بریکنگ نیوز
Home / کالم / مت سمجھوہم نے بھلادیا

مت سمجھوہم نے بھلادیا

یوں تو لندن میں واقع لارڈز کے کرکٹ گراؤنڈ کو کرکٹ کا مرکز سمجھا جاتا ہے لیکن لندن ہی میں واقع اوول کے کرکٹ گراؤنڈ کی بھی کوئی کم حیثیت نہیں آج کل اس گراؤنڈ پر جنوبی افر یقہ اور انگلستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان جو ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا ہے اس کا آج تیسرا دن ہے او ر یہ اوول کے میدان میں کھیلا جانے والا 100 واں کرکٹ ٹیسٹ میچ ہے پاکستان کے لئے اوول کا یہی ٹیسٹ گراؤنڈ اس لئے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ آج سے ٹھیک 63 برس پہلے 1954 میں پاکستان نے اگست کے مہینے میں اس گراؤنڈ پر ایک ٹیسٹ میچ میں انگلستان کی کرکٹ ٹیم کو 29 رنز سے مات دے کر دنیائے کرکٹ میں اپنی شناخت کروا دی تھی اور اپنے لئے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا دروازہ کھول دیا جس انگلستانی ٹیم کو 1954ء میں ہم نے ہرایا وہ کوئی معمولی ٹیم نہ تھی ان دنوں پہلے تو بہت کم ملک کرکٹ کھیلتے تھے ان دنوں انگلستان ‘آسٹریلیا‘ غرب الہند ‘ بھارت اور پاکستان کرکٹ کھیلتے تھے زمبابوے ‘ کینیا‘ آئر لینڈ‘ سری لنکا‘ بنگلہ دیش وغیرہ کی کرکٹ ٹیموں کا وجودعمل میں نہیں آیا تھا جس پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 1954ء میں اوول کے میدان میں انگلستان کو ہرایا آج اس ٹیم کے نوے فیصد کھلاڑی بقید حیات نہیں عبدالحفیظ کاردار ‘ فضل محمود‘ محمود حسین ‘ خان محمد ‘ حنیف محمد‘ علم الدین ‘ امتیاز احمد ‘ مقصود احمد ‘ ذوالفقار احمد ‘ شجاع الدین میں سے آج کوئی بھی زندہ نہیں یہ کھلاڑی صحیح معنوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیروتھے اس زمانے میں کرکٹ ابھی کمرشل انڈسٹری میں تبدیل نہیں ہوئی تھی کھلاڑی اپنے شوق کی خاطر اور اپنے وطن کا نام روشن کرنے کی خاطر کھیلتے تھے ان کو جو معاوضہ دیا جاتا وہ نہ ہونے کے برابر ہوتا لیکن کیا مجال کہ کبھی ان میں سے کسی نے کبھی کوئی گلہ کیا ہو ان دنوں کرکٹ کا کھیل مختلف اقسام کی جوئے بازی مثلاً سپاٹ فکسنگ ‘ میچ فکسنگ اور بال ٹمپرنگ سے آلودہ نہ ہوئی تھی جس انگلستانی کرکٹ ٹیم کا پاکستان نے 1954ء میں سامنا کیا اس کی قیادت دنیاکے مایہ ناز بلے باز سر لین ہٹن کیا کرتے تھے ۔

اس میں عظیم بلے باز ڈینس کاٹن‘ پیٹرمے کھیلتے اس ٹیم میں ٹائی سن اور سٹیتھم جیسے فاسٹ باؤلر کھیلتے تھے انگلستان کی سرزمین پر یہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا پہلا دورہ تھا وہاں کی وکٹوں پر کھیلنے کا ہمارے کھلاڑیوں کوکوئی تجربہ نہ تھا جس کمال مہارت سے ہمارے کھلاڑی وہاں کھیلے اس نے انگلستان کے کرکٹ مبصرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا فضل محمود میڈیم فاسٹ باؤلر تھے اس میچ میں انگلستانی بلے بازوں کو ان کے لیگ کٹرز کھیلنے میں کافی دقت کا سامنا کرنا پڑا اوول ٹیسٹ میں مجموعی طور پر فضل محمود نے بارہ وکٹیں لیں اوول میں شاندار کارکردگی پر انگلستان کے کرکٹ بورڈ نے اوول گراؤنڈ کے پویلین کے ایک ہال کو ان کے نام سے منسوب کر دیا اس ٹیم میں حنیف محمد اور علیم الدین ہمارے اوپننگ بیٹسمین ہوا کرتے وقار حسین ون ڈاؤن پوزیشن پرکھیلتے ان کے بعد مقصود احمد اور امتیاز احمد بیٹنگ کرنے آتے ان کے بعد حفیظ کاردار اورشجاع الدین بیٹنگ کرتے امتیازا حمد نہ صرف یہ کہ ایک نہایت ہی متحرک قسم کے وکٹ کیپر تھے وہ بلے بازی بھی بڑے جارخانہ انداز میں کرتے عبدالحفیظ کاردار جیساکپتان پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں پھر نہ آیا پاکستان کی باؤلنگ کا آغاز خان محمد اورمحمود حسین کیا کرتے آج اوول کے کرکٹ گراؤنڈ میں ایک نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے آج اس گراؤنڈ کو یہ اعزاز حاصل ہو گیا ہے کہ اس میں 100 واں ٹیسٹ میچ کھیلا جا رہا ہے ۔