بریکنگ نیوز
Home / کالم / سارک کامستقبل!

سارک کامستقبل!

افغانستان‘ بنگلہ دیش‘ بھوٹان‘ بھارت‘ مالدیپ‘ نیپال‘ پاکستان اور سری لنکا پر مشتمل ’’ساؤتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن (سارک)‘ تنظیم کے رکن ممالک کا اجلاس ہر سال ہونا چاہئے‘ جس کا مقصد رکن ممالک میں تعاون کے فروغ اور اختلافات کا خاتمہ ہے لیکن افسوس کہ اس تنظیم کے بعض سالانہ اجلاس اسلئے منعقد نہیں ہو سکے کیونکہ اختلاف ختم کرنیوالے خود اختلافات کا شکار ہیں! تاہم پاکستان کی جانب سے ’سارک کی فعالیت‘ پر ہمیشہ ضرور دیا گیا اور اسکی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔ سارک تنظیم کا قیام اس خطے کے ممالک کے مابین یگانگت اور علاقائی سطح کے باہمی تنازعات و مسائل اتفاق و یکجہتی کیساتھ حل کرنے کی غرض سے عمل میں آیا تھا پاکستان اور بھارت کے علاوہ بنگلہ دیش‘ سری لنکا‘ مالدیپ‘ نیپال اور بھوٹان اس کے بنیادی ارکان ہیں اور ہر سال حروف تہجی کے اعتبار سے اس تنظیم کی چیئرمین شپ تبدیل ہوتی ہے جبکہ سارک سربراہ کانفرنس تنظیم کے سربراہ ملک میں منعقد ہوتی ہے اور اس کانفرنس میں ہی سارک کے اگلے سربراہ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال سارک تنظیم کی قیادت پاکستان کے پاس تھی۔

سارک تنظیم کے وضع کردہ اس اصول کے تحت گزشتہ سال سارک سربراہ کانفرنس کا انعقاد اسلام آباد میں ہونا طے تھا جس کیلئے تاریخ بھی مقرر ہو چکی تھی مگر بھارت نے پٹھان کوٹ اور اڑی دہشت گرد حملوں کو جواز بنا کر پاکستان میں منعقد ہونیوالی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا اور سارک تنظیم کے دیگر ممالک بنگلہ دیش اور بھوٹان کو بھی اپنے ساتھ ملا کر اسلام آباد کی سارک سربراہ کانفرنس کو سبوتاژ کر دیا۔بھارت درحقیقت خطے میں اپنی حاکمیت قائم کرنا چاہتا ہے جس کیلئے اسے امریکہ کی تھپکی حاصل ہے جبکہ امریکہ اسے خطے میں چین کے توڑ کیلئے غلبہ دلانا چاہتا ہے اسی تناظر میں بھارت نے سارک تنظیم کے رکن چھوٹے ممالک کو اپنا مطیع بنایا۔ جس تنظیم کا قیام خطے کے ممالک کے باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے ساتھ مختلف مسائل پر پیدا ہونے والے اختلافات کے حل کیلئے عمل میں لایا گیا تھااسکے پلیٹ فارم پر صرف بھارتی مفادات کے تحفظ کی بات ہونے لگی اور پاکستان کیساتھ بھارت کے پیداکردہ مسئلہ کشمیر کا تذکرہ بھی علاقائی تعاون کے اس پلیٹ فارم پر شجر ممنوعہ بن گیا‘بھارت نے اس تنظیم میں اپنی بالادستی کا احساس دلانے کیلئے سربراہی کانفرنس کا انعقاد اپنی مرضی کے تابع کرلیا چنانچہ وہ جب چاہتا سربراہی کانفرنس ملتوی کرادیتا اور جیسے چاہتا کانفرنس کا ایجنڈا طے کرادیتا۔

اس نے کانفرنس کے رکن چھوٹے ممالک کو تو عملاً اپنی کالونی کا درجہ دلانے کی کوشش کی اور اس کی بدنیتی کی بنیاد پر ہی گزشتہ سال نیپال کی بھارت کیساتھ سخت کشیدگی کی فضا قائم ہوئی کیونکہ بھارت نے نیپال کا آئین اسے ڈکٹیٹ کرانے کی کوشش کی تھی جسکی نیپال نے سخت مزاحمت کی‘ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی مجوزہ سارک سربراہ کانفرنس میں لازمی طور پر نیپال بھارت تنازعہ پر بھی بات ہونی تھی جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے نئے ہتھکنڈوں پر بھی اس کانفرنس میں آواز اٹھائی جانی تھی چنانچہ غالب اِمکان یہی ہے کہ بھارت نے اِن دونوں معاملات سے بچنے کیلئے دانستہ طور پر اسلام آباد کی سارک سربراہ کانفرنس سبوتاژ کی۔ تکنیکی طور پر پاکستان سارک تنظیم کا سربراہ ہے کیونکہ سربراہ کی تبدیلی سربراہ کانفرنس میں ہی عمل میں آتی ہے جسکی بھارت نے اب تک نوبت ہی نہیں آنے دی چنانچہ پاکستان کی سربراہی کے دوران سربراہ کانفرنس کا انعقاد بھی پاکستان ہی میں ہونا ہے اگر بھارت پاکستان کیساتھ اپنے خبث باطن کی بنیاد پر سارک سربراہ کانفرنس کے پاکستان میں انعقاد کی راہ میں روڑے اٹکانے سے باز نہیں آتا تو یہ تنظیم عملاً ختم ہو جائیگی جسکی پاکستان ہی نہیں‘ سارک کے دوسرے رکن ممالک کو بھی فکرمندی ہے اور اسی تناظر میں مالدیپ کے صدر نے سارک سربراہ کانفرنس کے پاکستان ہی میں انعقاد کی حمایت کی ہے باہمی علاقائی تعاون کو فروغ دینے کیلئے اگر سارک تنظیم کو برقرار رکھنا مقصود ہے تو پھر اس تنظیم پر بھارت کی بالادستی والی چھاپ ختم کرنا ہوگی اگر پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے مؤثر لابنگ کی جائے تو سارک تنظیم کے رکن ممالک کی غالب اکثریت سارک تنظیم کو بچانے کیلئے ہمارے ساتھ آسکتی ہے۔دیکھنایہ ہے کہ علاقائی تعاون کی تنظیمیں مضبوط بنانے میں پاکستان کتنا کامیاب اور بھارت کو کس قدر شکست دے پاتا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر ابوبکر سعیدی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)