بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / تا حیات نا اہلی؟

تا حیات نا اہلی؟

کسی کو سمجھ آئے یا نہ آئے لیکن ’پانامہ کیس فیصلے‘ کے بارے میں امریکہ کی جانب سے تبصرہ معنی خیز بھی ہے اور شاید ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی اقتدار کے آئینی طریقے سے خاتمے میں امریکہ کا براہ راست عمل دخل نہیں رہا لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ ایک اسلامی جوہری اور چین ایران و افغانستان سے جٖغرافیائی زمینی سرحدی تعلق رکھنے والے پاکستان کے داخلی معاملات سے امریکہ خود کو الگ رکھے؟ محتاط امریکی مؤقف یہ ہے کہ ’’پانامہ کیس پاکستان کا اَندرونی معاملہ ہے پاکستانی عوام کی منتخب پارلیمنٹ نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے گی تو ہم اقتدار کی پرامن منتقلی کے خواہش مند ہیں۔‘‘ بنیادی سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل باسٹھ ایک کی ذیلی شق ’ایف‘ کے تحت نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دیئے جانے کے بعد کیا سابق وزیراعظم تاحیات نااہل ہوگئے یا کچھ عرصے بعد وہ پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے دوبارہ ملک کی سیاسی برادری کا حصہ بن سکتے ہیں؟‘ اِس سوال سے متعلق اندرون و بیرون ملک معاشرے کی ہر سطح پر بحث جاری ہے ۔ دیکھا جائے تو سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے سامنے کئی ایسے مقدمات موجود تھے جن میں اہم نکتہ اس بات کا تعین کرنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ کے تحت ہونیوالی نااہلی کیا ہمیشہ برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ ان مقدمات میں ثمینہ خاور حیات اور محمد حنیف کا مقدمہ بھی شامل تھا۔ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بھی اسی نوعیت کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ’حیرت کا اظہار‘ کیا تھا کہ آئین کی شقیں باسٹھ اور تریسٹھ کی بنیاد پر کسی شخص کو عمر بھر کے لئے عام انتخابات کا حصہ بننے سے نااہل کیسے کیا جاسکتا ہے؟

اگر کسی سے غلطی ہوئی اور وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے نہ صرف جرمانہ بلکہ لوٹی ہوئی قومی دولت بھی واپس کرنے کے لئے تیار ہو تو ایسے نااہل فرد کے لئے دوبارہ عام انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت ہونی چاہئے چونکہ یہ ایک قانونی و آئینی مسئلہ ہے اور اِس کیلئے آئین میں ترمیم کرنا پڑے گی جو سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں‘ سپریم کورٹ آئین کے مطابق فیصلہ بطور حکم صادر سکتی ہے وہ عوام یا کسی سیاسی جماعت کا مستقبل بچانے کے لئے اپنے طور پر کچھ نہیں کر سکتی! اگر ہم پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے (سابق وزیراعظم) یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کو سامنے رکھیں جو کہ انیس جون دوہزار بارہ کو توہین عدالت کے جرم میں آرٹیکل تریسٹھ کے تحت نااہل ہوئے تھے تو انکی نااہلی (سزا) کی مدت پانچ برس تھی‘ آئین کی شق باسٹھ اِس بارے میں خاموش ہے اور عجب ہے کہ اس کے تحت کوئی بھی شخص ’نااہل‘ قرار تو دیا جاسکتا ہے لیکن نااہلی کی مدت کا ذکر آئین میں واضح یا ضمنی طور پر نہیں کیا گیااسی لئے وکلاء اپنی اپنی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے ماضی کے ان فیصلوں کو کھوج کھوج اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال رہے ہیں ۔

جن کے تحت نواز لیگ کی قیادت اور شریف خاندان کو تاحیات نااہلی سے بچایا جا سکے۔ خود عدالت عظمیٰ کے سامنے ایسے کئی مقدمات التواکا شکار ہیں‘ جن میں تعین کرنا ہے کہ آئین کی شق باسٹھ کا اطلاق صرف موجودہ ضمنی عام انتخاب پر ہوگا یا یہ نااہلی ہمیشہ برقرار رہے گی!اٹھائیس جولائی دوہزار سترہ کے تاریخی دن پانامہ کیس کے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کی نااہلی کی وجوہات پیش کرکے منتخب نمائندوں کی نااہلی کی حد کو اس حد تک نیچے کردیا ہے کہ اس سے مستقبل کی سیاست میں سوائے صداقت و امانت کسی دوسری شے کی گنجائش نہیں رہی! دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد عدلیہ مضبوط ہوئی ہے اور اس عوامی منتخب پارلیمنٹ کے اکثریتی اراکین کے چہروں کا رنگ اڑ گیا ہے جن کا ماضی و حال اور ہاتھ صاف نہیں۔ خود کئی پارلیمانی رہنما ایسے ہیں جن کی اہلیت خطرے میں پڑ گئی ہے!آئین کی شق باسٹھ اگر خاموش ہے تو اسکا مطلب یہی ہے کہ نااہلی تاحیات تصور کی جائے اور اس نتیجہ خیال کیلئے ’’عبدالغفور لہری کیس‘‘ کی مثال موجود ہے جس میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے واضح کیا تھا کہ کچھ نااہلیوں کی نوعیت وقتی ہوتی ہے آرٹیکل باسٹھ کے تحت نااہل ہونے والے شخص کی نااہلی کی مدت متعین نہیں جس کے بعد وہ پارلیمانی انتخابات کا اہل ہوسکتا ہو‘ پانامہ کیس میں چونکہ نواز شریف صادق اور امین نہ ہونے کی بنیاد پر نااہل ہوئے ہیں اس لئے یہ نااہلی تاحیات رہے گی اور امید ہے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما سمجھ لیں گے کہ پاکستان میں اِحتساب پر سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔