بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مجسٹریسی نظام کی بحالی پر اتفاق

مجسٹریسی نظام کی بحالی پر اتفاق

وطن عزیز کے چاروں صوبوں نے مجسٹریسی نظام کی بحالی پر اتفاق کر لیا ہے‘ خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس مقصد کے لئے وفاق کو قانون سازی کا اختیار دے دیا گیا ہے ‘ ایجنسی اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتا رہی ہے کہ مشرف دور میں ختم کئے جانے والے مجسٹریسی سسٹم کی بحالی کا اشارہ ملتے ہی پولیس نے مزاحمت شروع کر دی ہے اور اس مقصد کے لئے اعلیٰ سطح پر رابطے بھی کئے جارہے ہیں گو کہ اس ضمن میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ترمیم لانے کا حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا تاہم چاروں صوبوں کی جانب سے سسٹم کی بحالی پر اتفاق کے بعد قانون سازی میں انتظامی مجسٹریٹس کو امن و امان اور پرائس کنٹرول کے حوالے سے اختیارات تفویض کئے جانے کا عندیہ دیا جارہا ہے وزیر قانون کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ الگ ہیں اور ان مجسٹریٹس کا عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا مجسٹریسی نظام کی بحالی پر صوبوں کا اتفاق اور وفاق کو اختیارات تفویض کرنا دیر آید درست آید کے مصداق قابل اطمینان ہے اس نظام کی افادیت ایک ایسے وقت میں زیادہ نمایاں ہوتی جارہی ہے جب کہ ملک کے اقتصادی اعشاریوں میں استحکام کے باوجود عام شہری کے لئے گرانی کے ہاتھوں دو وقت کی روٹی پوری کرنا نا ممکن ہوتا جارہا ہے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں شرح نمو بلند ترین سطح پر ہے محصولات میں 73فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ تجارتی خسارہ 8.8 سے کم کرکے 4.4فیصد پر لایا گیا ہے اس سارے بدلتے معاشی منظر نامے میں عالمی ادارے بھی ہماری اقتصادی پالیسیوں کے معترف ہیں دوسری جانب اوپن مارکیٹ کسی کے کنٹرول میں نہیں مہنگائی اور ملاوٹ کی روک تھام کے لئے اضلاع کی سطح پرایڈمنسٹریشن کے اقدامات سطحی ہی قرار دیئے جا سکتے ہیں ۔

کیونکہ اس حوالے سے با اختیار اور فل ٹائم جاب مجسٹریٹس ہی کی تھی پشاور سمیت ملک بھر میں کسی احتجاج کی صورت میں سڑکیں بند ہونا شہریوں کیلئے اذیت کا باعث ہی ہوتا ہے مجسٹریٹس اپنے حاصل اختیارات کے تحت مذاکرات اور ضروری اقدامات کیساتھ اس طرح کی صورتحال کنٹرول میں کرسکتے تھے اس آزمودہ نظام کی بساط جنرل مشرف کے دور میں متعارف کرائے جانے والے بلدیاتی نظام میں لپیٹی گئی اس نظام کے خدوخال ترتیب دینے والوں نے زمینی حقائق کو مدنظر رکھا نہ اس سسٹم کی افادیت اور نچلی سطح تک رسائی کا درست ادراک کیا بعد میں یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنے والوں نے بھی اس سسٹم کی بحالی پر غور نہیں کیا ڈی سی او کو واپس ڈپٹی کمشنر تو بنا دیاگیا لیکن مجسٹریٹ جو کہ آن سپاٹ عوامی ریلیف یقینی بناسکتا ہے ابھی تک تعینات نہ ہوسکا۔

کسی حکومت نے اس حقیقت کا ادراک بھی نہ کیا کہ عوام کے ریلیف اور معیشت کے استحکام کیلئے اس کے ترتیب دیئے گئے قاعدے اور اقدامات صرف اس لئے ثمر آور ہوکر ریلیف کا ذریعہ نہیں بن سکتے کہ ان پر عمل درآمد یقینی بنانے والا مجسٹریسی نظام موجود ہی نہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کے لئے حکومتی اعلانات محض نعرے ہی رہ جاتے ہیں اب اگر چاروں صوبے اس حقیقت کا احساس کرتے ہوئے سسٹم کی بحالی کیلئے متفق ہیں تو وفاق کو فوراً اس سے جڑی رکاوٹیں دور کرتے ہوئے اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ مارکیٹ کنٹرول ہونے پر لوگوں کو تبدیلی کا خوشگوار احساس ہو اور ان کی مشکلات میں کمی آسکے یہ سارا کام اگلے الیکشن سے پہلے ہوجائے تو مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتوں کو بڑا کریڈٹ مل جائے گا۔