بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ہر سچ بولا نہیں جاتا اور خاموشی جھوٹ نہیں ہوتی ٗ فضل الرحمان

ہر سچ بولا نہیں جاتا اور خاموشی جھوٹ نہیں ہوتی ٗ فضل الرحمان

اسلام آباد۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے جن بنیادوں پر فیصلہ دیا ہے اس پر آئینی ماہرین بھی حیران ہیں فیصلے سے ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے ہر سچ بولا نہیں جاتا اور خاموشی جھوٹ نہیں ہوتی ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک عجیب فیصلہ آیا ہے کہ ایک وزیر اعظم کو اس لیے نا اہل کر دیا کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی جس بنیاد پر مدعی اس کیس کو عدالت لیکر گئے تھے ہم سمجھتے تھے کہ وہاں سے کرپشن کے پہاڑ نکلیں گے مگر فیصلہ صرف اس بات پر ہوا کہ انہوں نے تنخواہ کیوں نہیں لی پیسے نہ لینے پر وزیر اعظم کو نا اہل کیا گیا ہے انصاف کو مدنظر نہیں رکھا گیا پاناما کا فیصلہ عالمی معیار پر بھی پورا نہیں اترتا وزیر اعظم کو نا اہل کرنا ملک میں سیاسی بحران پیدا کرنے کے مترادف ہے ۔

سی پیک بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور امریکہ کے مفادات پر بھی ضرب لگ رہی ہے یہ پاکستان کو عدم استحکام اور مذید سیاسی بحران پیدا کرنے کے مترادف ہے سپریم کورٹ سے رشوت کا کوئی پہاڑ نہیں نکلا جس کا بہت زیادہ شور تھا پاناما کیس کے مدعا علیہان کو بھی نیب پر اعتراض ہے اسلیے انہوں نے اپنے صوبے میں علیحدہ احتساب کمیشن بنایا اور نیب کے پاس سپریم کورٹ میں ریفرنسز بھیج دیے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے نااہل ہونے کے بعد آج پاکستان کا کوئی ذمہ دار نہیں سپریم کورٹ کو یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ وزیر اعظم کو نااہل کرنے کے بعد ملک کا ذمہ دار کون ہو گا انہوں نے سوال کیا کہ پاناما فیصلے کے بعد کیا پاکستان میں آف شور کمپنیوں کا پیسہ واپس آجائے گا اگر اسکا جواب نفی میں ہے اور یہ ہر تمام چیزیں اپنی جگہ پر ہی رہیں گی تو وزیر اعظم کو کس لیے ہٹایا گیا چھپانا کس چیز کو کہتے ہیں اسکو بھی واضح کرنا چاہیے۔

اگر کوئی چیز کوئی بندہ شعوری طور پر ظاہر نہ کرے اور بعد میں جب اس سے پوچھا جائے اور وہ مان لے تو وہ جھوٹ نہیں ہوتا ہر سچ بولا نہیں جاتا اور وہ خاموشی جھوٹ نہیں ہوتی جو ماحول ملک میں بنایا جا رہا ہے یہ پاکستان کے لیے مفید نہیں اگر میرے مخالف بھی اسطرح نااہل ہوں گے تو میں اسکے بھی خلاف ہوں گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ سپریم کورٹ کے ججوں کے ذہن میں یہ بات کیوں نہیں آئی کہ وزیر اعظم کو نااہل کرنے کے بعد کابینہ تحلیل ہو جائے گی اور آئین کے تحت ملک کا کوئی ذمہ دار نہ ہو گا انکو بتانا چاہیے تھا کہ اس عرصے کے دوران ملک میں کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو اسکا ذمہ دار کوئی نہیں ہو گا مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جو حالات ہیں انکو کنٹرول کرنا پڑے گا جمہوریت کے حوالے سے ہم بحران پیدا نہیں بلکہ ختم کریں گے اور وزیر اعظم کو کہا ہے کہ جلد از جلد نیا وزیر اعظم لایا جائے اور کابینہ بنائی جائے ۔