بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / پاک مالدیپ تعلقات

پاک مالدیپ تعلقات

پاکستان اورمالدیپ نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے ‘دہشت گردی کے خاتمے اور سارک کے کردار کو مزید فعال بنانے کیلئے مل کر کام کرنے پر اتقاق کیا ہے۔یہ اتفاق (سابق )وزیراعظم نواز شریف کے تین روزے سرکاری دورے کے موقع پر مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبد القیوم سے ہونے والی ملاقات اور بعدازاں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا ہے۔مالدیپ کا شمار سارک تنظیم کے ایک فعال اور اہم رکن کے علاوہ پاکستان کے قریبی دوست ممالک میں ہوتا ہے مالدیپ نے ایک انتہائی چھوٹا اور بظاہر کمزورملک ہونے کے باوجود سارک کے پلیٹ فارم سے خطے کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے وژن کے حصول میں فعال کردار ادا کیا ہے جسکا واضح ثبوت مالدیپ کے صدر کا بھارتی مخالفت کے باوجودپاکستان میں سارک سربراہ کانفرنس کے انعقاد کی پرزور حمایت کرنا ہے چاروں طرف پانی میں گھرا ہونے اورانتہائی کم رقبے کا حامل ہونے کے باوجود مالدیپ کی اکثر آبادی کا معیار زندگی عالمی اداروں کے اعدادو شمار کے مطابق اپر مڈل کلاس کے بین الاقوامی زمرے میں آتا ہے۔ مالدیپ کے دوبڑے ذرائع آمدن ماہی گیری اورسیاحت ہیں۔دارالحکومت مالے کے علاوہ ملک میں چار بین الاقوامی اور آٹھ قومی ہوائی اڈے قائم ہیں جہاں ملکی اور بین الاقوامی فضائی کمپنیاں خدمات انجام دے رہی ہیں مالدیپ کے مختلف علاقوں کے درمیان رابطے کا سب سے موثر اور سستا ذریعہ چھوٹے بحری جہاز اورجدیدکشتیاں ہیں جبکہ یہاں سطح آب پر اترنے والے چھوٹے ہوائی جہازوں کا استعمال بھی عام ہے جوزیادہ تر اندرون ملک آمدورفت کا ایک بہتر اور محفوظ ذریعہ سمجھتے جاتے ہیں۔

مالدیپ نے پچھلے کچھ عرصہ کے دوران سیاحت کے شعبے میں بے پناہ ترقی کی ہے جس سے ملک کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہو رہا ہے یہاں کے ساحل سمندر بالخصوص سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے مناظر سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کے حامل ہیں مالدیپ کی آبادی کی غالب اکثریت سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ یہاں زیادہ تر شرعی قوانین نافذ ہیں اور ملکی آئین کے مطابق شریعت کو ملک کا بالادست قانون ہونے کا اعزاز حاصل ہے اسلام کی دعوت یہاں بارہویں صدی عیسویں کے وسط میں یہاں کے بدھ مت کے پیروکا رحکمران دھومی نے اسلام قبول کیا تو انکی دیکھادیکھی باقی آبادی نے بھی بڑی تعداد میں مشرف بہ اسلام ہونے میں دیر نہیں لگائی۔سولہویں صدی میں یہاں پرتگیزیوں اور اٹھارویں صدی عیسوی میں ولندیزیوں کا محدود قبضہ رہا البتہ اٹھارویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے وسط میں انگریز برصغیر پاک وہند کیساتھ ساتھ مالدیپ پر بھی اپنا قبضہ جمانے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن ہندوستان پر مکمل قبضے کے برعکس مالدیپ کے حکمرانوں کیساتھ ایک معاہدے کے تحت انگریزوں نے یہاں اپنے عارضی قبضے کو ترجیح دی تھی یعنی یہ علاقہ اندرونی طور پر توخود مختار تھا لیکن بیرونی معاملات برطانوی حکمرانوں کے ہاتھ میں تھے مالدیپ نے برطانوی سامراج سے مکمل آزادی 1965میں حاصل کی۔ شروع میں یہاں شاہی نظام رائج تھا البتہ بعد میں ملک کو جمہوریہ قرار دے کر یہاں صدارتی جمہوی نظام کی داغ بیل ڈالی گئی۔ خطے کے دیگر ممالک کی طرح مالدیپ بھی ماضی میں سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے مامون عبدالقیوم کے تیس سالہ عرصہ اقتدار کے خاتمے کی بعد برسراقتدار آنے والے سابق صدر محمدناشید کو بھی سکون سے حکومت نہیں کرنے دی گئی جبکہ موجودہ صدر کے خلاف بھی سیاسی محاذآرائی عروج پر ہے چند دن پہلے قانون ساز پارلیمان کے سپیکرکے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی جاچکی ہے جسکو ناکام بنانے کیلئے ایوان صدر پر ریاستی طاقت کے استعمال کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔

2008میں صدر کے لامحدود اختیارات کو محد ودکر کے ایوان صدر ، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان توازن قائم کرنے کیلئے آئین میں بعض اصلاحات کی گئی ہیں جس کے بعد حالات قدرے پرسکون چلے آ رہے ہیں لیکن اب حالات سیاسی ابتری کی طرف ایک بار پھر گامزن نظر آتے ہیں ۔نئے اصلاحات کے تحت اب کوئی بھی صدر دو ٹینورز سے زیادہ صدر نہیں بن سکتا اس طرح بعض معاملات میں صدر کو پارلیمنٹ اورعدلیہ کے سامنے جوابدہ بنایا گیا ہے حرف آخر یہ کہ پاکستان اور مالدیپ چونکہ مذہب اور مشترکہ تہذیب وثقافت کے اٹوٹ رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں اسلئے دونوں ممالک کے درمیان انتہائی قریبی دوستانہ تعلقات خطے کی بدلتی ہوئی جیوسٹریٹجک صورتحال اور بالخصوص سارک کو ایک موثر پلیٹ فارم بنا کر اسے بھارتی بالادستی سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔