بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بڑے کیس کا بڑا فیصلہ

بڑے کیس کا بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کیس میں نوازشریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے فوری عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے‘ عدالت عظمیٰ نے مریم نواز‘ حسین نواز‘ حسن نواز اور اسحاق ڈار کیخلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے اور چھ ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم بھی دیا ہے‘ عدالت عظمیٰ کے متفقہ فیصلے میں اسحاق ڈار اور کیپٹن (ر)صفدر کو بھی نااہل قرار دیا گیا ہے‘ 25صفحات پر مشتمل عدالتی فیصلے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کے کام کو سراہاگیا اور ان کے خلاف کسی بھی اقدام سے گریز کی ہدایت بھی کی گئی‘ خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسلم لیگ ن کے ترجمان نے عدالتی فیصلے پر باقاعدہ ردعمل کاا ظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹیشن کے اندراج سے لیکر فیصلے تک کے مختلف مراحل پر شدید تحفظات کے باوجود سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیاجائیگا‘ مسلم لیگ ن نے اپنے تحفظات کے حوالے سے تمام آئینی وقانونی آپشنز استعمال کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے‘ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم سبکدوش جبکہ کابینہ تحلیل کردی گئی ‘تادم تحریر نئے قائد ایوان کا نام سامنے نہیں آیا۔

عدالتی فیصلے کی روشنی میں پیپلزپارٹی کے یوسف رضا گیلانی بھی اپنے منصب سے ہٹائے گئے تھے جبکہ ماضی میں عدالت ہی کے حکم پر نوازشریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر سے ہٹائے جانے کے بعد بحیثیت وزیراعظم بحال بھی ہوچکے ہیں‘ وطن عزیز میں عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرنے کی روایت قابل اطمینان ہے تاہم اس سب کیساتھ ضرورت سیاسی اور معاشی استحکام کیلئے کوششوں کی ہے‘ وزیراعظم کی نااہلی کی خبروں کیساتھ سٹاک ایکسچینج میں مندی ریکارڈ ہوئی‘ اس وقت ضرورت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کیساتھ غریب اور متوسط شہریوں کو ریلیف دینے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ہے، ضرورت توانائی بحران پر قابو پانے اور 2018ء تک لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کی بھی ہے‘ ضروری یہ بھی ہے کہ سی پیک پر بھرپور توجہ دی جائے‘ اس سب کیلئے سیاسی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ اسی سے وطن کی خوشحالی اور عوام کی ریلیف جڑی ہے‘ جو سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے تاکہ اگلے انتخابات سے قبل لوگوں کو تبدیلی اور ریلیف کا خوشگوار احساس ہو۔

پانی کے بلوں میں اضافہ

سرحد ایوان صنعت وتجارت نے پشاور کیلئے پانی کے بلوں میں اضافہ مسترد کردیا ہے‘ چیمبر کے صدر حاجی افضل نے وزیر اعلیٰ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے‘ پشاور کی ضلع کونسل کے رکن صفدر باغی نے اس اضافے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے‘ واٹر ریٹ میں اضافہ گرانی کے مارے غریب اور متوسط شہریوں کیلئے اضافی بوجھ بن جائیگا‘ دوسری جانب اس سے بھی بڑا مسئلہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا ہے۔

‘ پشاور میں پانی کے پائپ نالیوں سے گزرتے ہیں جو کسی صورت محفوظ نہیں قرار دیئے جاسکتے‘ ذمہ دار ادارے مختلف علاقوں میں پانی کا لیبارٹری سے تجزیہ کرانے کو ضروری نہیں سمجھتے‘کچھ عرصہ قبل شہر کی بعض یونین کونسلوں میں فلٹریشن پلانٹ لگائے گئے اگر یہ سلسلہ بھی مزید وسیع ہوجائے تو صاف پانی مل سکتا ہے‘ پانی کے بلوں میں اضافے سے قبل اگر پانی کی صفائی یقینی بنائی جائے تو اضافے کا جواز بن سکتا تھا‘ صوبائی حکومت کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے خصوصی مہم شروع کرنے کی غرض سے متعلقہ دفاتر کوفوری طورپر وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔