بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / انٹری ٹیسٹ اور مسائل

انٹری ٹیسٹ اور مسائل

میڈیکل اورانجینئرنگ کالجزمیں داخلوں کیلئے انٹری ٹیسٹ کا انعقاد ایٹا کی ذمہ داری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان ٹیسٹس کے انعقاد کے موقع پر ایسے انتظامات کرنا جو اس عمل میں شریک ہونے والے طلبہ و طالبات اور انکے ہمراہ آنے والے اہل خانہ کومختلف حوالوں سے مناسب ماحول فراہم کریں بھی ایٹا ہی کی ذمہ داری ہے یا یہ کام کسی اور ادارے نے انجام دینا ہے؟یہ سوال اتوار 23جولائی کو اسلامیہ کالج اور خیبر میڈیکل کالج میں ہونے والے انٹری ٹیسٹ کے موقع پر حاضرین اور پشاور کے شہریوں کو پیش آنیوالی مشکلات کے تناظر میں اٹھایا جا رہا ہے اس انٹری ٹیسٹ کیلئے اسلامیہ کالجیٹ سکول ہاکی گراونڈ سینٹر میں ساڑھے گیارہ ہزار امیدواروں کو آنا تھا جبکہ اس سے تھوڑے ہی فاصلے پر واقع خیبر میڈیکل کالج کرکٹ گراونڈ پر ساڑھ چھ ہزار سے زائد امیدواروں کو ٹیسٹ میں شریک ہونا تھاان طلبہ و طالبات میں صرف پشاور کے رہائشی ہی نہیں تھے بلکہ کئی دیگر اضلاع بشمول چارسدہ‘ نوشہرہ ‘ مردان ‘کوہاٹ وغیرہ سے بھی امیدواروں کی آمد ہونی تھی اٹھارہ ہزار امیدواروں کی مذکورہ دو سینٹرز میں آمد کے حوالے سے یہ بھی طے تھا کہ ان امیدواروں بالخصوص طالبات میں سے ہر ایک کے ہمراہ یقینی طور پرانکے اہل خانہ میں سے بھی کوئی آئے گا اور یہ آمد نجی گاڑیوں میں بھی ہوگی یعنی یہ واضح تھا کہ نہ صرف انٹری ٹیسٹ کے موقع پر امیدواروں کو لانے والی ہزاروں گاڑیاں خیبر میڈیکل کالج اور اسلامیہ کالجیٹ سکول ( جو قریب قریب واقع ہیں)سے متصل یونیورسٹی روڈکے اطراف پارک ہوں گی بلکہ امیدواروں کے ہمراہ آنے والے اہل خانہ بھی اسی جگہ ٹیسٹ ختم ہونے کا انتظار کریں گے ۔

کیونکہ انھیں مذکورہ دونوں مراکز کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اگر منتظمین پیش بینی کی صلاحیت کو ذرا سا بھی استعمال میں لاتے تو یہ اندازہ لگا نا کچھ مشکل نہ تھا کہ ایک طرف شدید گرمی کے موسم میں امیدواروں کے ہمراہ دور دراز سے آنیوالے خواتین و حضرات کیلئے نہ سروں پر سائبان ہو گا نہ پینے کا پانی دستیاب ہوگا اور انھیں سڑک کنارے تین گھنٹے نامساعد حالات میں گزارنے پڑیں گے جبکہ دوسری جانب ہزاروں اضافی گاڑیوں کی مین روڈ پر پارکنگ کے باعث پشاور کے شہریوں کو زحمت اٹھانا پڑے گی لیکن منتظمین نے اس جانب توجہ نہیں دی۔یہ درست ہے کہ بعض تعلیمی اداروں کی جانب سے طلبہ و طالبات کی رہنمائی کیلئے ٹیسٹ سنٹرز کے آس پاس کیمپس لگائے گئے تھے لیکن ان کیمپس میں اتنی گنجائش نہیں تھی کہ انتظار گاہوں کی کمی پوری کرتے، امیدوار قریب و دور سے آتے رہے اور ان میں سے بہت سوں کو لانے والی گاڑیاں اسلامیہ کالج اور خیبر میڈیکل کالج کے قریب یونیورسٹی روڈ کے دونوں اطراف کھڑی ہوتی رہیں اس مقام پر مین روڈ کے دونوں اطراف تعمیر اتی کام بھی جاری ہے۔

جس کی وجہ سے سڑک کے آس پاس پارکنگ کی زیادہ گنجائش نہیں یوں ایک کے بعد ایک پارک ہونیوالی گاڑی نے دونوں جانب کئی کلو میٹر تک مین روڈ کا آدھا آدھا حصہ گھیر لیا انٹری ٹیسٹ صبح نو بجے شروع ہوا اور 12بجے تک جاری رہا اور اس دوران یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی رہی‘ جیسے ہی ٹیسٹ ختم ہوا اور ہزاروں کی تعدادمیں امیدوار واپسی کیلئے اسلامیہ کالج اور خیبر میڈیکل کالج سے باہر یونیورسٹی روڈ پر آئے صورتحال بے قابو ہو گئی‘ تین گھنٹے تک انٹری ٹیسٹ میں مغز ماری کرنے والے طلبہ و طالبات ‘انکے انتظار میں سڑک کنارے ہلکان ہونے والے انکے اہل خانہ اور یونیورسٹی روڈ سے گزرنے والے پشاور کے شہری سب اس صورتحال سے یکساں طور پر متاثر ہوئے ، گرمی کے موسم میں کئی گھنٹے تک اس ٹریفک بحران کا عذاب سہنے والوں کے دلوں کا حال وہ خود جانتے ہیں یا انکا خدا،اس دوران امیدوار باہمی گفتگو کے دوران ٹیسٹ سنٹرز کے اندر کے ماحول سے متعلق بھی دلوں کی بھڑاس نکالتے رہے ’’ایٹا والے ہر امیدوار سے 1600روپے فیس وصول کرتے ہیں۔

لیکن انکے لئے مطلوبہ تعداد میں پنکھوں تک کا انتظام تک نہیں کیا جاتا دوسرے اضلاع سے آنیوالے بہت سے امیدواروں کا یہ گلہ بھی جائز تھا کہ ٹیسٹ سنٹر پہنچنے کیلئے انھیں فجر کے وقت سے بھی پہلے گھروں سے نکلنا پڑا‘ نیند کی کمی ‘سفر کی تھکاوٹ ‘ ناکافی انتظامات اور گرمی کی شدت نے انکے اعصاب کو بری طرح متاثر کیاجس کا اثر یقیناًنتائج پر پڑے گا یہ انکے ساتھ نا انصافی ہے‘‘موضو ع کی مناسبت سے مزید بہت کچھ رقم کیا جا سکتا ہے لیکن اب سوچنے والی اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ اس روز ہوا اسے مستقبل میں وقوع پذیر ہونے سے روکا کیسے جا سکتا ہے۔