بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے میں اہم پیشرفت

بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے میں اہم پیشرفت

پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے بس ریپڈ ٹرانزٹ پشاور منصوبے کے چاروں پیکجز کے تعمیری و عملی پلان کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پشاوراور اس کے مضافات سے تمام مسافروں کی چمکنی میں مین ٹرمینل تک رسائی کو آسان بنانے کیلئے رکاوٹوں کو دور کریں اور اس سلسلے میں ٹریفک پولیس کے ساتھ اجلاس کریں ۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں دو نکاتی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔

وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ٹرانسپورٹ شاہ محمد وزیر ، ایم پی اے شوکت یوسفزئی ، چیف سیکرٹری عابد سعید ،متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اوراعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس میں کمرشل مقامات کی ترقی اور بس ریپیڈ ٹرانزٹ پراجیکٹ کے تحت چلائی جانے والی بسوں کیلئے فیول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسافروں کیلئے بسوں میں سوار ہونے اور اُترنے کیلئے تین مقامات چمکنی ، ڈبگری گارڈن اور حیات آباد میں سہولیات میسر ہوں گی ۔منصوبے کے تینوں پاکٹس پر کنٹرولنگ سنٹر ، ڈپو، واشنگ اور ورکشاپ ، پارکنگ اور کمرشل سرگرمیوں سمیت متعدد سہولیات موجود ہوں گی۔

وزیراعلیٰ نے مین بس ٹرمینل چمکنی کیلئے اراضی کے حصول کیلئے وسائل فوری طور پر جاری کرنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ مین ٹرمینل تک اوورہیڈ رسائی آسان اور آرام دہ ہونی چاہیے اس میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔انہوں نے ہدایت کی کہ موجودہ پلان پر عمل درآمد بروقت شروع کیا جائے تاکہ متعین ٹائم لائن کے اندر منصوبے کو ہر حوالے سے مکمل کیاجاسکے۔پرویز خٹک نے ریپیڈ بس ٹرانزٹ منصوبے کے تحت مستقبل کی ضروریات کیلئے توسیعی پلان کی بھی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اصلی ڈیزائن کے مطابق مجوز ہ بڑی سہولیات کمرشل لائن پر ڈویلپ کی جائیں تاکہ منصوبہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔

انہوں نے مین ٹرمینل میں آسان داخلے اور خروج کیلئے ٹرمینل سے N-5 تک اضافی جوڑڈالنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ ایک تھرڈ جنریشن بس ریپیڈ ٹرانزٹ منصوبہ ہے جو پشاور کی ٹریفک کے تمام مسائل کا حل اورایک منفرد ماڈل ہو گا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ منصوبے کو خود کفیل بنانے کیلئے ریسورس جنریشن بہت ضروری ہے۔اسلئے کمرشل سرگرمیوں پر مشتمل منصوبے کے چوتھے پیکج کے ذریعے وسائل پیدا ہونے چاہئیں۔

انہوں نے منصوبے کے منظورشدہ ڈیزائن ، بروقت تعمیر اور تکمیل کی مدت میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے منصوبے کیلئے بسوں کی خریداری کیلئے کام شروع کرنے کی ہدایت کی ۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کے مجموعی پلان پر عمل درآمد کیلئے ٹائم لائن کی پیروی کیلئے ایشین ڈویلپمنٹ کے ساتھ اجلاس منعقد کریں ۔انہوں نے کہا کہ ہم اس منصو بے کیلئے چھ ماہ سے زائد وقت نہیں دے سکتے ۔انہوں نے منصوبے کی تعمیر شروع کرنے سے پہلے ٹریفک کا مکمل نظام یقینی بنانے کی ہدایت کی ۔

اس موقع پر اجلاس کو مختلف مقامات کی کمرشلائزیشن اور بی آر ٹی کی بسوں کیلئے فیول پر بریفینگ دی گئی ۔شرکاء کو بسوں پر سوار ہونے اور اُترنے کی سہولیات مین ٹرمینل چمکنی ، ڈبگری گارڈن اور حیات آباد میں کمرشل پلازوں کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا۔ اجلا س میں جی ٹی روڈ سے مین ٹرمینل چمکنی کے مابین رابطے ، رسائی اور آسان داخلے ، چمکنی کے قریب یو ٹرن کی توسیع ، بڑے ڈپوز میں مختلف سہولتوں کی فراہمی ، مستقبل کی ضروریات اور توسیع ، پارکنگ اور کمرشل پلازوں پر بھی خصوصی تبادلہ خیا ل کیا گیا۔

پرویز خٹک نے منصوبے کے مختلف پیکجز کی تعمیر کیلئے ٹائم لائن پر عمل درآمد کی سختی سے ہدایت کی ۔انہوں نے دو مراحل میں بسوں کی خریداری کی تجویز سے اتفاق کیا ۔ پہلے مرحلے میں 300بسیں خریدی جائیں گی جبکہ بقایا 350 بسیں دوسرے مرحلے میں خریدی جائیں گی انہوں نے اس منصوبے کو چھ ماہ کے اندر مکمل کرنے کیلئے کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی ۔