بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اور کیو ڈبلیو پی کی راہیں جدا

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اور کیو ڈبلیو پی کی راہیں جدا

اسلام آباد۔پاکستان تحریک انصاف نے قومی وطن پارٹی کو پاناماکیس میں ساتھ نہ دینے پر ایک دفعہ پھر حکومت سے علیحدہ کردیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شاہ فرمان اور وزیر مال علی امین گنڈاپورنے خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ شاہ فرمان نے کہا کہ ہماری حکومت کے چار سال پورے ہوگئے ہیں اور خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمارے سیاسی مخالف سوال اٹھاتے رہے اور یہ تمام سوالات پاناما کیس کے دوران یکجا ہوگئے۔

خیبرپختونخوا میں حکومت میں ہمارے اتحادی بھی موجود ہیں اتحادی پارٹیاں سوفیصد ایک دوسرے کے منشور سے متفق نہیں ہوتیں لیکن پھر بھی مشترکات کی بنیاد پراتحادی حکومت چلتی ہے ۔ پانامالیکس کے معاملے پر جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا موقف ایک ہے لیکن قومی وطن پارٹی ان ایشوز پر ہمارا ساتھ نہیں دیا ۔ اس حوالے سے ہمارے ورکرز اور عوام ہم سے سوال پوچھتے ہیں کہ اگر آپ کی پالیسیاں نہیں ملتیں تو کیا صرف اقتدار کیلئے اکٹھے ہوگئے ہیں جس کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے ۔

اس لیے اس فیصلے پر ہم مجبور ہوچکے ہیں جب پالیسیوں میں فرق ہے راستے جداہیں تو صرف حکومت اور اقتدار کی خاطر قومی وطن پارٹی کے ساتھ اکٹھا نہیں رہا سکتا ۔ ہم نے خیبرپختونخوا حکومت کے اندر قومی وطن پارٹی کے ساتھ اپنے سیاسی راستے جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ یہ ہماری مجبوری ہے کیونکہ ہمیں عوام کو جواب دینا پڑتا ہے ہماری 21سالہ جدوجہد ہے جو صرف ایک سوچ اور نظریے کیلئے ہے ۔ اقتدار کی خاطر کسی کو اپنے ساتھ اکٹھا نہیں رکھ سکتے چیئرمین تحریک انصاف نے مشاورت کے ساتھ یہ فیصلہ کیا ہے ۔وزیر مال علی امین گنڈا پور نے کہا کہ فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کے اندر احتساب کیا جائے گا۔

پارٹی چیئرمین عمران خان کمیٹی تشکیل دیں گے جو پارٹی کے اندر احتساب کرے گی ۔ قوم کو بتائیں کے ہم اپنے گھر سے احتساب کی شروعات کررہے ہیں پارٹی کے لوگوں کو جو بھی شکایات ہوں گی وہ کمیٹی کو کریں گے اور کمیٹی اس کا جائزہ لے گی کمیٹی کا فیصلہ حتمی تسلیم کیا جائے گااور جو بھی سفارشات کمیٹی کی طرف سے آئیں گی ان پر عملدرآمد ہوگا۔ ہم پاکستان اور تحریک انصاف کو کرپشن فری بنائیں گے ایک سوال پر شاہ فرمان نے کہا کہ تحریک انصاف کے اندر فیصلے اقتدار کیلئے نہیں کئے جاتے اگر ہمارا مقصد اقتدار ہوگاتو ہم کسی بھی چیز پر سمجھوتہ کرلیں گے ۔

ہمیں اس چیز سے کوئی غرض نہیں کہ حکومت رہتی ہے یا نہیں لیکن ہم نے اصولی فیصلہ کرلیا ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پرویز خٹک کے پاس اختیار ہے اور جوبھی قانونی اور آئینی طریقہ ہوگااس کے ذریعے قومی وطن پارٹی کے وزراء کو علیحدہ کیا جائے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے احتساب کمیشن کی تشکیل کا اختیار ہائی کورٹ کے چار سینئرز ججز کو دے دیا ہے حکومت اور اپوزیشن کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہوگااور آج ہم اپنے اس فیصلے پر خوش ہیں ۔

نیب یا احتساب کمیشن سمیت اگر کوئی بھی ادارہ میرے خلاف ایکشن لے سکتا ہے تو میرے پاس اس کے چیئرمین کی تشکیل کا کوئی اختیار نہیں ہونا چاہیے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں وزیر اعلی اور صوبائی وزیر عاطف خان کا کوئی الگ الگ گروپ نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح کی کوئی چیز پارٹی کے اندر موجود ہے