کر گرمی اور سردی کی شدت کو اندر تک پہنچنے سے باز رکھتا ہے۔ پورے مکان میں استعمال ہونے والے اسٹائروفوم کا مجموعی وزن صرف 80 کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے جو کسی بھی دوسرے تعمیراتی مادّے کے مقابلے میں بے حد کم ہے۔

چند سال پہلے جاپان ڈوم ہاؤس نے زلزلوں سے بار بار متاثر ہونے والے ’’کوماموتو پری فیکچر‘‘ کے علاقے میں ’’کایوشو ولیج زون‘‘ میں ایسے ہی 480 مکانات پر مشتمل ایک پوری بستی بھی تعمیر کی تھی۔ پچھلے سال جب اس علاقے میں شدید زلزلہ آیا تو وہاں موجود بیشتر عمارتیں یا تو زمین بوس ہوگئیں یا پھر ان میں دراڑیں پڑ گئیں اور وہ رہائش کے قابل نہیں رہیں۔

اس پورے علاقے میں کایوشو ولیج زون کی یہ چھوٹی سی بستی وہ واحد جگہ تھی جہاں شدید زلزلے کے باوجود بھی کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔

ایک منزلہ ہونے کے باعث ایسے ہر مکان میں صرف 5 افراد ہی رہائش اختیار کرسکتے ہیں یعنی ان کی تعمیر گنجان آباد شہروں کے لیے موزوں نہیں البتہ شہروں کے گرد و نواح میں یا دُور افتادہ دیہی علاقے ان سے ضرور مستفید ہو سکتے ہیں جہاں مکان بنانے کے لیے زیادہ جگہ میسر ہوتی ہے۔