بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / تحفظات کے باوجود سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ہے ٗ اسفندیار ولی

تحفظات کے باوجود سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ہے ٗ اسفندیار ولی


پشاور۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے پانامہ پر عدالتی فیصلے کو تحفظات کے باوجود قبول کرتے ہوئے سیاستدانوں سے اپیل کی ہے کہ سیاسی تنازعات پیدا کرنے سے گریز کریں کیونکہ ملک اس وقت مزید محاذآرائیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلور ہاؤس پشاور میں پارٹی کی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، سیاسی فیصلے پارلیمنٹ میں کئے جائیں اور پارلیمنٹ کے اختیارات جوڈیشری کو نہ دیئے جائیں ، جمہوریت ڈی ریل کی گئی تو نقصان ملک کا ہو گا، اس لئے جمہوری نظام چلتے رہنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ پانامہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے ،عدالتی فیصلے کے بعد ملک کے ان تمام دیگر اہم ترین مسائل پر توجہ دی جائے جو پانامہ کے شور میں دب گئے تھے، ہمارے بھی نواز شریف کے ساتھ کئی اہم معاملات پر اختلافات تھے جن میں فاٹا اور سی پیک سر فہرست ہیں تاہم اے این پی نے کبھی ان سے استعفی کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی ہم کبھی عدم استحکام کی جانب گئے ہم نواز شریف یا عمران خان کے ساتھ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ساتھ تھے۔

انہوں نے کہا کہ 2013کے الیکشن میں ہم نے تحفظات کے باوجود نتائج اس لئے تسلیم کئے تاکہ جمہوریت کو نقصان نہ پہنچے اور اب بھی عدالتی فیصلہ تحفظات کے باوجود تسلیم کرتے ہیں آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے ہم مخالف نہیں ہیں تاہم اسے اس کی 73والی اصل روح کے مطابق بحال کیا جائے ،اور جو ترامیم اس میں ضیاء الحق نے کیں انہیں ختم کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہی وہ سیاستدان تھے جنہوں نے ضیاء الحق کی طرف سے کی جانے والی 62اور63میں ترامیم ختم کرنے کی مخالفت کی تھی اور آج وہ اسی کے ہاتھوں گھر چلے گئے،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ملکی تاریخ میں کبھی کسی وزیر اعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسمبلی کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے اور اب جو بھی وزیر اعظم نیا آئے گا ہم اسے تسلیم کریں گے،انہوں نے کہا کہ اے این پی نے کبھی نہیں چاہا کہ وہ عوام کے فیصلوں پر اپنا فیصلہ مسلط کرے ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام معاملات طے کرنے کے حامی ہیں۔