بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ظفر حجازی کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات

ظفر حجازی کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات

اسلام آباد۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے حکام نے سابق چیئرمین ظفر حجازی کیحوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کر دئیے۔کمشنر ایس ای سی پی طاہر محمود نے کہا کہ ظفر حجازی نے جون 2016میں افسران پر دباؤ ڈال کرچوہدری شوگر ملز کی انکوائری پرانی تاریخوں جنوری2013 میں بند کر ائی،کیس پرانی تاریخوں میں بند کرانے سے انکو کیا فائدہ ہوا اس بارے کچھ نہیں بتا سکتا، اس کی وجہ شائد یہ ہو کہ جون 2016میں پانامہ کیس شروع ہو چکا تھا اور جبکہ جنوری 2013میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ ایس ای سی پی کی ڈرایکٹر انفورسمنٹ ماہین فاطمہ نے کہا کہ پانامہ جے آئی ٹی کے سامنے دیئے جانے والے بیان کو تبدیل کرنے کیلئے ظفر حجازی نے مجھے 14 جون کو 3گھنٹے تک کمرے میں محصور رکھااور کہا کہ تحریری طور پر بیان تبدیل کرو اور لکھ کر دو کہ جے آئی ٹی نے مجھ سے زبردستی بیان لیا،مجھے طاہر محمود اور عابد حسین کی مداخلت پر جانے دیا گیا۔

ایس ای سی پی کے آفسر علی عظیم نے کہا کہ ظفر حجازی نے مجھے برطانوی حکام کو خطو ط لکھنے اور ان سے ریکارڈ طلب کرنے پر ڈانٹا تھا ۔چیئر مین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سٹیٹ بینک کی جانب سے جے آئی ٹی میں بیان ریکارڈ کروانے والے ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک ریاض رضی الدین کی کمیٹی میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاض رضی الدین نے تصدیق کی تھی کہ وہ کمیٹی میں آئیں گے ۔

ریاض رضی الدین نے کمیٹی کو جے آئی ٹی کو فراہم کیے گئے ریکارڈ پر بریفنگ دینا تھی،ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو کمیٹی میں آنے سے کیوں روکا جارہا ہے؟کمیٹی نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو آئندہ کمیٹی اجلاس میں ہر صورت میں اپنی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔جمعرات کو کمیٹی کا اجلاس چیئر مین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا،جس میں کمیٹی ارکان سمیت قائم مقام چیئر مین سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ظفر عبداللہ،کمشنر ایس ای سی پی طاہر محمود،پانامہ کیس میں بنائی گئی جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کروانے والے ایس ای سی پی کے حکام علی عظیم ،ماہین فاطمہ ،عابد حسین،گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ،چیف شماریات آصف باجوہ و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

چیئر مین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن انتہائی اہم ادارہ ہے ادارے کا سربراہ گرفتار ہوا جس سے ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی،جانناچاہتے ہیں ایس ای سی پی کاامیج کیوں خراب ہوا؟ بتایاجائے چیئرمین ایس ای سی پی سپریم کورٹ کے حکم پرکیوں گرفتارہوئے؟ ۔ مقام چیئر مین سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ظفر عبداللہ نے کہا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اسلئے اس پر بات کرنا مناسب نہیں ،جس پر چیئر مین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں نے ایک جواب رٹ لیا ہوا ہے کہ معاملہ عدالت میں ہے اسلئے اس پر بات نہیں سکتے،پانامہ کیس پوری دنیا میں زیر بحث ہے ہم کیوں اس پر بات نہیں کر سکتے ہمیں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جائے کیوں چیئر مین ایس ای سی پی گرفتار ہوئے۔

اس موقع پر کمشنر ایس ای سی پی طاہر محمود نے کہا کہ 2011میں ایس ای سی پی نے چوہدری شوگر مل سمیت کچھ کمپنیز کیخلاف تحقیقات شروع کیں، جس کے انکوائری آفیسر علی عظیم ،ماہین فاطمہ تھے،ایس ای سی پی نے ”ایف ایف اے برطانیہ” اور” یوکے سینٹرل اتھارٹی ”کو معلوامت حاصل کرنے کیلئے خطوط لکھے،ایف ایف اے نے 7سے 8مہینے بعد جواب دیا مگر یو کے سینٹرل سینٹرل اتھارٹی نے 2سال بعد 2013میں جواب میں21پوائنٹس پر مشتمل سوالنامہ ہمیں بھیجا کہ کیوں یہ معلومات ایس ای سی پی کو درکار ہیں مگر ہم ان سوالات کا جواب نہ دے سکے اسلئے کیس پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

سیکشن 263کے تحت تحقیقات جاری رہیں،اس دوران انکوائری افسران علی عظیم اور ماہین فاطمہ کا تبادلہ ایس ای سی پی میں دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں ہو گیا،جون2016میں چیئر مین ایس ای سی پی ظفر حجازی نے انکوائری افسران علی عظیم اور ماہین فاطمہ کو بلایا اور کیس بیک ڈیٹ میں بند کرنے کیلئے پریشر ڈالا اور کیس جنوری2013کی تاریخوں میں بند کر دیا گیا۔چیئر مین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کیس بیک ڈیٹ میں بند کرنے سے کس کو فائدہ ہوا اور اسکی وجہ کیا تھی ،جس پر کمشنر ایس ای سی پی طاہر محمود نے کہا کہ اس حوالے سے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ،شائد جون2016میں پانامہ کیس شروع ہو چکا تھا۔

ایس ای سی پی کے آفسر علی عظیم نے کہا کہ ظفر حجازی صاحب نے مجھے بلایا تھا اور بیک ڈیٹ میں بند کرنے کی ہدایت کی تھی اور مجھے ڈانٹا تھا کہ تم نے کیوں یو کے اتھارٹیز کو خط لکھے، ایس ای سی پی کی ڈرایکٹر انفورسمنٹ ماہین فاطمہ نے کہا کہ ظفر حجازی صاحب کا اس وقت کہنا تھا کہ اگر کیس موجودہ تاریخوں میں بند کیا تو ان کو مسلہ ہوگا،کمشنر ایس ای سی پی طاہر محمود نے کہا کہ کیس 2013میں بند ہوتا یا 2016میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا شائد اسلئے انہوں نے بیک ڈیٹ میں کیس بند کرنے کی ہدایت کی کہ اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی،انہوں نے کہا کہ کیس بند کرنے کے حوالے سے میرے اور ظفر حجازی کے بیان مختلف ہیں ،ظفر حجازی کا موقف ہے کہ انہوں نے کیس بیک ڈیٹ میں بند کرنے کی ہدایت نہیں کی۔

ایس ای سی پی کی ڈرایکٹر انفورسمنٹ ماہین فاطمہ نے کہا کہ مجھے جے آئی ٹی کے سامنے دیئے جانے والے بیان کو تبدیل کرنے کیلئے ظفر حجازی نے زبردستی کی،مجھے 14 جون کو ظفر حجازی نے بیان تبدیل کرنے کیلئے 3گھنٹے تک کمرے میں محصور رکھااور کہا کہ تحریری طور پر بیان تبدیل کرو اور لکھ کہ مجھ سے بیان زبردستی لیا گیا،مجھے طاہر محمود اور عابد حسین کی مداخلت پر جانے دیا گیا ۔کمشنر ایس ای سی پی طاہر محمود نے کہا کہ میں ان اس وقت ظفر حجازی کو کہا تھا کہ ما ہین فاطمہ اور علی عظیم سے جے آئی ٹی کو دئیے گے بیان سے متعلق پوچھنا غیر قانونی ہے ۔

چیئر مین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ جتنے بھی سرکاری افسران یہاں بیٹھے ہیں،ان سے درخواست ہے کہ وہ کسی ایک شخص کی ایماء یا اپنی ترقی کیلئے غلط کام نہ کریں۔اس موقع پر کمیٹی ارکان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک فریق کا موقف سنا ہے جب تک ہم دوسرے فریق کا موقف نہیں سن لیتے تب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا۔چیئر مین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سٹیٹ بینک کی جانب سے جے آئی ٹی میں بیان ریکارڈ کروانے والے ڈپٹیگورنر سٹیٹ بینک ریاض رضی الدین کی کمیٹی میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ریاض رضی الدین کو طلب کیا تھا ، ریاض رضی الدین نے تصدیق کی تھی کہ وہ کمیٹی میں آئیں گے ۔

ریاض رضی الدین نے کمیٹی کو جے آئی ٹی کو فراہم کیے گئے ریکارڈ پر بریفنگ دینا تھی،ریاض الدین نے ڈالر کی قیمت میں اضافے کی انکوائری رپورٹ پیش کرنا تھی،ریاض رضی الدین کو جان بوجھ کر کمیٹی میں نہیں آنے دیا گیا،گورنر اسٹیٹ بینک سے اس معاملے سے وضاحت طلب کی گئی ہے ،ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو کمیٹی میں آنے سے کیوں روکا جارہا ہے۔کمیٹی نے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ریاض رضی الدین کو آئندہ اجلاس میں ہر صورت میں اپنی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔