بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / انسانیت سوزواقعات کاتدارک

انسانیت سوزواقعات کاتدارک

ملتان کے ایک گاؤں میں پنچائیت نے ظلم و بربریت کی نئی داستان رقم کر دی ہے جوکسی بھی مہذب انسان کی زبان یاقلم پرنہیںآسکتاتاہم اس واقعہ کے بعدنہ صرف خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے پھرتی کامظاہرہ کرتے ہوئے قانون نافذکرنیوالے اداروں کوذمہ داریاں نبھانے کی ہدایت کی بلکہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے بھی اس کا نوٹس لیاہے پنجاب میںیہ پہلاواقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل قصورکے ایک نواحی علاقے میں بھی اسی قسم کاسانحہ رونما ہوا تھاذرائع ابلاغ بالخصوص نجی ٹیلی ویژن کے سامنے دن بھربیٹھے شخص کوپنجاب کاموازنہ خیبرپختونخوا‘ بلوچستان یاسندھ سے کرنے میں کافی آسانی ہوتی ہے اگرپنجاب کے کسی بھی سیاسی رہنما بالخصوص حکمران پارٹی کے عہدیداروں‘قانون کے رکھوالوں‘سول انتظامی افسران‘ ذرائع ابلاغ میں فرائض سرانجام دینے والوںیالکھاریوںیعنی کالم نویسوں کیساتھ اگرواسطہ ہو جائے تووہ اسی پنجاب کے امن وامان کی صورتحال اورانتظامی حالات یعنی گورننس کودیگرتین صوبوں سے بہت زیادہ بہتر قراردینے کے دعوے کرتے ہیں حالانکہ پنجاب کے درجنوں شہروں میں روزانہ کے حساب سے انسانیت سوز واقعات رونماہوتے رہتے ہیں پنجاب کے دیہی علاقوں جہاں پر غربت کی شرح انتہائی زیادہ ہے میں تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے برابرہیں ابھی تک زیادہ ترلوگوں کی زندگیاں جاگیرداروں ‘ نوابوں اور سرداروں کے رحم وکرم پرہیں اسکایہ مطلب نہیں کہ خیبرپختونخوا‘بلوچستان یاسندھ میں حالات بہترہیں وہاں پربھی اسی قسم کا جاگیردارانہ نظام قائم ہے کم ازکم صوبہ خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں کے حالات اس حوالے سے بہت بہترہیں اسی طرح بلوچستان کے سرداری نظام میں تومردوں کوسخت سے سخت سزائیں دی جاتی ہیں مگرپھربھی خواتین کیساتھ ملتان والا سلوک نہیں کیاجاتاسندھ کے تمام تردیہی علاقوں میں وڈیروں اور جاگیرداروں نے ذاتی جیلیں بنا رکھی ہیں جہاں پروہ اپنے مزارع اورکمیوں کواہل خانہ سمیت بندکردیتے ہیں مگروہاں پربھی پنجاب میں روزانہ کے حساب سے رونماہونے والے انسانیت سوزواقعات رونمانہیں ہوتے تاریخی طورپر خیبرپختونخواکامعاشرتی ڈھانچہ برابری اور مساوات کی بنیادپرقائم ہے۔

یہاں پرٹھیک ہے کہ بعض علاقوں میں نوابی‘خان ازم یا جاگیردارانہ نظام قائم ہے مگریہ فرسودہ نظام اب حالت نزع میں ہے اورصدیوں سے طاقتور نواب‘ جاگیردار یا خان ازم کے خاندانوں کااب وہ اثرورسوخ نہیں ہے جوکبھی تھا تعلیم اورشعور پختونخواکے طول وعرض میں کمزور بے زبان اور مجبورلوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لائے ہیں کسی بھی طورپر پنجاب کے تمام معاشرے کوملتان جیسے انسانیت سوزواقعہ کیلئے موردالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا مگر پنجاب ہی کے باشعورطبقے بالخصوص دانشوروں کا فرض بنتاہے کہ وہ پنجاب میں موجودمعاشرتی برائیوں پرپردہ نہ ڈالیں اورپنجاب ہی میں رونما ہونیوالے انسانیت سوزواقعات بالخصوص دہشت گردی‘تشددیاآبرویزی کودیگرصوبوں کے کھاتے میں نہ ڈالیں آبرویزی سے ہٹ کر دہشتگردی اور انتہا پسندی فی الوقت ملک بھر بالخصوص خیبر پختونخوا کیلئے ایک بہت اہم مسئلہ ہے ویسے تو لگ بھگ پچھلی چاردہائیوں سے خیبر پختونخوا اورملحقہ قبائلی علاقوں میں ہمسایہ ملک افغانستان میں اسلام کے نعرے پرجاری عالمی محاذآرائی کی وجہ سے آگ وخون کاکھیل جاری ہے مگرپچھلی دو دہائیوں کے دوران اس بدقسمت خطے کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں خاندان دہشت گردی اورانتہاپسندی سے شدیدمتاثرہوئے ہیں۔

لاکھوں کی تعدادمیں لوگ بے گھراوربے آسرا ہو گئے عرصہ درازسے نوابوں اوربادشاہوں جیسی زندگیاں گزارنے والے قبائلی عمائدین اب ملک کے طول وعرض میں مہاجرین جیسی زندگیاں گزارنے پرمجبورہیں مگرجب بھی دہشت گردی اورتشددکاکوئی واقعہ رونماہوتاہے تومخصوص ذہنیت کے حامل افراد اسے ہمارے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں موجود 70کی لگ بھگ تنظیموں میں اکثریت کی بنیادیں پنجاب ہی میں ہیں اس صورتحال میں نہ صرف پنجاب بلکہ وفاقی حکومت کافرض بنتاہے کہ برائیوں کی اصل جڑکاٹنے پر توجہ مرکوزکرے اپنے ہاں موجود برائیوں پرچشم پوشی کے بجائے دیگر وفاقی وحدتوں کوساتھ ملا کر ملک بھرمیں ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن سے ملتان جیسے انسانیت سوزواقعات رونمانہ ہوں ملک بھرمیں امن وامان کی فضاء قائم ہوجس میں مرداورخواتین کی عزت ووقار میں اضافہ ہو اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والوں کوآگاہی وشعورکی مہمات جاری رکھنے کے مواقع ملیں۔