بریکنگ نیوز
Home / بزنس / موبائل کمپنیوں کی ٹیکس چوری کی تحقیقات کا حکم

موبائل کمپنیوں کی ٹیکس چوری کی تحقیقات کا حکم

اسلام آباد۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے موبائل فون کمپنیوں کی طرف سے300ارب روپے کی ٹیکس چوری کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ پی ٹی اے کو ہدایت کی ہے کہ موبائل فون سروس کو ہبتر بناے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔پی ٹی اے کے چیئرمین اسماعیل شاہ نے اجلاس کو دوٹوک الفاظ میں بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہمارا کنٹرول نہیں ہے تاہم اسلام آباد اورلاہور میں انٹرنیٹ ایکسچینج بنا رہے ہیں جس کے بعد غیر ضروری مواد کو انٹرنیٹ پر آنے سے روکیں گے۔پاکستان کے 14کروڑ لوگ سیلولر موبائل فون استعمال کر رہے ہیں ۔

موبائل فون کی سروس ملک کے90فیصد آبادی کو میسر ہے،پی اے سی کو بتایا گیا کہ انسٹا فون کمپنی کے ذمہ22ارب روپے کی ریکوری ناممکن ہے اور اس کی ذمہ دار سابقہ حکومت ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس سید خورشید شاہ کی صدارت میں جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا،اجلاس میں پاکستان ٹیلیکام اتھارٹی کے چیئرمین نے ٹیلی کام سیکٹر پر بریفنگ دی،چیئرمین پی ٹی اے سید اسماعیل شاہ نے کہا کہ سی پیک کے تحت خنجراب سے اسلام آباد تک آپٹیکل فائبر بچھانے کا کام جاری ہے ملک کے شہروں میں فائبر آپٹیکل بچھانا مشکل مرحلہ ہے کیونکہ سرکاری اور نجی ادارہ سڑکوں اور کلبوں میں آپٹیکل فائبر بچھانے کے اجازت ہی نہیں دیتے۔

انہوں نی کہا کہ سمندر میں آپٹیکل بچھانے کے علاوہ ادارہ کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا شرپسند عناصر آپٹیکل فائبر کاٹ دیتے ہیں جن کے نتیجہ میں ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سہولت میں خلل پڑتا ہے دنیا بھر میں شہروں میں ترقیاتی کاموں باری ایک سروے کرکے مکمل کئے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں ابھی تک کسے حکومت نے کوئی معیار بھی مقرر نہیں کئے جس سے مسائل جنم لیتے ہیں۔

پی اے سی اراکین نی دیہی علاقوں میں موبائل فون کی ناقص سروس پر شدید تنقید کی،پی ٹی اے حکام نے یقین دلایا کہ دیہی علاقوں میں سروس بہتر بنانے کیلئے فورے اقدامات کئے جائیں گے،اس مقصد کیلئے اربوں روپے کے نئے ٹاور دیہی علاقوں میں لگانے کا ایک پروگرام پر عمل ہورہا ہے۔یو ایس ایف کے پاس اربوں روپے کے منصوبی چل رہے ہیں۔اسماعیل شاہ نے بتایا کہ90فیصد لوگ موبائل فون سروس سے مستفید ہوتے ہیں اور ملک بھر کے14کروڑ عوام نے موبائل فون خرید رکھے ہیں تاہم بلوچستان کے چند علاقوں میں ابھی تک موبائل فون سروس فراہم نہیں ہوسکی اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔

چیئرمین پی اے سی نے کہا اگر14کروڑ عوام روزانہ100روپے والا کارڈ استعمال کریں تو موبائل فون کمپنیوں کو کھربوں روپے کا ریونیو ملتا ہے جبکہ قومی خزانہ میں ٹیکس کی مد میں انتہائی معمولی رقم جمع کرائی جاتی ہے۔چیئرمین پی اے سی نے کہا موبائل فون کمپنیاں پری پیڈ کارڈ کی مد میں سالانہ300 ارب روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث ہیں ان کی تحقیقات کی جائیں،پی ٹی اے حکام نے کہا کہ موبائل جو ان کمپنیوں کی طرف سے فروخت کئے گئے پری پیڈ کارڈز کا ڈیٹا موجود نہیں ہے جس پر پی اے سی نی متفقہ طور پر پری پیڈ کارڈز کی فروخت اور ٹیکس چوری بارے اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا حکم دیدیا۔

اس حوالے سے آڈٹ حکام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پی ٹی اے کے ساتھ تعاون کریں۔ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری آئی ٹی نے پی اے سی کو بتایا کہ قومی خزانہ میں160 روپے سالانہ 430 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کرتی ہیں۔ایک سوال کی جواب میں پی ٹی اے حکام نے بتایا سوشل میڈیا پر ان کا کنٹرول نہیں ہے کیونکہ فیس بک،وٹس ایپ وغیرہ ہمری لائسنس یافتہ نہیں ہے تاہم لاہور اور اسلام آباد میں انٹرنیٹ ایکسچینج لگائے جارہے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر غیراخلاقی مواد کو کنٹرول کیا جائے۔اسماعیل شاہ نے کہا جعلی اکاؤنٹس بنانے والوں کے خلاف ہم کارروائی نہیں کرسکتے یہ حقیقت ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے مواد میڈیا پر پھیلایا جارہا ہے۔

پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ نوجوان بچے ہیں ان کی خدمات حاصل کرکے ملک میں بہتری لائی جانی چاہئے۔اسماعیل شاہ نے کہا100کے موبائل کارڈ پر حکومت مختلف ٹیکسوں کی مد میں 25 روپے کاٹ رہی ہے اور یہ ٹیکس مل کر سالانہ160ارب روپے قومی خزانہ میں جمع کرائے جاتے ہیں۔پی ٹی اے کے چیئرمین اسماعیل شاہ نے کہا موبائل فون ٹاورز انسانی صحت پر کوئی مضراثرات نہیں ڈالتے موبائل ٹاور بارے عوام میں غلط فہمی ڈالی جارہی ہے۔پی اے سی نے پی ٹی اے کو ہدایات دیں تکہ فون پر غیرضروری پیغامات آنے کا سلسلہ روکا جائے اور جو کمپنی عمل نہ کرے اس کے خلاف بھی اقدامات کئے جائیں،یہ پیغامات عوام کیلئے درد سر بن چکے ہیں۔

اسماعیل شاہ نے کہا سائبر سیکورٹی بڑی اہم چیز ہے اس پر کام جاری ہے اس مقصد کیلئے سٹاک ایکسچینج انٹرنیٹ تعمیر کر رہے ہیں،عالمی صحت کے ادارے نے بھی واضح کیا ہے کہ موبائل ٹاور سے آنے والی شعاعیں مضر صحت نہیں ہیں تاہم ناقص موبائل فون سیٹ کے استعمال سے انسانی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔انسٹا فون کمپنی کی طرف سے22 ارب روپے ادا نہ کرنے کا بھی نوٹس لیا گیا پی ٹی اے حکام نے کہا کہ یہ ذمہ داری وزارت آئی ٹی کی ہے ہم ریکور نہیں کرسکتے جس پر پی اے سی نے ہدایت کی یہ مقدمہ نیب کے سپرد کیا جائے۔

اسماعیل شاہ نے کہا تعلیم کے فروغ کیلئے خصوصی سپکٹرم موجود ہے جس کی نیلامی عنقریب ہوگی۔پی اے سی کے چیئرمین نے سیکرٹرے آئی ٹی کو ہدایت کی پی ٹی سی ایل کے ملازمین کی پنشن کا مسئلہ فوری حل کرائیں اس کی علاوہ ملک بھر میں ٹیلی سنٹر کے قیام کی منصوبہ پر فوری عمل کیا جائے۔پی اے سی اراکین نے مجموعی طور پر پی ٹی اے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ ادارہ میں احتسابی عمل شروع کیا جائے کیونکہ احتساب کے بغیر ادارے چل نہیں کرسکتے۔