بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فخر ہے میری نااہلی کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی ٗ نوا زشریف

فخر ہے میری نااہلی کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی ٗ نوا زشریف

اسلام آباد۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ50، 55 دن میں شہباز شریف منتخب ہو کر آ جائیں گے،آپ سب ان کی حمایت کریں، مجھے فخر ہے کہ میری نا اہلی کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی، میں نے غلط کام کیا ہوتا تو میں ضرور استعفیٰ دے دیتا،میں نے استعفیٰ نہیں دیا تو ویسے نکال دیا گیا،ہمارے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہم اس کے مستحق نہیں ، ہماری ساتھ بہت غلط سلوک کیا گیا،نابالغ سیاستدانوں نے جھوٹی تہمتوں کی حد کر دی اور آج خود بھی اسی الزام میں گھرے ہوئے ہیں،سمجھ نہیں آتی کچھ وصول کرو تب مصیبت، کچھ نہ وصول کرو تب بھی مصیبت ہے، جنہوں نے آج تک وصول کیا ہے اس ملک میں یا غاصبانہ قبضہ کیا ، رشوت لی ان کو تو کوئی نہیں پوچھتا، جنہوں نے کچھ وصول نہیں کیا بلکہ پلے سے دیا ان کے اوپر عجیب طرح کے کیسز بنا کر نا اہل کر دیا جاتا ہے۔

میں 20،25 سال پہلے نظریاتی آدمی شاید نہیں تھا مگر آج نظریاتی آدمی بن چکا ہوں،،ہمیں خدا نے بہت سرمایہ دیا یہاں تو وہ لوگ سرمایہ دار ہیں جن کے پاس ذرائع بھی نہیں ہیں،جب بھی ملک میں مارشل لاء لگتا ہے تو اس کے پیچھے ساری فوج نہیں ہوتی بلکہ چند لوگ ہوتے ہیں، یہی کہتا ہوں کہ پاکستان نے اپنی منزل پانی ہے تو آئین اور قانون کی پاسداری ہی ایک ایسا راستہ ہے جس پر چل کر ترقی و خوشحالی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں،آج تک کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا اور اسمبلیاں بھی لگاتار توڑی جاتی رہی ہیں، اگر ایسے معاملہ چلتا رہا تو خدانخواستہ ملک کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتا ہے۔

مجھے اپنی ذات کی نہیں بلکہ پاکستان کی پرواہ ہے،میں ملک کی خاطرآئین و قانون کا دفاع کروں گا چاہے اس کیلئے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے، میرے ساتھ جو ہونا تھا ہو گیا ، ہم نے پاکستان کو بدلنا ہے،اقتدار کی خاطر یہ بات نہیں کر رہابلکہ پاکستان کو سہی ڈگر پر لانے کیلئے آپ لوگوں نے میرا ساتھ دینا ہے، اپنی 35,40سالہ جدوجہد کو ضائع نہیں کرنا چاہتا ،چاہتا ہوں کہ جدوجہد اس ملک اور قوم کے کام آئے اسکا فائدہ 20کروڑ عوام کو پہنچے،پاکستان کو مصیبتوں سے نکالنے کے علاوہ میری کوئی خواہش نہیں۔ وہ ہفتہ کو پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میری نا اہلی کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی، اس بات پر نہیں ہوئی کہ میں نے قوم کی امانت میں خیانت کی ہے، صرف اس چار سالہ دور میں نہیں بلکہ پچھلے ادوار میں بھی کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ میرا دامن صاف ہے، مجھے صرف اس بات پر نکالا گیا کہ میری جلا وطنی کے دنوں میں ویزا لینے کیلئے بہت مشکلات تھیں میں لندن میں 3ماہ سے زیادہ وقت نہیں رک سکتا تھا بلکہ مجھے دبئی جا کر پھر واپس لندن رہنے آنا پڑتا تھا، میری جلا وطنی کے دنوں میں میرے پاس پاسپورٹ بھی نہیں تھا، ان دنوں ہمارا سیاسی مرکز لندن میں ہی تھا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پچھلا سوا سال ہمارا پانامہ کے مسئلے میں ہی گزرا ہے اور بے پر کی اڑائی گئی ہے اتنی دھول اڑائی گئی، کوئی چینل کچھ کہہ رہا ہے، کوئی کچھ کہہ رہا ہے، نابالغ سیاستدانوں نے جھوٹی تہمتوں کی حد کر دی اور آج خود بھی اسی الزام میں گھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خدا نے بہت سرمایہ دیا اور اس کے ذرائع بھی دیئے مگر یہاں تو وہ لوگ سرمایہ دار ہیں جن کے پاس ذرائع بھی نہیں ہیں،وہ بھی بتائیں کہ یہ سب کہاں سے لائے ہیں۔

1972 میں ہماری انڈسٹری ٹاپ پر تھی جسے قومیا لیا گیا، اس وقت تو میرے پاس کوئی عہدہ بھی نہیں تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیا باقی سب صادق اور امین ہیں اس ملک میں، مجھے بہت لوگوں نے کہا تھا کہ استعفیٰ دے کر کیس لڑو، اگر میرا ضمیر مجھے ملامت کرے اور میں نے غلط کام کیا ہوتا تو میں ضرور استعفیٰ دے دیتا، میں نے استعفیٰ نہیں دیا تو ویسے نکال دیا گیایہ لمحہ فکریہ ہے ہم سب کیلئے، میں 20,25 سال پہلے نظریاتی آدمی شاید نہیں تھا مگر آج نظریاتی آدمی بن چکا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جو جدوجہد میں نے کی ہے اس سے مجھے نظریہ ملا، 14مہینے تک قید رکھا گیا،7سال جلا وطن رکھا گیا، مجھے وزیراعظم سے ہائی جیکر بنایا گیا اور 27سال کی قید سنائی گئی،لوگوں نے کہا کہ آپ کو پھانسی دی جائے گی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ مجھے بل کلنٹن نے 5ارب ڈالر کی پیشکش کی مگر ٹھکرا کر ایٹمی دھماکے کئے، بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، ہم نے پاکستان کو دفاعی طور پر مضبوط کیا اور معاشی طور پر مضبوط کر رہے تھے، ہماری حکومت کو گرا کر مجھے جیل پہنچایا گیا تھا تب بھی چند لوگوں نے یہ کام کیا تھا پورا ادارہ اس کے پیچھے نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ملک میں مارشل لاء لگتا ہے تو اس کے پیچھے ساری فوج نہیں ہوتی بلکہ چند لوگ ہوتے ہیں، اٹک قلعے میں قید تھا تو فوجی ہاتھ اٹھا کر میرے لئے دعائیں کرتے تھے، اب بھی یہی کہتا ہوں کہ پاکستان نے اپنی منزل پانی ہے تو آئین اور قانون کی پاسداری ہی ایک ایسا راستہ ہے جس پر چل کر ترقی و خوشحالی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 70سال کی تاریخ اچھی نہیں مگر آئندہ ایسا نہ ہو، آج تک کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا اور اسمبلیاں بھی لگاتار توڑی جاتی رہی ہیں، اگر ایسے معاملہ چلتا رہا تو خدانخواستہ ملک کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتا ہے، مجھے اپنی ذات کی نہیں بلکہ پاکستان کی پرواہ ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں آج کسی سپاہی کی طرح ملک کی خاطر اپنے نظریاتی مورچے پر کھڑا ہو کر آئین و قانون کا دفاع کروں گا چاہے اس کیلئے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے، میرے ساتھ جو ہونا تھا ہو گیا مگر مجھے کوئی دیکھ نہیں کیونکہ کوئی داغ مجھ پر نہیں ہے، ہم نے پاکستان کو بدلنا ہے، میں اقتدار کی خاطر یہ بات نہیں کر رہابلکہ پاکستان کو سہی ڈگر پر لانے کیلئے آپ لوگوں نے میرا ساتھ دینا ہے، میں اپنی 35,40سالہ جدوجہد کو ضائع نہیں کرنا چاہتا بلکہ چاہتا ہوں کہ جدوجہد اس ملک اور قوم کے کام آئے اور اس کا فائدہ 20کروڑ عوام کو پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مصیبتوں سے نکالنے کے علاوہ میری کوئی خواہش نہیں، ہم ابھی تک پیچھے جا رہے ہیں، آج پاکستان کے اندھیرے چھٹ رہے ہیں، ہم نے بلوچستان میں ترقیاتی کام کروائے ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ 55,50 دن میں شہباز شریف منتخب ہو کر آ جائیں گے،آپ سب ان کو سپورٹ کریں، 6مہینے چائنیز صدر کا دورہ دھرنوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا اور اس کے بعد بھی چائنہ کے وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک آپ کیلئے تحفہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہم اس کے مستحق نہیں ہیں، ہماری ساتھ بہت غلط سلوک کیا گیا۔