بریکنگ نیوز
Home / کالم / فریب یا حقیقت: پاکستان کی اقتصادیات

فریب یا حقیقت: پاکستان کی اقتصادیات

مسائل کا حل اقتصادی ترقی میں ہے اور ماضی کی سیاسی جماعتوں کی طرح موجودہ وفاقی حکومت بھی پاکستان کو ’ایشین ٹائیگر‘ بنانے کا وعدہ کرتی رہی ہے جسے ہر حکومت دہرانا اپنا فرض عین سمجھتی ہے یہ کوئی ایسی بری خواہش بھی نہیں اور نہ ہی ناممکن ہے لیکن ایسا ابھی تک ہو نہیں پایا تو اس کی وجوہات پر غور ہونا چاہئے۔ نہ صرف یہ‘ بلکہ ہم ایشین ٹائیگر بننے کی جانب کچھ خاص بڑھتے ہوئے بھی دکھائی نہیں دے رہے لہٰذا اس حوالے سے ہمیں ایک ایماندارانہ جائزے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ جاننا کہ آپ کو کہاں سے شروعات کرنی ہے‘ اتنا ہی ضروری ہے جتنا یہ جاننا کہ آپ کہاں جانا چاہتے ہیں۔ چند اہم اعداد و شمار کی مدد سے آپ رائے قائم کر سکتے ہیں۔پاکستان کی معاشی حالت بہتر نہیں ہے‘ نسبتاً پستی کی جانب گامزن ہے اور پاکستان کے کئی شہری گزارے لائق یا اس سے بھی کم سطح کی معاشی زندگی گزارنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے حالات سے اٹھ کرایشین ٹائیگر بننے کیلئے کچھ بڑھ کر کرنا ہوگاپہلا نکتہ‘ معاشی حالت: وفاقی ادارہ برائے شماریات کی ویب سائٹ کے مطابق سال دوہزار پندرہ میں موجودہ قیمتوں میں فی کس آمدن ایک لاکھ 53ہزار چھ سو بیس روپے سالانہ یاتیرہ ہزار روپے ماہانہ تھی جو کہ موجودہ مقررہ کردہ کم سے کم اجرت بھی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پاکستان کی مجموعی سالانہ آمدن کو ملک کے تمام شہریوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر شہری کے حصے میں ماہانہ تیرہ ہزار روپے آئیں گے۔ چار افراد پر مشتمل گھرانے کو گزارے کے لئے ماہانہ تقریباً پچاس ہزار روپے ملیں گے۔ ضروری گھریلو اخراجات کو شمار کریں تو ظاہر ہے یہ پیسے گزارے لائق ہی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر پاکستان کی معاشی حالت اپنے شہریوں کے بس گزارے لائق ہی ہے۔ باآسانی حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ہم پاکستان کا موازنہ ملائیشیا‘ جو کہ ایک ’ایشین ٹائیگر‘ کا بچہ ہے اور جنوبی کوریا جو کہ ایک ایشین ٹائیگر ہے سے کر سکتے ہیں۔ اگر قوت خرید کی بات کریں تو مذکورہ دونوں ملکوں میں فی کس کے حساب سے سالانہ آمدن پاکستان سے پانچ سے سات گنا زیادہ ہے۔ دیگر لفظوں میں کہیں تو پچاس ہزار روپے حاصل کرنیوالے ایک پاکستانی گھرانے کو ملائیشیا یا جنوبی کوریا کے اوسط معیار کی طرز زندگی گزارنے کیلئے ڈھائی لاکھ روپے یا ساڑھے تین لاکھ روپے فی ماہ درکار ہوں گے ایک گزارے لائق معیشت اور ایک ترقی یافتہ معیشت میں یہی فرق ہوتا ہے اسلئے اس میں کوئی حیرت نہیں کہ لوگ پاکستان چھوڑ کر ملائیشیا کام کرنا تو چاہیں گے مگر کوئی بھی ملائشیا چھوڑ کر پاکستان میں کام نہیں کرنا چاہے گاجنوبی کوریا جیسا ایشین ٹائیگر بننے کیلئے پاکستان کو فی کس آمدن میں پانچ سے سات گنا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے مگر ایسا ہونے میں کتنا عرصہ درکار ہوگا؟اگر معاشی ترقی کی شرح موجودہ پانچ سے بڑھ کر سات فیصد ہو جاتی ہے اور سال در سال اسی شرح کو قائم رکھا گیا تو بھی پاکستان کو موجودہ جنوبی کوریا کے مساوی حیثیت پانے کیلئے پچیس سال درکار ہونگے جبکہ پندرہ سال میں وہاں تک پہنچنے کیلئے شرح ترقی بارہ فیصد ہونی چاہئے جو کہ پاکستان کیلئے حاصل کرنا بڑی حد تک مشکل ہے۔

دوسرا نکتہ‘ جہاں پاکستانی معیشت ترقی کر رہی ہے‘ وہاں یہ دیگر ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں نسبتاً پستی کا شکار بھی ہے 1990ء میں بھارت کی فی کس آمدن پاکستان کے مقابلے میں چالیس فیصد کم تھی‘سال دوہزار نو کے آتے آتے یہ سطح مساوی ہوگئی‘ آج بھارت ہم سے دوسو فیصد زیادہ فی کس آمدن رکھتا ہے۔ یہی صورتحال رہی تو پاکستان جلد ہی معاشی دوڑ میں باقی دنیا سے پیچھے رہ جائے گا۔ آخر کس طرح ہم سے پیچھے رہنے والی چین اور بھارت کی معیشتیں چند دہائیوں میں ہی پاکستانی معیشت سے آگے نکل گئیں؟ یا جنوبی کوریا جیسا چھوٹا سا ملک محدود قدرتی وسائل کیساتھ بھی ترقی یافتہ کس طرح بن گیا؟ آخر کس طرح ملائیشیا نے سٹریٹجک مقام پر اپنی موجودگی سے فائدہ اٹھایا اور اپنی نسلی تکثریت کو بھی سنبھالا جبکہ پاکستان ایسا نہیں کر سکا؟ اب جبکہ ہم عام انتخابات کے مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں لہٰذا ہمیں سیاسی پارٹیوں سے ان کے منشور اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے چند کڑے سوالات پوچھنے ہوں گے ہمیں آسان جوابات کے دھوکے میں نہیں آنا ہوگا کرپشن ایک مناسب بہانہ نہیں۔

کرپشن ہر جگہ ہے جبکہ یہاں سے کہیں زیادہ فراڈ تو بھارت میں ہوتے ہیں‘بڑھتی ہوئی آبادی بھی قابل یقین وضاحت نہیں ہے کیونکہ چین اور بھارت کی آبادی ہم سے چھ گنا زیادہ ہے ہمیں سی پیک منصوبے کے وعدوں کی چمک دھمک میں نہیں آنا ہوگا کیونکہ اگر اس منصوبے پر بہترین انداز سے بھی کام ہوا تو بھی زیادہ سے زیادہ ہماری قومی آمدن کی شرح ترقی میں ڈھائی فیصد کا اضافہ ہوگا جبکہ اس کیساتھ ساتھ بنیادی نوعیت کی اصلاحات نہیں ہوں گی پاکستان کی اس بری حالت کی وجہ خراب پالیسیاں‘ غلط ترجیحات اور انتہائی ناگوار طرز حکمرانی ہے۔ ہم چین کے تجربے سے کچھ بہتری لا سکتے ہیں‘ جی ہاں اسی چین کے تجربے کی مدد سے جو تین دہائیاں قبل ہم سے پیچھے تھا‘ وہ اب اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ آج ہم اس سے سہارا لینے پر مجبور ہیں۔(بشکریہ: ڈان۔ تحریر: انجم الطاف۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)