بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / 22سالہ طالبہ کو 14ماہ بعد انصاف مل گیا

22سالہ طالبہ کو 14ماہ بعد انصاف مل گیا


لاہور۔کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسین اعوان نے 22 سالہ قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملہ کے مقدمہ میں ملوث ملزم شاہ حسین کو 6 مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 23 سال قید اور 3 لاکھ 84 ہزار جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا ہے، عدالت نے اقدام قتل کی دفعہ کے تحت ملزم کو سات سال قید اور 50 ہزار جرمانہ کیا، ملزم شاہ حسین سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل تنویر ہاشمی ایڈووکیٹ کا بیٹا ہے، عدالتی فیصلے کے بعد ملزم کو احاطہ عدالت میں پولیس نے گرفتار کر لیا۔

ملزم شاہ حسین کے خلاف تھانہ سول لائنز پولیس نے 3 مئی 2016ء کو خدیجہ صدیقی پر چھریوں کے وار کر کے اسے زخمی کیا، واقعہ میں خدیجہ صدیقی کو چھریوں کے 23 زخم آئے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے مقدمے پر انتظامی نوٹس لے کر ایک ماہ میں کیس کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی، جوڈیشل مجسٹریٹ نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت مکمل کر کے 27 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا، عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزم شاہ حسین کو 6 مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 23 سال قید اور 3 لاکھ 84 ہزار جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا، عدالتی حکم کے مطابق ملزم جب تک خدیجہ صدیقی کو جرمانہ ادا نہیں کرتا اس وقت تک رہا نہیں ہو سکے گا، استغاثہ کی جانب سے ملزم شاہ حسین کے خلاف 12 گواہ پیش کیے گئے جن میں آٹھ پولیس اہلکار، خدیجہ صدیقی کی چھوٹی بہن ان کے ڈرائیور سمیت دیگر شامل تھے۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ ملزم قانون کا طالب علم ہے جس کے سامنے ایک شاندار مستقبل ہے مگر خدیجہ صدیقی بھی ایک نوجوان طالبہ ہے جس پر گزرنے والے کرب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، مقدمے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم سے رعایت نہیں برتی جا سکتی، عدالتی فیصلے کے بعد ملزم کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا، فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خدیجہ صدیقی نے کہا کہ اس نے 23 خنجروں کے وار کرنے کا حساب لیا ہے، انہوں نے انصاف کے لئے لمبا سفر کیا ہے لیکن عورت کو خود کمزور نہیں سمجھنا چاہیے، زندگی اور عزت اللہ نے دی میری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے۔